یورپی یونین میں شکست کے بعد برطانیہ کی حوصلہ افزائی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپی یونین کے صدر کے انتخاب میں حزیمت کے بعد لیبر پارٹی نے ڈیوڈ کیمرون پر تنقید کی ہے

سویڈن اور جرمنی کے رہنماؤں نے یوروپی یونین کے نئے صدر کے انتخاب میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی شکست کے بعد ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یورپی یونین کے صدر کا انتخاب اتفاق رائے سے ہوتا تھا لیکن اس بار برطانوی وزیر اعظم نے ژاں کلاڈ جنکر کے انتخاب کو چیلنج کرتے ہوئے ووٹنگ کی گذارش کی جس میں جنکر کو دو کے مقابلے 26 ووٹوں سے کامیابی ملی۔

جنکر کا نام سویڈن نے تجویز کیا تھا اور انھیں یورپی یونین کے ممالک میں ’قریبی سیاسی اتحاد‘ کا حامی بتایا جاتا ہے۔ سویڈن کے وزیراعظم فریڈرک رینفیلٹ نے کہا کہ ’قریبی سیاسی یونین‘ سب کے لیے نہیں ہے۔

جرمنی کی چانسلر اینگیلا میرکل نے بھی اس بارے میں بات کی اورکہا کہ وہ ’برطانوی خدشات‘ کا ازالہ کرنے کو تیار ہیں۔

برطانیہ کی لیبر پارٹی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے لیے جمعے کا نتیجہ ’ذلیل کرنے والا تھا لیکن ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ یہ ان کا ’آخری موقف‘ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ یورپی یونین میں اصلاحات لانے کی اپنی جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور برسلز سے اقتدار واپس لے کر رہیں گے۔ اور اس کے بارے میں وہ برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد برطانیہ میں یورپی یونین میں شامل ہونے کے ریفرینڈم سے قبل کچھ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

لیکن جمعے کو ہونے والی ووٹنگ کے بارے میں انھوں نے کہا: ’یہ یورپ کے لیے ایک خراب دن تھا۔ اس سے قومی حکومتوں کی حیثیتوں میں کمی آنے کا خطرہ ہے اس سے قومی پارلیمان کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہے اور اس سے یورپی پارلیمان کو نئی قوت ملتی ہے۔‘

دوسری جانب سویڈن کے وزیراعظم فریڈرک رینفیلٹ نے ووٹنگ کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک دستاویز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام رکن ممالک کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا: ’آپ اس میں دیھکیں کہ ہم نے اپنے نتائج میں کیا لکھا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جرمنی کی چانسلر میرکل اور سویڈن کے وزیر اعظم نے ووٹنگ کے بعد برطانیہ کے لیے ہمت افزا باتیں کہیں

جرمنی نے بھی مسٹر جنکر کی صدارت کی حمایت کی ہے لیکن ووٹنگ کے بعد چانسلر میرکل نے کہا صدر کے انتخاب کے بارے میں جائزہ لیا جائے گا اور یہ کہ یورپی یونین کیسا ہونا چاہیے اس کے بارے میں وہ برطانیہ کے خیال سے اتفاق رکھتی ہیں۔

دریں اثنا لیبر رہنما ایڈ ملبینڈ نے کہا ہے ڈیوڈ کیمرون کی وکالت ’خراب‘ ہو چکی ہے اور جمعے کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم ’یورپ میں ہمارے مفادات کی نمائندگی نہیں کر سکے۔‘

سابق برطانوی وزیر خارجہ سر میلکن ریف کائنڈ نے کہا کہ یورپی ممالک برطانیہ کو چھوڑنا نہیں چاہیں گے اس لیے ’کامیاب بات چیت کی بنیاد اس بات پر ہوگی کہ ڈیوڈ کیمرون ایسی تجاویز پیش کریں جو برطانیہ کے حق میں ہو اور جو یورپی یونین میں شامل دوسرے ممالک کی بنادی طور پر نقصان نہی پہنچاتی ہوں۔‘

اسی بارے میں