بیئر اور مساجد کا شہر

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption حرار کے اندرن شہر کی گلیوں میں اب بھی آپ کو ہرے، جامنی اور پیلے رنگ کے مکانات اور عمارتیں نظر آتی ہیں

ایتھیوپیا کا تاریخی شہر حرار اسلام کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے، لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں اس شہر نے ایک نئی روایت قائم کی ہے اور اب یہ شہر بیئر کے لیے مشہور ہو گیا ہے۔

جیسا کہ تمام مقدس شہروں میں ہوتا ہے، حرار بھی ایک رنگین شہر ہے۔ اندرن شہر کی گلیوں میں اب بھی آپ کو ہرے، جامنی اور پیلے رنگ کے مکانات اور عمارتیں نظر آتی ہیں۔ لگتا ہے کہ مقامی خواتین بھی ان رنگین گھروں کو اپنے لیے چیلنج سمجھتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کی عورتیں بھی آپ کو گہرے گلابی اور چمکدار نارنجی رنگ کے کپڑے اور حجاب پہنے نظر آتی ہیں۔

حرار ایتھیوپیا کے انتہائی مشرق میں واقع ہے اور شہر سے شروع ہونے والی ایک بڑی سڑک اس ملک کو سوازی لینڈ سے ملاتی ہے۔

یہ وہی تاریخی شہر ہے جہاں سے مشہور مسلمان رہنما احمد نے سولہویں صدی میں کئی عظیم مہمات کا آغاز کیا تھا جن کے نتیجے میں حرار کے چاروں اطراف میل ہا میل کا علاقہ ایتھیوپیا کی اسلامی ریاست کا حصہ بن گیا تھا۔

لیکن آج میرے یہاں آنے کا مقصد اس شہر کی مقدس شہرت کی بجائے اس کی حالیہ ’غیر مقدس‘ شہرت کے بارے میں جاننا ہے۔ اسی لیے میں بازار میں زیادہ دیر نہیں ٹھہرا اور سیدھا اس بُروری (بیئر کی فیکٹری) کا رخ کیا جہاں ’حرار‘ نامی بیئر بنائی جاتی ہے جوگذشتہ 30 برسوں کے دوران اپنی شہرت منوا چکی ہے۔

شہر کے مرکزی دروازے سے باہر نکلتے ہی ہمیں ایک رکشہ والا مل گیا اور جلد ہی ہمارا رکشہ پٹ پٹ کرتا ہوا شہر سے باہر ایک پہاڑی پر چڑھنے لگا۔

بیئر کی فیکٹری کے مرکزی دروازے کی ایک جانب لگے نوٹس پر آتشیں اسلحہ کی ممانعت کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب بیئر کی ایک بہت بڑی بوتل بنی ہوئی ہے۔ یعنی نہ تو آپ فیکٹری میں کوئی اسلحہ لا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی ذاتی بیئر۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہاں آپ کو حرار بیئر کی پیٹیوں کا ایک انبار نظر آتا ہے اور اس کے عقب میں شہر کی قدیم مسجد کا مینار

فیکٹری کے اندر پہنچنے پر آپ کو حرار بیئر کی پیٹیوں کا ایک انبار نظر آتا ہے اور اس کے عقب میں شہر کی ایک قدیم مسجد کا مینار۔

بیئر کی یہ فیکٹری ایتھیوپیا کی حکومت نے تین برس قبل بیئر بنانے والے مشہور بین الاقوامی گروپ ’ہینی کین‘ کے ہاتھ فروخت کر دی تھی۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ وہ فیکٹری میں مزید سرمایہ کاری کرے گا۔اس کے علاوہ ہینی کین دارالحکومت ادیس ابابا کے نواح میں ایک اور فیکٹری بھی تعمیر کر رہا ہے جس کے بعد ایتھیوپیا میں ہینی کین کی بیئر بنانے کی فیکٹریوں کی تعداد تین ہو جائے گی۔

کئی بین الاقوامی کمپنیاں سستی مزدوری اور سہل برآمدی قوانین کی وجہ سے ایتھیوپیا میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ یونی لیور، جنرل الیکٹرک، گلیکسو، ایچ اینڈ ایم، وال مارٹ سے لے کر سام سنگ تک ہر بڑی کمپنی یا تو یہاں سرمایہ کر چکی ہے یا کِیا چاہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption کئی کمپنیاں سستی مزدوری اور سہل برآمدی قوانین کی وجہ سے ایتھیوپیا میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں

ان مغربی کمپنیوں کے علاوہ چینی بھی یہاں پہنچ چکے ہیں اور ایک چینی کمپنی بین الاقوامی برانڈ کے ہزارہا جوتے روزانہ بنا رہی ہے۔

ہینی کین کا خیال ہے کہ ایتھیوپیا میں بننے والی بیئر نہ صرف بین الاقوامی منڈی میں منافع بخش قیمت پر فروخت ہوگی بلکہ قومی سطح پر بھی اس کی کھپت کے امکانات روشن ہیں۔

معلوم نہیں کہ ایتھیوپیا کے مقامی لوگوں میں بیئر کا شوق بڑھےگا یا نہیں، کیونکہ فیکٹری سے واپسی پر جب ہم شہر کے دروازے پر پہنچے تو ہم نے یہی دیکھا کہ مقامی لوگوس کا پسندیدہ نشہ ’قات‘ کے پتے ہی ہیں۔

میں نے کھڑکی سے باہر جھانک کے دیکھا تو مجھے دو سخت جان عورتیں نظر آئیں جو قات کے پتوں سے بھرے ہوئے تھیلے گلی کے کنارے زمین پر پھیلا چکی تھیں۔ ایک بری طرح معذور بھکاری سرکتا ہوا قات کے پتوں کی جانب بڑھ رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption میں نے دیکھا کہ دونوں عورتوں نے ایک شخص کو کھری کھری سنائیں

اس دوران میں نے دیکھا کہ دونوں عورتوں نے ایک شخص کو کھری کھری سنائیں۔ لگتا ہے کہ وہ منشیات فروش عورتوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور انھیں قات کے صحیح دام نہیں دے رہا تھا۔

چند ہی لمحے بعد میں نے دیکھا کہ دونوں عورتوں نے بڑی رازداری کے ساتھ قات کے چند پتے بھکاری کی مٹھی میں ڈال دیے۔ لگتا ہے کہ ایک مقدس شہر کے کنارے پر بیٹھی ان عورتوں نے بھی اپنے کاروبار کی خیرات دے دی۔

اسی بارے میں