شہزادہ فرڈینینڈ کا سرائیوو کا دورہ

ہم آپ کو بی بی سی کے اس صفحے پر خوش آمدید کہتے ہیں جہاں ہم ایک نہایت اہم اور تاریخی واقعے کی خبر آپ تک پہنچا رہے ہیں جو ایک سو سال پہلے آج کے ہی دن پیش آیا تھا۔ یہ واقعہ تھا آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ پر قاتلانہ حملہ جو کہ سرائیوو میں ہوا تھا۔ تاریخ کو دوبارہ زندہ کرنے کے خیال سے اور اس واقعے کو اپنے آج کے قارئین کے مزاج اور خبروں کے انداز میں سمونے کی غرض سے ہم نے اس واقعے کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ جیسے یہ آج ہی کی خبر ہو۔ یعنی اگر میڈیا اس واقعے کی خبر آج دیتا تو اس کا انداز کیا ہوتا!

09:30

تصویر کے کاپی رائٹ sarajevo

ہم آپ کو بی بی سی کے ان صفحات پر خوش آمدید کہتے ہیں جو ہم نے آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کے بوسنیا کے دورے کی خبروں کے لیے مختص کیا ہے۔ شہزادہ فرڈینینڈ آج سرائیوو پہنچ رہے ہیں۔

آسٹرو ہنگیرین سلطنت کا یہ شاہی دورہ شہزادہ فرڈینینڈ کا سب سے اہم دورہ ہے۔ اس دورے پر ڈچًِز آف ہوہنبرگ سوفی بھی شہزادہ فرڈینینڈ کے ہمراہ ہیں۔

شہزادہ فرڈینینڈ نےگذشتہ دو دن فوج کے ساتھ گزارے جبکہ اس دوران شہزادی سوفی نے سرائیوو میں واقع سکولوں، یتیم خانوں اور چرچوں کے دورے کیے۔

توقع ہے کہ آج جب شاہی جوڑا سرائیوو پہنچےگا تو یہاں پر ان کا شاندار استقبال ان کے بوسنیا کے دورے کا نکتہ عروج ثابت ہوگا۔

09:31

اپنے سرکاری دورے کے دوران شاہی جوڑا لڈزا کے پُرآسائش ’ہوٹل بوسنیا‘ میں قیام کر رہا ہے جو کہ سرائیوو سے چھ میل مغرب میں واقع ہے۔

گذشتہ چند روز اس جوڑے کے لیے خاصے مصروف رہے ہیں اس وقت یہ دونوں ریل گاڑی کے ذریعے سرائیوو پہنچ رہے ہیں۔

گذشتہ رات انھوں نے 41 دوسرے مہمانوں کے ساتھ ایک عشائیے میں شرکت کی جن میں بوسنیا کے اعلیٰ فوجی، مذہبی اور سرکاری حکام شامل تھے۔

09:32

آرچ ڈیوک باقاعدگی سے اپنی سلطنت کا دورہ کرتے رہتے ہیں اور وہ اب تک دنیا کے دور دراز ممالک تک بھی سفر کر چکے ہیں۔ انھوں نے 1893 میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، چین، جاپان، کینیڈا اور امریکہ کے دورے کیے تھے۔

شہزادہ فرڈینینڈ آخری مرتبہ برطانیہ گذشتہ برس گئے تھے۔اپنے اس دورے کے دوران شہزادہ فرڈینینڈ اور سوفی نے ونڈزر میں باشاہ اور ملکہ کے ساتھ قیام کیا تھا اور انھوں نے شیروُڈ فارسٹ اور بولسوور کے قلعے کا بھی دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اب شہزادہ فرڈینینڈ ’تمام انگریزی چیزوں کے قدردان‘ ہو چکے ہیں۔

09:33

سرائیوو کو شاہی مہمانوں کی میزبانی کا شرف سنہ 1910 میں بھی حاصل ہوا تھا جب بوسنیا کے متنازعہ طور پر آٹسرو ہنگیرین مملکت کا حصہ بن جانے کے دو برس بعد سابق شنہشاہ فرانز جوزف نے اس شہر کا دورہ کیا تھا۔

اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شہنشاہ فرانزجوزف کی نسل سے تعلق رکھنے والے موجودہ شہنشاہ یعنی شہزادہ فرڈینینڈ کے اس دورے کا مقصد بوسنیا کے ساتھ شاہی تعلقات کو مذید مضبوط بنانا ہے۔

09:35

شہزادہ فرڈینینڈ نے 1900 میں عوام کے دل اس وقت جیت لیے تھے جب انھوں نے محبت کو فرض پر ترجیح دیتے ہوئے شاہی عملے کی ایک رکن کاؤنٹیس سوفی چوٹک سے شادی کر لی۔

ہیپشبرگ کے شاہی خاندان سے تعلق کی وجہ سے توقع کی جا رہی تھی کہشہزادہ فرڈینینڈ کسی شاہی خاندان کی لڑکی سے شادی کریں گے۔ سوفی چوٹک کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت آخر کار انھیں صرف اس شرط پر ملی تھی کہ ان دونوں کے بچوں کا آسٹرو ہنگیرین سلطنت کی وراثت پر کوئی حق نہیں ہوگا۔

اگرچہ سوفی کے پاس ’ڈچًِز‘ کا خطاب ہے لیکن انھیں وہ تمام خصوصی مراعات نہیں دی جاتیں جو اس خطاب کی حامل دیگر خواتین کو ملتی ہیں۔ اپنے گھر ویانا میں انھیں شاہی بگھی میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جاتی، لیکن چونکہ شہزادہ فرڈینینڈ سرائیوو کا یہ دورہ مسلح افواج کے انسپیکٹر جنرل کی حیثیت میں کر رہے ہیں اس لیے آج کے جلوس کے دوران سوفی اپنے شوہر کے ساتھ ساتھ رہیں گی۔

09:37

آج کے دن شاہی جوڑا اپنی شادی کی 14ویں سالگرہ بھی مکمل کر رہا ہے۔ یہ تصویر ان کی شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد کی ہے جب ان کی عمریں 36 اور 32 برس تھیں۔

09:42

مقامی علاقے میں آج ایک اور سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے۔ بوسنیائی سربوں کے لیے، جو کہ ملک کی کل آبادی کا 40 فیصد ہیں، 28 جون کی تاریخ قومی تہوار کا دن ہوتا ہے۔ یہ دن سنہ 1389 کی جنگِ کوسووو کی یاد میں منایا جاتا ہے جب سربوں نے ترکوں کو شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔

09:47

سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شاہی جوڑے کے استقبال کے لیے جلوس کے مرکزی راستے کے ارد گرد جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جلوس کے تمام راستے کو پرچموں اور پھولوں سے سجایا گیا ہے۔

09:49

ریل گاڑی سرائیوو کے ریلوے سٹیشن میں داخل ہوا چاہتی ہے جہاں معزز مہمانوں کا استقبال بوسنیا ہرزیگووینا کے فوجی گورنر جنرل آسکر پوٹیورِک اور سرائیوو کے میئر فہیم آفندی کُرکِک کریں گے۔

09:50

اب شہزادہ فرڈینینڈ اور ان کی اہلیہ ریل گاڑی سے باہرسرائیوو کی گرم دھوپ میں قدم رکھ چکے ہیں اور معززین ان کا استقبال کر رہے ہیں۔

شہزادہ فرڈینینڈ فوجی جنرل کی وردی میں ملبوس ہیں اور انھوں نے نیلے رنگ کی ٹیونک اور سر پرسیاہ ہیلمٹ پہنا ہوا ہے جس پر مور کے سبز پر لگے ہوئے ہیں۔

09:51

شہزادی سوفی نے سفید رنگ کا ڈریس پہنا ہوا ہے جس پر گہرے سرخ کی پٹی لگی ہوئی ہے اور انھوں نے ہیٹ بھی پہنا ہوا ہے۔

09:53

شاہی مہمانوں کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ہے اور 15ویں کور کے فوجی بینڈ نے آسٹریا کے قومی ترانے کی دھن بھی بجائی ہے۔

09:54

سرائیوو کے دورے کے دوران آج شاہی جوڑا سب سے پہلے سٹی ہال پہنچے گا جہاں پر شہر کے میئر کُرکِک سرکاری طور پر مہمانوں کو خوش آمدید کہیں گے۔

میئر کے استقبالی خطاب کے بعد شہزادہ فرڈینینڈ قومی عجائب گھر میں ایک تقریب میں شرکت کریں گے اور اس کے بعد وہ شہزادی سوفی سے دوبارہ ملیں گے اور پھر دونوں ظہرانے کے لیے گورنر کی رہائش گاہ کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔

09:57

ظہرانے سے پہلے شاہی مہمان مختصر دورے پر ریلوے سٹیشن کے سامنے واقع ہی فوجی بارکوں میں پہنچے ہیں جہاں شہزادہ فرڈینینڈ فوجی دستوں کا معائنہ کریں گے۔

10:00

اب دونوں شاہی مہمان اپنے میزبانوں جنرل پوٹیوریک اور کاؤنٹ فرانز وان ہرًچ کے ہمراہ ایک کھلی کار میں سوار ہو چکے ہیں۔ کار کے سامنے کے حصے پر شاہی پرچم لہرا رہا ہے۔

10:02

اس وقت استقبالی کاروں کا یہ جلوس معزز مہمانوں کو لیے ہوئے شہر میں ایپل گھاٹی کے علاقے سےگذر رہا ہے جو کہ دریائے مِلجاکا کے شمالی کنارے پر واقع ہے۔

10:03

شہر کے مشرقی علاقے میں واقع تُرک قلعے سے چوبیس توپوں کی سلامی سے شہر گونج اٹھا ہے اور یوں دورے کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کیا جا رہا ہے۔

10:04

جوں جوں شہزادہ فرڈینینڈ اور سوفی کی کار ان کے سامنے سے گذرتی ہے تو اسقبال کے لیے سڑک کی دونوں جانب کھڑے ہوئے لوگوں میں سے کچھ ’زِویو، زویو‘ کے نعرے لگا رہے ہیں جس کا مطلب ہے ’ شہنشاہ کی عمر دراز ہو۔‘

آج کے دن کے حوالے سے مقامی اخبارات میں خوب تشہر کی گئی ہے تا کہ شاہی دورے کے آخری دن زیادہ سے زیادہ لوگ باہر آئیں اور مہمانوں کا استقبال کریں۔

10:05

اس وقت شاہی کاروں کا جلوس ایپل گھاٹی کے کنارے کنارے سٹی ہال کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سٹی ہال کی تعمیر 1896 میں ہوئی تھی۔

10:07

کاروں کے درمیان پچاس پچاس گز کا فاصلہ رکھا گیا ہے اور اب یہ کاریں گھروں کے سامنے سے گذر رہی ہیں۔ ان گھروں کو ہیپسبرگ اور بوسنیا کے پرچموں سے سجایا گیا ہے، یوں گھروں پر آپ کو بالترتیب سیاہ و پیلے اور سرخ و پیلے رنگوں کے پرچم دکھائی دے رہے ہیں۔

استقبال کے لیے آئے ہوئے لوگوں کی اکثریت ایپل گھاٹی کی اس جانب کھڑی ہے جو سرائیو شہر کے قریب ہے کیونکہ اُس طرف سایہ ہے۔

10:10

شہزادہ فرڈینینڈ کی کار اب پولیس سٹیشن اور فوجیوں کی نئی بارکوں کے سامنے سے گذر چکی ہے۔

10:12

بریکنگ نیوز:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شہزادہ فرڈینینڈ کے قافلے کی کاروں کے قریب ایک دھماکہ ہو گیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ دھماکہ کیسے ہوا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھیں ایک زور دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے بعد شہزادہ فرڈینینڈ کی کار تیزی کے ساتھ مڑ گئی ہے۔

دھماکے میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

10:13

شہزادہ فرڈینینڈ کی کار کے بالکل پیچھے آنے والی کار رک گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ قافلے میں شامل ایک کار کو نقصان پہنچا ہے۔

موقع پر موجود ہجوم میں پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ ہوا کیا ہے۔ دھماکے کی جگہ پر دھواں پھیل گیا ہے اور دھماکے سے اڑنے والے ٹکڑے ادھر ادھر بکھر گئے ہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ سرکاری قافلے اور استقبال کے لیے آئے ہوئے عام لوگوں میں سے کچھ افراد خمی ہو گئے ہیں۔

10:15

شہزادہ فرڈینینڈ کی کار رک گئی ہے اور حکام شہزادہ فرڈینینڈ کو اس واقعہ کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک بم دھماکہ ہے اور یہ بم ایپل گھاٹی کی دریا والی جانب کھڑے ہوئے ہجوم کی طرف سے کاروں پر پھینکا گیا تھا۔

10:18

اب ہمیں جائے وقوعہ سے مناظر موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

10:19

آرچ ڈیوک اور سوفی دونوں ابھی تک اپنی کار میں ہیں اور انھوں نے اپنے میزبان محافظ کاؤنٹ فرانز وان ہرًچ کو بھیجا ہے کہ وہ عین دھماکے والی جگہ پر جا کر دیکھیں کہ کیا ہوا ہے۔

10:21

بریکنگ نیوز:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دھماکے میں تقریباً 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔زخمی ہونے والوں میں قافلے میں شامل دو فوجی افسران اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ زخمی ہونے والی خاتون شہزادی سوفی نہیں ہیں۔

10:23

اپ ڈیٹ:

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو شہزادہ فرڈینینڈ کی کار پر پھینکتے ہوئے دیکھا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ شہزادہ فرڈینینڈ نے اپنی جانب آتے ہوئے بم کو خود اپنے ہاتھ سے دوسری جانب موڑ دیا اور بم پیچھے آتی ہوئی کار کے راستے میں جا گرا۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ شخص گھاٹی کے کنارے سے چھلانگ لگا کر موقعے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

10:24

اپ ڈیٹ:

خبر ہے کہ دھماکے میں شایدشہزادی سوفی کو بھی کچھ زخم آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے سے اڑنے والے مواد کے ٹکڑوں میں کچھ ان کے گال پر لگے جس سے انھیں خراشیں آئی ہیں۔ عینی شاہدین کا خیال ہے کہ وہ زیادہ زخمی نہیں ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے میں شہزادہ فرڈینینڈ کو کسی قسم کا کوئی زخم نہیں آیا اور وہ بالکل ٹھیک ہیں۔

10:26

اپ ڈیٹ:

کہا جا رہا ہے کہ دھماکے کے باوجود شہزادہ فرڈینینڈ اور شہزادی سوفی اپنا دورہ پروگرام کے مطابق جاری رکھیں گے۔

10:28

عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے شہزادہ فرڈینینڈ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ’یہ شخص کوئی پاگل تھا۔ چلیں ہم اپنا پروگرام جاری رکھتے ہیں۔‘

10:32

شہزادہ فرڈینینڈ اور سوفی ابھی ابھی سٹی ہال پہنچ گئے ہیں۔

یہاں شاہی مہمانوں کا استقبال کرنے والوں میں سرائیوو کے عیسائی، مسلمان اور یہودی رہنماؤں میں سے چیدہ چیدہ شخصیات موجود ہیں۔

توقع ہے کہ یہاں شہزادہ فرڈینینڈ ایک استقبالیہ تقریب میں شرکت کریں گے جبکہ شہزادی سوفی مسلمان افسران کی بیگمات سے ملاقات کریں گی۔

میئر کُرکِک شہزادہ فرڈینینڈ سے تھوڑی ہی دیر پہلے یہاں پہنچے ہیں کیونکہ وہ جس کار میں سوار تھے وہ کار جلوس میں شہزادہ فرڈینینڈ کی کار سے آگے تھی۔ میئر پوری طرح تیار ہیں اور شاہی مہمانوں کو باقاعدہ خوش آمدید کہنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

10:35

اپ ڈیٹ:

جس مقام پر بم دھماکہ ہوا ہے پولیس نے وہاں سے کئی افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ابھی تک معلوم نہیں کہ ان افراد میں آیا وہ شخص بھی شامل ہے جس نے بم پھینکا تھا۔

10:40

اپ ڈیٹ:

بم دھماکے میں زخمی ہونے والے افسران میں سے ایک کو گیریزن ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ افسر کا نام کرنل ایرچ وان میرِزًی ہے۔

فوج کے ڈاکٹر جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں اور پولیس نے علاقے کو صاف کرنا شروع کر دیا ہے۔

10:46

اس وقت شہزادہ فرڈینینڈ سٹی ہال میں استقبال کے لیے آئے ہوئے معززین سے ملاقات کر رہے ہیں۔

10:52

بریکنگ نیوز:

پولیس کا کہنا ہے کہ شہزادہ فرڈینینڈ پر حملے کے سلسلے میں انھوں نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ مشتبہ شخص کا نام نِڈلکو کابرینووِک ہے، اس کی عمر 19 سال ہے اور وہ بوسنیائی سرب ہے۔

پولیس نے اسے تھانے میں رکھا ہوا ہے اور اس مشتبہ شخص کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔

10:54

سٹی ہال میں جاری تقریب اختتام پذیر ہونے والی ہے۔ شاہی مہمان سٹی ہال سے روانہ ہونے والے ہیں۔ ان کا اگلا پڑاؤ نیشنل میوزیم پر ہوگا۔

10:55

اپ ڈیٹ:

سرکاری افسران نے بتایا ہے کہ شہزادہ فرڈینینڈ کے پروگرام میں ایک تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اب شہزادہ اور ان کی اہلیہ سٹی ہال سے گیریزن ہسپتال جائیں گے جہاں وہ زخمیوں کی عیادت کریں گے جن میں کرنل میرِزی بھی شامل ہیں۔

10:56

اب کاروں کا قافلہ سٹی ہال سے روانہ ہو چکا ہے اور کاریں تیز رفتاری سے یہاں سے نکل رہی ہیں۔ لگتا ہے کہ اب اس قافلے کے لیے اضافی سکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔ شہزادہ فرڈینینڈ کی حفاظت کے لیے ان کی گاڑی میں دروازے کی جانب ایک فوجی افسر کو بھی بٹھا دیا گیا ہے۔

11:00

سٹی ہال سے 300 میٹر دور لٹینر کے پُل کے قریب سے گولیوں کی آوازوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

11:01

بریکنگ نیوز: شہزادہ فرڈینینڈ کو گولی لگ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اطلاعات کے مطابق شہزادے کوگولی لگ گئی ہے۔

مذید اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

11:02

یہ فائرنگ ایپل گھاٹی اور فرانز جوزف سٹریٹ کے موڑ پر کی گئی۔

11:06

اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے بعد شہزادہ فرڈینینڈ کی کار تیزی کے ساتھ ایپل گھاٹی کی جانب مڑ گئی۔

11:08

شہزادہ فرڈینینڈ کی حالت کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔

11:10

اپ ڈیٹ:

پولیس اس جگہ پہنچ رہی ہے جہاں فائرنگ ہوئی ہے۔ موقعے پر موجود ہجوم میں دنگا فساد شروع ہو گیا ہے۔

11:14

پولیس نے ہجوم کو ایک شخص کو مارنے سے روک دیا ہے۔

11:18

اپ ڈیٹ:

ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ہجوم میں سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے شہزادے کو گولی ماری ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے آیا اس کا تعلق آج صبح ہونے والے بم دھماکے سے بھی ہے۔

11:22

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہزادہ فرڈینینڈ کی گاڑی نے غلط موڑ لے لیا تھا اور گلی میں سے واپسی کے لیے موڑ کاٹ رہی تھی کہ ایک شخص آگے بڑھا اور قریب سے شہزادے پر دو گولیاں داغ دیں۔

11:24

عینی شاہدین کے مطابق شہزادہ فرڈینینڈ اپنی نشت میں سیدھے بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ آگے کو جھکی ہوئی تھیں۔

11:28

حکام نے تصدیق کی ہے کہ شہزادہ فرڈینینڈ اور ان کی اہلیہ کو گورنر آسکر پوٹیورِک کی سرکاری رہائش (جسے کونک کہا جاتا ہے) پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ابھی تک ہمارے پاس کوئی خبر نہیں ہے کہ ان دونوں کی حالت کیسی ہے۔

11:30

دو پادریوں کو کونک کے اندر جاتے دیکھا گیا ہے۔

11:32

پورے سرائیو میں گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں۔

11:33

بریکنگ نیوز: آسٹریا کے شہزادہ اور شہزادی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک سرکاری افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہزادہ فرڈینینڈ اور ان کی اہلیہ سوفی گولیوں کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں۔

11:40

پچاس سالہ آرچ ڈیوک فرڈینینڈ اور 46 سالہ ڈچًِز آف ہوہنبرگ سوفی انتقال کر گئے ہیں۔

11:46

آج صبح کے بم دھماکے کے مشتبہ ملزم نے پولیس کو بتایا ہے کہ بم ایک بے نام ’تنظیم‘ سے حاصل کیا گیا تھا۔ اس شخص نے مذید تفصیل بتانے سے انکار کر دیا ہے اور وہ یہ بھی نہیں بتا رہا کہ آیا وہ کسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھا یا نہیں۔

11:50

بریکنگ نیوز: گرفتار شخص ہی مشتبہ قاتل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پولیس نے مشتبہ شخص کا نام ظاہر کر دیا ہے۔ اس کا نام گورلو پرنسِپ ہے۔ وہ اس وقت پولیس کی حراست میں تھانے میں موجود ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ آیا دونوں حملوں کا آپس میں کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

11:54

اپ ڈیٹ:

پولیس نے مشتبہ قاتل کا نام گورلو پرنسِپ بتایا ہے۔

11:58

اطلاعات کے مطابق پرنسِپ کوگرفتار کرنے کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔

12:03

اپ ڈیٹ:

جس وقت فائرنگ ہوئی اس وقت ایک عینی شاہد، ڈانیلو پُسیلی شہزادے کی کار کے قریب ہی کھڑا تھا۔

پُسیلی کا کہنا ہے کہ جب حملہ آور نے شہزادے پر گولی چلائی تو اس کے فوراً بعد اس نے حملہ آور کو کالر سے دبوچ لیا۔ پُسلیلی کے بقول: ’میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں اس کا گلا دبا دوں، لیکن پھر مجھے روز قیامت کے منصف کا خیال آگیا اور میں نے اپنا ارداہ بدل دیا۔‘

12:09

سٹی ہال میں آئے ہوئے مہمانوں میں سے ایک کا کہنا تھا کہ اس نے دیکھا کہ شہزادہ فرڈینینڈ بڑے اعتماد سے چلتے ہوئے سٹی ہال میں داخل ہو رہے تھے، لیکن وہ اسے کچھ ’عجیب‘ دکھائی دیے۔ ’میرا خیال ہے کہ وہ دکھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ بم دھماکے سےخوفزدہ نہیں ہوئے۔‘

12:12

آج کے دورے کے حفاظتی انتظامات کے بارے میں یقیناً سوال اٹھیں گے۔

کہا جا رہا ہے کہ جب شہنشاہ فرانز جوزف سنہ 1910 میں سرائیوو کے دورے پر تشریف لائے تھے تو حفاظتی انتظامات آج کے مقابلے میں بہت سخت تھے۔ اُس موقعے پر جلوس کے راستے کی دونوں جانب فوجی تعینات کیے گئے تھے اور شہر میں آنے والے ہر نئے فرد کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا کہ وہ چھ گھنٹے کے اندر اندر اپنا اندراج کرائے۔

12:19

ابھی ابھی ہماری بات شہزادہ فرڈینینڈ کے ذاتی محفظ کاؤنٹ فرینک ہرًِچ سے ہوئی ہے جو حملے کے وقت شہزادہ فرڈینینڈ کے ساتھ کھڑے تھے۔

انھوں نے ہمیں شہزادے اور شہزادی سوفی کے آخری لمحات کے بارے میں بتایا ہے۔

ہِرًچ کا کہنا ہے کہ گولیاں چلنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ’ عزت مآب کے منہ سے خون کی ایک پتلی سے لہر نکلی آئی اور میرے گال پر آ گری۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ جوں ہی شہزادے کی مدد کے لیے آگے بڑھے تو انھیں ایسا لگا کہ انھوں نے شہزادی کو شہزادے سے کہتے ہوئے سنا ’ کیا ہو گیا ہے آپ کو۔‘ اس کے بعد شہزادی اپنی نشت پر جھک گئیں اور انھوں نے اپنا چہرہ گھٹنوں کے درمیان چھپا لیا۔‘

’ مجھے بالکل خبر نہیں تھی کہ انھیں بھی گولی لگ چکی ہے۔ میں نے سوچا کہ وہ صرف خوف سے نڈھال ہو گئی ہیں۔ پھر میں نے عزت مآب کو یہ کہتے سنا کہ ’سوفی، سوفی، مرنا نہیں۔ بچوں کے لیے زندہ رہو۔‘

لیفٹینینٹ کرنل ہِرًچ نے مذید بتایا: ’ میں نے شہزادہ فرڈینینڈ کو آگے کو گرنے سے بچانے کے لیے ان کا کالر پکڑ لیا اور ان سے پوچھا کہ کیا بہت درد ہو رہا ہے۔ ان کا جواب بڑا واضح تھا: ’یہ تو کچھ بھی نہیں۔‘

’ان کا چہرہ ایک جانب کو گِرنا شروع ہوگیا لیکن وہ بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ کچھ بھی نہیں۔ انھوں نے یہ فقرہ چھ یا سات مرتبہ دھرایا اور یہی کہتے کہتے وہ بے ہوش ہوگئے۔’ یہ تو کچھ بھی نہیں!

اور پھر تھوڑی ہی دیر میں گلے میں خون جمع ہو جانے کی وجہ سے مجھے ان کے دم گھٹنے کی آواز آئی۔ جب ہم کونک پہنچے تو یہ آواز بھی بند ہو چکی تھی۔‘

12:26

شہزادہ فرڈینینڈ اور شہزادی سوفی کی میتوں کو سرکاری اعزاز کے ساتھ کونک میں رکھا جائےگا۔

12:30

تمام شہر میں پرچم سرنگوں کیے جا رہے ہیں۔

اختتام