’جمہوری اور آئینی حکومت کے خلاف باغیانہ سوچ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگجو تنظیم داعش نے شمالی اور مغربی عراق کے بہت سے حصوں پر قبضہ کرلیا ہے جن میں عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر موصل بھی شامل ہے

عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے سنی جنگجوؤں کے حملوں کا جواب دینے کے لیے مخلوط حکومت بنانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی اپیل جمہوری اور آئینی حکومت کے خلاف باغیانہ سوچ کی نمائندگی کرتی ہے۔

امریکا نے عراقی وزیراعظم سے کہا تھا کہ امریکا عراق میں ایسی حکومت چاہتا ہے جس میں تمام فرقے اور نسلی گروہ شامل ہوں

اس سے پہلے امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ عراق میں سنی جنگجوؤں کے خلاف عراقی فوج کی امداد کے لیے تعینات کی جانے والی ان کی پہلی فوجی کھیپ عراق پہنچ گئی ہے اور اس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے جن 300 سپیشل آپریشن فوجیوں کا وعدہ کیا تھا ان میں سے تقریباً نصف بغداد اور جنگ کے میدان میں پہنچ گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ فوجی چند دنوں میں پہنچ جائیں گے۔

پینٹاگون نے بتایا ہے کہ جنگی مورچے پر منگل کو 40 امریکی فوجیوں کی ایک ٹیم پہنچی اور عراقی فوج کے لیے جائزے کا کام شروع کر دیا جبکہ مزید 90 فوجی بغداد میں مشترکہ آپریشن کمانڈ سینیٹر کے قیام کے لیے کام کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق 50 - 50 فوجیوں پر مشتمل چار مزید ٹیمیں آنے والے چند دنوں میں پہنچ جائیں گے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے ڈیوڈ ولیس کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شامل ہونے کے بجائے مشورے دینے اور انٹلیجنس فراہم کرنے کا کام کریں گے۔

واضح رہے کہ عراقی حکومت نے امریکہ سے فضائی حملے کی گزارش کی تھی لیکن اوباما اس بارے میں پس و پیش کا شکار ہیں کہ اس قسم کے کسی قدم سے امریکہ پر الزام لگایا جائے گا کہ اس نے فرقہ وارانہ قضیے میں کسی کا ساتھ دیا۔

عراق میں جنگجو دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش یا آئي اسی آئی ایس) کے پرچم تلے لڑ رہے ہیں اور انھوں نے شمالی اور مغربی عراق کے بہت سے حصوں پر قبضہ کر لیا ہے جن میں عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک صرف رواں مہینے میں اس جنگ کے نتیجے میں کم از کم 1075 جانیں تلف ہو چکی ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ عراق کے حالات پر بات چیت کے لیے خطے میں موجود ہیں۔

منگل کو بی بی سی کے ایک انٹرویو میں جان کیری نے عراق میں جاری بدامنی کے حل کے لیے سیاسی حکمت عملی اور علاقائی تعاون کی بات کہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے جن 300 سپیشل آپریشن فوجیوں کا وعدہ کیا تھا ان میں سے تقریباً نصف بغداد اور جنگ کے میدان میں پہنچ گئے ہیں

انھوں نے کہا: ’علاقے کے تمام ممالک داعش کے خلاف متحد ہوکر لڑیں گے کیونکہ کسی قانونی حکومت کا کسی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے چیلنج کیا جانا اور ان کے علاقوں پر قبضہ ناقابل قبول ہے۔‘

جان کیری نے کہا کہ کرد رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ اس کا کوئی ’فوجی حل نہیں ہے اور انھوں نے ’سیاسی حل کی بات جس میں ان برادریوں سے لوگوں کو بااختیار بنانے کی بات کہی جہاں آج داعش ہیں۔‘

واضح رہے کہ عراق کی اس صورت حال کے لیے عراقی وزیراعظم کی پالیسیوں کو وسیع پیمانے پرنشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ہی فرقے کے لوگوں کے لیے زیادہ کام کیا ہے۔

پیر کو عراقی وزیراعظم اور امریکی وزیرِ خارجہ کی ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ وزیرِ خارجہ نے اہم شیعہ اور سنّی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ عراق کو داعش کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے مدد کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ امریکی مدد ایک ایسے انداز میں دی جائے گی جو کہ عراق کی خود مختاری کا احترام کرے۔

انھوں نے کہا تھا کہ عراقی لیڈر ایک فیصلہ کن گھڑی سے گزر رہے ہیں۔

اسی بارے میں