شدت پسندوں نے تیل کی ریفائنری پر قبضہ کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ I
Image caption یہ ریفائنری عراق سے نکالنے والے تیل کا ایک تہائی حصہ فراہم کرتی ہے

عراق میں سنّی شدت پسندوں نے بغداد کے شمال میں بیجی کے قریب ملک کی مرکزی تیل کی ریفائنری پر قبضہ کر لیا ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے عسکریت پسندوں نے اس ریفائنری کو گذشتہ دس روز سے گھیرے میں لے رکھا تھا لیکن اس سے قبل ان کے متعدد حملہ پسپا کر دیے گئے تھے۔

یہ ریفائنری عراق سے نکالے جانے والے تیل کا ایک تہائی حصہ فراہم کرتی تھی۔ شدت پسندوں کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریفائنری اب مقامی قبائل کے حوالے کر دی جائے گی۔

یاد رہے کہ پیر کی شام ہی امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بعداد میں اہم سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد عراق کے لیے ’مسلسل اور پائیدار‘ حمایت کا وعدہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سنّی شدت پسندوں کے حملے عراق کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں اور آئندہ چند روز اور ہفتے انتہائی اہم ہیں۔

عراق میں شدت پسند شمالی اور مغربی حصوں میں اپنا کنٹرول بڑھا رہے ہیں اور بغداد کے شمال میں متعدد قصبے ان کے قبضے میں ہیں۔

شدت پسند حدیثہ کے قریب ایک اہم ڈیم کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ داعش کی جانب سے عراق کی مغربی سرحد پر اردن اور شام کی سرحدی چوکیوں پر قبضے کے بعد اس سرحد پر حکومت کی عمل داری بظاہر ختم ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراق میں شدت پسند شمالی اور مغربی حصوں میں اپنا کنٹرول بڑھا رہے ہیں

حدیثہ کے قریب واقع ڈیم کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ملک بھر میں بجلی کی رسد بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ بھاری ہتھیاروں سے لیس عراقی فوج کے دستے اس ڈیم کی حفاظت پر معمور ہیں۔ قصبے کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے تاہم ابھی تک وہ قصبے میں داخل نہیں ہوئے۔

عراق کے وزیرِ خارجہ ہوشیار زبیری نے بی بی سی کے جان سمپسن سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے باضابطہ طور پر امریکی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ ہمیں فضائی مدد فراہم کریں۔ عراق کے پاس فضائیہ نہیں ہے۔ عراق کے پاس ایک بھی جنگی طیارہ نہیں ہے۔‘

جان سمسپن نے بتایا کہ امریکہ کو داعش سے درپیش خطرے کا پہلے سے پتہ تھا مگر اس نے صرف دو ہفتے قبل ان کی کارروائیوں کی فضائی نگرانی کا کام شروع کیا ہے۔

پیر کو عراقی وزیراعظم اور امریکی وزیرِ خارجہ کی ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ وزیرِ خارجہ نے اہم شیعہ اور سنّی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ عراق کو داعش کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے مدد کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ امریکی مدد ایک ایسے انداز میں دی جائے گی جو کہ عراق کی خود مختاری کا احترام کرے۔

انھوں نے کہا کہ عراقی لیڈر ایک فیصلہ کن گھڑی سے گزر رہے ہیں۔

اسی بارے میں