اوباما کے خلاف مقدمے کے قانون پر ووٹنگ اگلے ماہ

Image caption جان بینر کا کہنا ہے کہ صدر اوباما اپنی ایگزیکٹیو اتھارٹی کے استعمال میں ’یکطرفہ جارحیت‘ کا مظاہرہ کر رہے ہیں

امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر جان بینر کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ ایک قانون پر رائے شماری کی جائے گی جس کے تحت امریکی صدر براک اوباما کے خلاف مقدمہ دائر کیا جا سکے گا۔

رپبلکن جماعت کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان کے سپیکر جان بینر نے صدر اوباما پر کانگریس کے منظور شدہ قوانین پر غیر قانونی طور پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما اپنی ایگزیکٹیو اتھارٹی کے استعمال میں ’یکطرفہ جارحیت‘ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما لوگوں کی جانب سے دیے گئے اختیار کے تحت آئینی اتھارٹی کا استعمال کرتے ہیں۔

جان بوہنر نے ایوان نمائندگان میں رپبلکن جماعت کے ممبران کو ایک خط میں کہا ہے ’صدر اوباما نے صحت کے قانون، توانائی اور خارجہ پالیسی سے لے کر تعلیم کی پالیسیوں پر کانگریس کی بات نہیں مانی۔‘

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری نے ان الزامات کی تردید کی ہے: ’ہمیں پورا یقین ہے کہ اوباما بطور صدر اپنی آئینی اتھارٹی کے مطابق اقدامات کر رہے ہیں۔‘

رپبلکن جماعت کی ایوان نمائندگان میں اکثریت ہے اور سینیٹ میں بھی اس کے اتنے ووٹ ہیں کہ وہ کسی قانون کو منظور نہ ہونے دیں۔

جنوری میںسٹیٹ آف یونین خطاب میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ وہ اپنی ایگزیکٹیو اتھارٹی کا استعمال کریں گے۔

صدر اوباما نے حال ہی میں دو ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیے ہیں۔

جون 2012 میں صدر اوباما نے امیگریشن اصلاحات پر کانگریس سے پوچھے بغیر ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیا تھا جس کے تحت ایسے غیر ملکی افراد کو ملک بدر کرنے سے روک دیا گیا تھا جو بچپن میں غیر قانونی طور پر امریکہ لائے گئے تھے۔

اسی بارے میں