ملائیشیا میں’اللہ‘ کے استعمال پر تنازع

Image caption کورٹ کے باہر اسلامی تنظیموں کے کارکن بھی موجود تھے

ملائیشیا کی سپریم کورٹ نے اُس فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے جس میں عیسائیوں کی جانب سے خدا کے لیے لفظ ’اللہ‘ کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

یہ مقدمہ کیتھولک چرچ نے دائر کیا تھا جس میں 2007 میں عائد کی جانے والی اس پابندی کو ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی۔ تاہم وفاقی عدالت کا کہنا ہے کہ پابندی کا فیصلہ درست تھا۔

یہ تنازع تب شروع ہوا تھا جب کیتھولک چرچ کے ایک ملائی زبان کے اخبار میں عیسائی خدا کے ’اللہ‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔ ملائیشیا میں تمام مذاہب کے لوگ ملائی زبان میں ’اللہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

عیسائی کہتے ہیں کہ وہ صدیوں سے یہ لفظ استعمال کر رہے ہیں، اور ان کا موقف ہے کہ یہ قانون ان کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

تاہم ملائیشیا کے حکام کے مطابق عیسائیوں کی جانب سے اس لفظ کے استعمال سے ممکن ہے کہ کچھ مسلمان الجھ جائیں اور اپنا مذہب تبدیل کر کے عیسائیت اپنا لیں۔

ملائیشیا کی دو تہائی آبادی مسلمان ہے لیکن وہاں ہندوؤں اور عیسائیوں کی بھی خاصی تعداد آباد ہے۔

اس قانون کے باعث ملائیشیا میں طویل عرصے سے تناؤ جاری ہے اور اس کے نتیجے میں ملک میں دھواں دھار بحث چھڑ گئی تھی جس کے دوران مساجد اور گرجا گھروں پر حملے بھی کیے گئے تھے۔

کیتھولک چرچ کے اخبار ہیرالڈ نے ابتدائی پابندی کے خلاف اپیل کی تھی اور 2009 میں ایک عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ بھی دے دیا تھا لیکن بعد میں اپیل کورٹ نے اس فیصلے کو پلٹ دیا۔

ہیرالڈ کے مدیر فادر لارنس اینڈریو نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے ’بہت مایوسی‘ ہوئی ہے کیونکہ وہ ’اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔‘

تاہم کورٹ کے باہر اسلامی تنظیموں کے کارکنوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

چرچ کے ایک وکیل ایس سیلوراجہ نے کہا کہ حال ہی میں دیے جانے والا فیصلہ اس کیس کی قانونی کارروائی کے خاتمے کی نشان دہی کرتا ہے۔ انھوں نے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا: ’یہ مکمل پابندی ہے۔ غیر مسلمان یہ لفظ استعمال نہیں کر سکتے۔‘

تاہم ملائیشیا کے اخبارات کے مطابق ممکن ہے کہ چرچ کہ اس فیصلے کا پھر سے جائزہ لینے کی درخواست کرے۔