تکریت میں فوج کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سرکاری فوج نے تکریت سے پسپائی کی ہے اور جنوب میں واقع دجلہ شہر کی جانب واپس ہو گئی ہے۔

عراق میں سنّی باغیوں سے شمالی شہر شہر تکریت پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف سرکاری فوج نے شدید لڑائی کے بعد پسپا ہونے کے بعد دوبارہ کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

واضح رہے کہ عراقی فوج نے سنیچر کو ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور فضائی امداد کے درمیان شہر پر حملہ کیا تھا اور اس شدید مزاحمت پر پسپا ہونا پڑا۔

اس سے پہلے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب کی افواج کو شدید نقصانات اٹھانے پڑے جبکہ سرکاری فوج نے تکریت سے پسپائی کی ہے اور جنوب میں واقع دجلہ شہر کی جانب واپس ہو گئی ہے۔

دوسری جانب عراق کا کہنا ہے کہ اسے روس سے جنگی طیاروں کی پہلی کھیپ مل گئی ہے جسے اس نے سنّی باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے منگوایا ہے۔

عراقی سکیورٹی حکام نے کہا کہ ہفتہ کو ملنے والے پانچ سکوئی نامی جنگی طیارے کچھ ہی دنوں میں ملکی فضائیہ میں شامل ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ باقی ماندہ طیاروں کی کھیپ بھی جلد ہی پہنچنے والی ہے۔

دوسری جانب روسی خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ عراق کے ہوائی اڈے پر 10 طیارے پہنچ گئے ہیں۔

عراق کے شمال مغربی علاقوں میں باغیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عراق کو ان جنگی طیاروں کی ضرورت تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption عراق کا کہنا ہے کہ اسے پانچ جنگی طیارے ملے ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ 10 طیارے عراق پہنچ چکے ہیں

اطلاعات کے مطابق عراقی حکومت نے روسی جنگی طیارے سو-30 ایس ایم کے لیے پہلے ہی تقریباً پانچ ارب ڈالر کا سودا کیا تھا۔

عراق کی ریاستی میڈیا نے سنیچر کو دعویٰ کیا تھا کہ ملک کے شمالی شہر تکریت میں عراقی فوج کی داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں جنگجوؤں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

ریاستی ٹی وی چینل کا کہنا تھا کہ فوج نے تکریت میں گورنر کے ہیڈ کوارٹر پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور اس کارروائی میں داعش کے 60 جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب باغیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہر پر حملہ ہوا تاہم انھوں نے اسے ناکام حملے سے تعبیر کیا اور کہا کہ وہ فوج کا پیچھا کر رہے ہیں۔

خِیال رہے کہ عراق کے شہر تکریت پر 11 جون کو دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کے جنگجوؤں نے کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption داعش کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرقی شام سے انھوں نے عراق پر قبضہ کیا ہے اور وہ وسطی عراق کی جانب بڑھ رہے ہیں

داعش اور سنی مسلمانوں کا اتحاد عراق کے کئی علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

سرکاری ٹی وی پر کہا گیا کہ اس کارروائی میں 60 شدت پسند مارے گئے ہیں اور اب باغیوں کے کنٹرول والے شہر موصل کی طرف بڑھنے کی تیاری ہو رہی ہے۔

اس سے پہلے امریکی حکام کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی عسکری مشیروں کی حفاظت کے لیے مسلح امریکی ڈرون طیارے ملک کی فضائی حدود میں پرواز کریں گے۔

یہ ڈرون طیارے روزانہ تقریباً 30-40 پروازیں کریں گے جن کا مقصد مختلف علاقوں کی نگرانی کرنا ہوگا۔

جمعے کو عراق کے اہم ترین شیعہ رہنما نے وزیراعظم کی تعیناتی میں جلدی کرنے کے لیے کہا تھا۔

شیعہ رہنما آیت اللہ سیستانی کا کہنا تھا کہ منگل کو نئی پارلیمان کے اجلاس سے قبل حکومتی عہدے پُر ہونے چاہیں۔

عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی پر الزام لگتا رہا ہے کہ ان کی سنی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے کچھ سنی شدت پسند جہادی تنظیم داعش میں شامل ہوگئے ہیں اور عراقی فوجیوں کے خلاف جاری لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں