نوجوانوں کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے گا: اسرائیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ آخری رسومات کا منظر غیر معمولی تھا

اسرائیلی رہنما بن یامن نتن یاہو نے عہد کیا ہے کہ وہ غرب اردن میں قتل ہونے والے تین نوجوانوں کے اغوا کاروں اور قاتلوں کو ڈھونڈ نکالیں گے۔

انھوں نے فلسطین کے جنگجو گروپ حماس پر قتل کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف سخت کاروائی کی بات کہی ہے۔

اسرائیل میں غربِ اردن سے اغوا کے بعد قتل کر دیے جانے والے تین نوجوانوں کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں ہیں جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ حماس کو ان ہلاکتوں کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

اسرئیلی وزیرِ اعظم نے ہزاروں سوگواروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں کو ہلاک کرنے والے ’وحشی قاتل ہیں۔‘

اسرائیل نے ان ہلاکتوں کے لیے فلسطینی عسکریت پسندگروہ حماس کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے جبکہ حماس نے اس واقعے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

ان تینوں نوجوانوں کی لاشیں ان کی گمشدگی کے دو ہفتے سے زائد وقت کے بعد پیر کی شام ملی تھیں۔

16 سالہ نافتالی فرینکل اور جیلاد شار، اور 19 سالہ نوجوان آئل افراق کو آخری بار یروشلم اور ہیبرون کے درمیان واقع یہودی بستیوں کے ایک بلاک میں دیکھا گیا تھا۔

ان نوجوانوں کی مشترکہ آخری رسومات کی ادائیگی کے موقع پر اسرائیلی وزیرِاعظم کا کہنا تھا: ’اخلاق ہمیں ہمارے دشمن سے منفرد کرتا ہے۔ وہ موت کو مقدس سمجھتے ہیں، ہم زندگی کو مقدس سمجھتے ہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ آخری رسومات کا منظر غیر معمولی تھا۔ تپتی دوپہر میں ہزاروں لوگ وہاں موجود تھے۔ رسومات کی ادائیگی شروع ہوئی تو اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بھی خطاب کیا، گو کہ اطلاعات ہیں کہ متاثرہ خاندانوں نے ان سے درخواست کی تھی کے اسرائیل کی جانب سے کسی ممکنہ جواب کے بارے میں بات نہ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رسومات کی ادائیگی شروع ہوئی تو اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بھی خطاب کیا

اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ کی پٹی سے اتوار کی رات 18 راکٹ فائر کیے جانے کے بعد گذشتہ رات کے بعد اس نے عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر 30 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

ان تین نوجوانوں کی لاشیں حلحول قصبے سے ملی ہیں اور ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اغوا کے فوراً بعد گولی مار دی گئی تھی۔ لاشوں کے بارے میں اطلاع ملتے ہیں اسرائیلی فوجیں کی بڑی تعداد حلحول پہنچ گئی۔

اسرائیل سکیورٹی ایجنسی نے حماس کے دو ارکان مروان القواسمۃ اور عامر ابو عيشۃ کے اس واقعے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ان دونوں کے گھروں پر بارودی مواد کے ساتھ حملہ کیا۔ فلسطینی عینی شاہدین کے مطابق ابو عیشۃ کا گھر تباہ ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان تینوں نوجوانوں کی لاشیں ان کی گمشدگی کے دو ہفتے سے بھی زائد وقت کے بعد پیر کی شام ملی تھیں

اسرائیلی سکیورٹی فوسرز نے حلحول کا محاصرہ کر لیا ہے اور جہاں ان نوجوانوں کو آخری بار زندہ دیکھا گیا تھا۔ اس مقام سے چند کلومیٹر تک کے علاقے کو بند کر دیا گیا ہے۔

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے فلسطینی رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے اور اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

یہ نوجوان 12 جون کو لاپتہ ہوئے تھے اور ان کے لیے فلسطینی علاقوں اور غربِ اردن کے اطراف میں بڑا سرچ آپریشن کیا گیا تھا۔

400 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ اسرائیلی فوج کے ساتھ لڑائی میں پانچ افراد ہلاک بھی ہوئے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ واقعہ حماس اور الفتح کے درمیان اتحاد کا نتیجہ ہے جو اسرائیل کے وجود سے ہی انکاری ہیں۔

دونوں فلسطینی تنظیموں کے درمیان برسوں کی تفریق کے بعد اپریل میں مفاہمت ہوئی تھی اور گذشتہ ماہ ہی دونوں نے اتحادی حکومت بنائی ہے۔

دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے طرفین پر زور دیا ہے کہ ’وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ نوجوان 12 جون کو لاپتہ ہوئے تھے اور ان کے لیے فلسطینی علاقوں اور غربِ اردن کے اطراف میں بڑا سرچ آپریشن کیا گیا تھا

اسی بارے میں