اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی بی سی کے کیون کنولی کہتے ہیں کہ کشیدگی کی صورت میں مصری انٹیلی جنس حکام اسرائیل اور حماس کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں

فلسطین میں غزہ کی پٹی کی سرحد پر فائرنگ کے تبادلے کے بعد اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہونے والا ہے۔

فلسطینی عسکری تنظیم حماس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ مصر کے انٹیلی جنس حکام نے اسرائیل اور حماس کے درمیان صلح کرائی ہے۔

حالیہ دنوں میں غزہ سے جنوبی اسرائیل میں متعدد راکٹ فائر کیے گئے جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی بمباری کی۔

حماس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس کے ساتھ ’قریبی رابطوں‘ کی وجہ سے مصری انٹیلی جنس حکام اسرائیل اور حماس کے درمیان صلح کرانے میں کامیاب ہوئے اور دونوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ حماس اسرائیل کی طرف سے فضائی حملے بند ہونے کی یقین دہانی کی شرط پر راکٹ حملے بند کرنے کے لیے تیار ہے۔

یروشلم میں بی بی سی کے کیون کنولی کہتے ہیں کہ کشیدگی کی صورت میں مصری انٹیلی جنس حکام اسرائیل اور حماس کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں۔

غزہ شہر میں بی بی سی کے نامہ نگار رشدی عبدالعوف کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ حماس اور مصر کے درمیان رابطوں کی وجہ سے حالات قابو میں آ گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جنوبی اسرائیل میں راکٹوں کے حملے بھی کم ہو گئے ہیں اور اسرائیل نے غزہ میں کوئی تازہ بم باری بھی نہیں کی ہے۔

دریں اثنا مشرقی یروشلم میں نوجوان ابوخضیر کے جنازے سے پہلے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔اس سے پہلے فلسطینیوں نے محمد ابوخضیر کے اغوا اور قتل کے خلاف دو دن تک جاری احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے دوران جھڑپیں ہوئیں۔

فلسطینیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ خضیر کا قتل تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کا بدلہ تھا جبکہ اسرائیلی حکام اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز 17 سالہ محمد ابوخضیر کے قتل کی فلسطینی اور اسرائیلی دونوں ہی حکام نے مذمت کی تھی۔

اس سے پہلے فلسطین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی سرحد پر اضافی فوج تعینات کر دی ہے۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ غزہ سے کیے جانے والے فلسطینی شدت پسندوں کے راکٹ حملوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں تین مغوی اسرائیلی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ حماس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی جبکہ حماس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی سے ’دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔‘

اسی بارے میں