عراقی پارلیمان اتفاق رائے میں ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption داعش نے عراق اور شام کے بعض حصوں میں خلاف قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے

عراق کی نئی پارلیمان کا اجلاس کسی اتفاق رائے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا ہے اور ارکان پارلیمان ملک کی نئی قیادت کے انتخاب کی طرف کسی پیش رفت میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

کونسل کے ارکان کو نئے سپیکر کا انتخاب کرنا تھا لیکن وقفے کے بعد کُرد اور سنی عربوں کے منتخب نمائندے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا۔

قائمقام سپیکر مہدی الحفیظ نے کہا کہ پارلیمان کا اجلاس ایک ہفتے کے وقفے کے بعد دوبارہ طلب کیا جائے گا۔

عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں میں سنی باغیوں کی کارروائی کے پس منظر میں عراقی سیاست دانوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ جلد از جلد ملک کی نئی قیادت کا انتخاب کریں۔

ملک کے شمالی اور مغربی علاقے عراق کی مرکزی حکومت کے ہاتھوں سے تیزی سے نکلتے جا رہے ہیں اور اتوار کو دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نامی تنظیم نے شام اور عراق میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خلافت قائم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس سال جون کے مہینے میں 2417 عراقی، جن میں 1531 شہری شامل ہیں، تشدد کا شکار ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق میں اپریل میں ہونے والے انتخابات کے بعد پارلیمان کا اجلاس دو گھنٹے سے کم وقت چل سکا

ان اعداد و شمار میں انبار میں ہلاک ہونے والے شامل نہیں جہاں عراقی حکام کے مطابق 244 شہری ہلاک ہوئے۔

اپریل میں ہونے والے انتخابات کے بعد عراقی پارلیمان کا پہلا اجلاس دو گھنٹے سے کم وقت میں ختم ہو گیا۔

کرد ارکان پارلیمان، جنہیں وزیر اعظم نور المالکی کے حامیوں کی طرف سے بے وفائی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ ان کے ساتھ کچھ دوسرے اراکین بھی اجلاس سے باہر چلےگئے اور یوں کورم ٹوٹ گیا۔

کردستان سے رکنِ پارلیمان نجیبہ نجیب نے نور المالکی سے وفاقی بجٹ میں کردستان کی خود مختار کردستان کی مقامی حکومت کی رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

عراقی پارلیمان کے سینیئر رکن محمد حفیظ نے کہا کہ اگر اتفاق رائے کا امکان ہوا تو اجلاس کو آئندہ جمعرات کو دوبارہ طلب کر لیا جائے گا۔

اپریل میں ہونے والے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والے نورالمالکی نے مخلوط حکومت بنانے کے حق کا مطالبہ کیا ہے۔

ملک میں جاری حالیہ بحران کی وجہ سے نور المالکی سے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔