یوکرین میں حالیہ جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہمارے پاس صرف لڑائی کا راستہ رہ گیا ہے: باغی رہنما

یوکرین میں متصادم فریقین، حکومت اور علیحدگی پسندوں نے حال میں ہونے والی جنگ بندی پر شبہات کا اظہار کیا ہے جس سے جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

یہ خدشات منگل کو ایک ہیلی کاپٹر کے مار گرائے جانے کے بعد ظاہر کیے گئے ہیں۔ یوکرین کی فوج کے مطابق ملک کے مشرق میں روس نواز باغیوں نے ایک ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جس میں سوار تمام نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

روس نواز علیحدگی پسند رہنما الیزینڈر بورودائی نے کہا کہ ان کے خیال میں ’کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی۔‘

دوسری جانب یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے متنبہ کیا ہے کہ وہ باغیوں کی جانب سے ’مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کبھی بھی جنگ بندی کو ختم کر سکتے ہیں۔‘

فوج کا کہنا ہے کہ ایم آئی ایٹ ہیلی کاپٹر کو باغیوں کے زیرِ قبضہ شہر لوہانسک میں پرواز سے چند لمحے بعد ہی راکٹ سے نشانہ بنایا گیا۔

یہ واقعہ باغیوں کی طرف سے حکومت کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی کی پابندی کے اعلان کے ایک دن بعد ہوا۔

باغیوں نے ہیلی کاپٹر مار گرانے کے واقعے پر کھل کر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو کے دفتر سے جاری ایک بیان کہا گیا کہ ’صدر کی طرف سے اس بات کا امکان ہے کہ وہ وقت سے پہلے جنگ بندی ختم کر دیں۔‘

واضح رہے کہ یوکرین کے صدر کی طرف سے یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کے جواب میں روس نواز باغیوں نے پیر کو کہا تھا کہ وہ جمعے کی صبح تک جنگ بندی کی پابندی کریں گے۔

جنگ بندی کے ختم ہونے کی ایک اور نشانی یہ ہے کہ خود ساختہ دوتنسک پیپلز ریپبلک کے رہنما الیگزینڈر بورودائی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کو قائم رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔

انھوں نے ایک روسی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ’میں اب سرکاری طور پر کہتا ہوں کہ کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی اور سب کچھ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی جنگ بندی ہو گی بھی نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس صرف لڑائی کا راستہ رہ گیا ہے۔‘ انھوں نے پیر کو کہا تھا کہ ان کی فورسز جمعے کی صبح تک جنگ بندی کی پابندی کرے گی۔

دوسری جانب کریملن نے کہا ہے کہ صدر پوتن نے کیئف اور یوکرین کی مشرقی علاقے کے باغیوں کے درمیان براہ راست بات چیت پر زور دیا ہے۔

صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ ’نتیجہ خیز مذاکرات‘ کے لیے جنگ بندی کی مدت بڑھا دینی چاہیے۔

منگل سے پہلے علیحدگی پسند باغیوں نے جن کا لوہانسک اور دونتسک کے علاقوں پر قبضہ ہے، یوکرینی فوج کے دو ہیلی کاپٹر اور ایک جہاز مار گرائے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن پر زور دیا تھا کہ وہ یوکرین میں باغیوں کو اسلحے کی فراہمی اور علیحدگی پسندوں کی حمایت بند کریں

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن پر زور دیا تھا کہ وہ یوکرین میں باغیوں کو اسلحے کی فراہمی اور علیحدگی پسندوں کی حمایت بند کریں۔

وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ صدر اوباما نے یہ بات اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے فون پر پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ماسکو یوکرین میں مداخلت بند نہیں کرتا تو اس پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ صدر پیٹرو پوروشنکو کی طرف سے تجویز کردہ امن منصوبے کے تحت اختیارات کا مقامی سطح پر انتقال ہوگا اور جلد ہی مقامی پارلیمان کے لیے انتخابات کرائے جائیں گے۔

اس منصوبے میں روس اور یوکرین کی سرحد پر دس کلو میٹر بفر زون بنانے کی تجویز ہے اور باغیوں کو کشیدگی والے علاقے سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی گنجائش ہے۔

جبکہ باغیوں کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گے جب تک سرکاری فوج اس خطے سے نکل نہیں جاتی۔دوتنسک اور لوہانسک کے علاقوں میں اب باغی اہم سرکاری عمارتوں پر قابض ہے۔

اسی بارے میں