’شام میں برطانوی جنگجو ملک کے لیے طویل مدتی خطرہ ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانیہ کی میٹ اسسٹینٹ کمشنر کریسیڈا ڈک کے مطابق آنے والے کئی برسوں تک برطانہ شام میں چلنے والی جنگ کے زیر اثر رہے گا

سکاٹ لینڈ یارڈ کی ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شام میں لڑنے والے برطانوی شہری جو ملک لوٹ رہے ہیں ان سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے لیے برطانوی پولیس کو ’کئی برس‘ لگیں گے۔

میٹ اسسٹنٹ کمشنر کریسیڈا ڈک نے بی بی سی کو بتایا کہ شام کی جنگ سے ’طویل مدتی‘ دہشت گردی کا خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ نوجوان برطانوی مسلمان اپنی واپسی پر یہاں پرتشدد کارروائی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔

ان کا یہ بیان حال ہی میں انٹرنیٹ پر آنے والے ایک جہادی ویڈیو کے بعد آیا ہے جو بظاہر شام سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں کئی برطانوی شہری دکھائے گئے ہیں۔

یہ ویڈیو دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کے جنگجوؤں سے منسلک انٹرنیٹ اکاؤنٹ سے ڈالا گیا ہے۔ واضح رہے کہ داعش شام میں موجود ہے اور عراقی افواج سے برسرپیکار ہے۔

ویڈیو میں نظرآنے والے افراد میں سے ایک کی 20 سالہ ناصر مثنیٰ کے طور پر شناخت کی گئی ہے جو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آئی ایس آئی ایس کے حالیہ ویڈیو میں کئی برطانوی شہری ہیں جو بظاہر مغربی ممالک کے نوجوانوں سے جنگ میں شامل ہونے کی اپیل کر رہے ہیں

دریں اثنا بی بی سی کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق ناصر کے ساتھ شام جانے والے دو لوگوں کو دہشت گردی سے منسلک جرائم کے شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے تاہم ان پر فردِ جرم عائد نہیں کیا گیا ہے۔

جنوبی ویلز کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں کارڈف کے 19 اور 23 سالہ دو نوجوانوں کو اس سال کے اوائل میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے اور شام میں ایک ایسی جگہ جانے جہاں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بی بی سی کے ریڈیو4 سےبات کرتے ہوئے اسسٹنٹ پولیس کمشنر کریشیڈا ڈک، جو اس وقت سپیشلسٹ آپریشن بشمول انسداد دہشت گردی کی سربراہی کر رہی ہیں، نے برطانیہ کو شام میں جاری جنگ کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2013 سے ابھی تک شام کے متعلق جرائم کے تحت 50 سے زیادہ افراد کو برطانیہ میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

انھوں نے کہا: ’مجھے ڈر ہے اور میرے خیال میں ہم آنے والے بہت برسوں تک دہشت گردوں کے نقطۂ نظر سے شام کے نتائج کے زیر اثر رہ رہے ہوں گے خواہ دنیا کے خغرافیائی اور سیاسی نتائج کچھ بھی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ویڈیو میں ناصر مثنی کی شناخت ہوئی ہے اور یہ 20 سالہ نوجوان میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا

انھوں نے کہا ’چند ہفتے قبل تک برطانوی پولیس کے خیال میں تقریباً 460 برطانوی شام لڑنے گئے تھے لیکن ان کے مطابق اب یہ تعداد 500 سے اوپر جاتی نظر آتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جو کوئی بھی شام یا عراق جاکر جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اسے وہاں نہیں جانا چاہیے کیونکہ شام کے جنگجو بیرونی جنگجوؤں کو حل کے بجائے مسئلہ سمجھتے ہیں۔

ناصر کے والد احمد مثنیٰ نے کہا کہ ان کا بیٹا نومبر میں شام کی جنگ میں شامل ہونے گیا اور اس کے 17 سالہ بیٹے اصیل نے بھی اس ملک کا سفر کر رکھا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ویڈیو میں ایک اور شخص جس کے بارے میں تصدیق نہیں ہو سکی ہے وہ بھی کارڈف میں دیکھا ہوا سا لگتا ہے۔

کارڈف مسجد کے ذمے داروں میں سے ایک بارک البیتی نے کہا کہ یہ برطانوی شہری انٹرنیٹ کے ذریعے شدت پسند بنے ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’مسلمانوں کی بڑی تعداد واقعتاً ان حالات سے پریشان ہیں اور ہمارے ساتھ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنے میں تعاون کر رہے ہیں جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں