’اسرائیلی کارروائی سے دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے طرفین پر زور دیا ہے کہ ’وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو‘

تین مغوی اسرائیلی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ حماس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی سے ’دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔‘

غرب اردن میں واقع اسرائیلی بستی کے قریب سے جون کے اوائل میں تین لاپتہ ہونے والے اسرائیلی نوجوانوں کی پیر کو ہیبرون کے قریب ہان حل سے لاشیں برآمد ہوئیں۔

اسرائیلی نوجوان حماس نے اغوا کیے: اسرائیل

حماس الفتح اتحاد کے خلاف اسرائیل کی تنبیہ

16 سالہ نافتالی فرینکل اور جیلاد شار اور 19 سالہ نوجوان آئل افراق کو آخری بار یروشلم اور ہیبرون کے درمیان واقع یہودی بستیوں کے ایک بلاک میں دیکھا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اس واقعے کے لیے حماس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جسے حماس نے مسترد کیا ہے۔

اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس شروع ہونے پر نتن یاہو نے کہا کہ ’جانوروں نے ان تین نوجوانوں کو اغوا کے بعد قتل کیا۔ انھوں نے عہد کیا کہ ’حماس اس کی قیمت ادا کرے گا۔‘

لیکن حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو ’دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔‘

دریں اثنا اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی اسرائیل میں راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر سو سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

اس سے پہلے اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی شین بیٹ نے کہا تھا کہ اس واقعے میں ملوث مرکزی مشتبہ دو افراد مروان قوازمیح اور امر ابو عیشی ہیں جو حماس کے ’آلہ کار ہیں۔‘

اس نے مزید کہا کہ فورینسک ٹیمیں متعلقہ علاقے میں ہیں اس واقعے میں ملوث ’تمام افراد کو گرفتار کرنے‘ کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

ان تین اسرائیلی نوجوانوں کے 12 جون کو اغوا کے بعد غربِ اردن میں فلسطینی قصبوں اور شہروں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا جس کے دوران 400 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ پانچ فلسطینی اسرائیلی فوج کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس’ کہانی‘ کو استعمال کر کے فلسطین کے خلاف جنگ کے لیے جواز پیدا کر رہا ہے۔

اپریل میں فلسطینی متحدہ حکومت کے قیام کے اعلان کے بعد یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعلقات میں پھر تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے نوجوانوں کی ہلاکت پر بحث کرنے کے لیے فلسطینی رہنماؤں کا ایمرجنسی اجلاس بلایا ہے۔

دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے طرفین پر زور دیا ہے کہ ’وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔‘

نتن یاہو ماضی میں بھی فلسطینی حکام کو اس قسم کی کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھہرا چکے ہیں، تاہم اس کے جواب میں فلسطینی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ لاپتہ ہونے والے لوگ ایک ایسے علاقے میں گم ہوئے جو مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔

اسی بارے میں