مصر: اخوان المسلمین کے کارکنوں کی سزائے موت برقرار

اخوان المسلمین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپریل میں ایک جج نے اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع سمیت 683 افراد کو سزائے موت تجویز کی تھی۔

مصر کی ایک عدالت نے 2013 میں ایک تھانے پر حملے کے الزام میں اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع سمیت 183 کارکنوں کو دی جانے والی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

اس سے پہلے اپریل میں اس مقدمے میں ایک جج نے اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع سمیت 683 افراد کو سزائے موت دی تھی۔

یہ سزائیں معزول صدر مرسی کے بعد ملک میں بحرانی صورت حال پیدا ہونے اور کشیدگی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے مقدمے میں سنائی گئی۔

یہ فیصلہ سنیچر کو قاہرہ کے علاقے منایا کی عدالت کے جج سعید یوسف صابری نے سنایا ہے۔ اس جج کی شہرت سخت ظالمانہ ہے اور انھیں ’قصائی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

مصر میں حقوق انسانی کی تنظیم کے چیئرمین ہاشم قاسم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب حکام کے لیے وقت ہے کہ غیر معمولی سزائیں دینے پر اس جج کے خلاف کارروائی کریں۔

جولائی 2013 میں سابق صدر مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد حکام نے اسلامی اور سکیولر کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جس کے دوران سینکڑوں کارکن ہلاک ہوئے اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا اور سزائیں سنائی گئیں۔

اسی مہینے کے دوران ایک عدالت نے ملک کے مقبول ترین جمہوریت پسند کارکن علا عبدالفتاح کو 15 برس قید کی سزا سنائی ہے۔

ان پر غیر قانونی مظاہرے منعقد کرنے اور ایک پولیس افسر پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ علا عبدالفتاح نے سنہ 2011 میں حسنی مبارک کے خلاف انقلاب میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

جس تیزی کے ساتھ مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے اس پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ سماعت پر صرف ایک گھنٹہ صرف ہوا اور وکیل دفاع کو اپنا کیس پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

محمد بدیع کے علاوہ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں پر گذشتہ سال ایک پولیس تھانے پر حملے کا الزام ہے۔

اسی عدالت نے مارچ میں 529 افراد کو موت کی سزا سنائی تھی جس میں سے 492 افراد کی سزا کو واپس لے لیا گیا تھا اور ان میں سے بیشتر کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گيا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اخوان المسلمین کے حامی سزاؤں کے خلاف مشتعل ہیں۔

محمد مرسی کو گذشتہ سال جولائی میں ان کی حکومت کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں فوج نے برطرف کر دیا تھا۔ محمد مرسی پر لگائے گئے الزامات کی تفصیل:

  • ان پر سنہ 2012 میں اپنے حامیوں کو ایوان صدر کے باہر تشدد پر آمادہ کرنے اور ان مظاہرین کے قتل کرانے کا الزام ہے جو قاہرہ میں صدر کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
  • ان پر دہشت گردی کے لیے بیرونی تنظیموں سے ساز باز کرنے کا الزام ہے۔ استغاثہ نے مرسی پر فلسطین کے حماس اور لبنان کے جنگجو گروپ حزب اللہ کے ساتھ اتحاد کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔
  • ان پر سنہ 2011 میں صدر حسنی مبارک کے خلاف بغاوت کے دوران ایک جیل توڑنے کے عمل میں قید خانے کے افسروں کے قتل کا الزام بھی ہے۔
  • عدلیہ کی توہین کا الزام ہے۔

مرسی کے اسلام پسند حامی صدر کی حیثیت سے ان کی از سر نو بحالی کے لیے مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف سختی کے ساتھ کام لیا جا رہا ہے۔

گذشتہ دنوں مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور حکام نے اس جماعت کی سر عام حمایت کرنے والوں کو سزائیں دی ہیں۔

حقوق انسانی کی تنظیم نے محمد مرسی کے خلاف بعض الزامات کو عقل کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

اسی بارے میں