عراق: داعش کے ٹھکانوں پر شامی بمباری کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption داعش اور سنی مسلمانوں کا اتحاد عراق کے کئی علاقوں کو قبضہ میں لے چکا ہے جن میں عراق کا شہر موصل بھی شامل ہے

عراق کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ شام کے جنگی طیاروں نے اس کی حدود میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔

عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی نے کہا کہ جنگی طیاروں نے سرحدی قصبے قائم میں منگل کو شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔

انھوں نے واضح کیا کہ عراق نے ایسی کسی کارروائی کا مطالبہ نہیں کیا تھا، تاہم اسلامی شدت پسند گروہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے خلاف کسی بھی کارروائی کا ’خیرمقدم‘ کیا جائے گا۔

داعش اور سنی مسلمانوں کا اتحاد عراق کے کئی علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

اس سے پہلے شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے عراق کی مغربی سرحد پر اردن اور شام کی سرحدی چوکیوں پر قبضے کے بعد عراقی حکومت نے امریکہ سے درخواست کی تھی کہ اسے فوری طور پر فضائی امداد فراہم کی جائے۔

سرحدی چوکیوں پر قبضے کے بعد یہاں حکومت کی عمل داری بظاہر ختم ہو گئی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق باغیوں نے انبار صوبے میں دو چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

باغیوں نے گذشتہ دنوں میں عسکری اہمیت کے حامل اہم قصبوں پر قبضہ کیا ہے جو سنی اکثریت کے صوبے انبار میں واقع ہیں۔ ان میں قائم، رطبہ، رواہ اور عناہ شامل ہیں۔

ایک قبائلی رہنما کا کہنا ہے کہ صوبے کا 90 فیصد باغیوں کے ہاتھوں میں ہے اور اس ساری کارروائی کے آغاز سے قبل بغداد کے مغربی کنارے پر 30 کلومیٹر دور فلوجہ کے علاقے پر ان باغیوں کا جنوری سے قبضہ ہے اور اس کے ساتھ ہی صوبے کے دارالحکومت رمادی کے نصف حصے پر بھی قبضہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اتوار کو ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کی عراق میں مداخلت کی مخالفت کی

جب باغیوں نے خون خرابے سے بچنے کے لیے فوجیوں اور پولیس کو محفوظ راستہ فراہم کیا تو کئی مقامات پر انھوں نے اپنی چوکیوں کو چھوڑنے میں عافیت جانی۔

اتوار کو ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کی عراق میں مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ ’وہ عراق پر اپنا قبضہ جمانا چاہتا ہے اور عراق پر اپنے چمچوں کے ذریعے حکومت کرنا چاہتا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مختلف سیاست دانوں اور سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ جس طرح سرکاری فوجیں شدت پسندوں کے خلاف بے بس نظر آ رہی ہیں اس پر بغداد میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ شدت پسندوں کے جنگجو سرکاری فوجیوں سے بہتر تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس نہ صرف لڑنے کا بہتر تجربہ ہے بلکہ ان کے پاس فوج سے بہتر اسلحہ بھی موجود ہے۔

عراقی فضائیہ کے پاس موجود امریکی ’ہیل فائر‘ میزائل دو ہفتے پہلے ختم ہو گئے تھے اور فضائیہ کے پاس صرف دو ’سیسنا‘ طیارے ہیں جن سے یہ میزائل داغے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عراقی فضائیہ اگر طیاروں سے بمباری کرتی ہے تو اس سے عام شہریوں کے مارے جانے کا بھی خدشہ ہے۔

عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی پر الزام لگتا رہا ہے کہ ان کی سنی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے کچھ سنی شدت پسند جہادی تنظیم دولت اسلامی عراق و شام میں شامل ہوگئے ہیں اور عراقی فوجیوں کے خلاف جاری لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں