امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان میں قتل کروانے پر سزا

Image caption پاکستان میں والدین کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کرنے پر قتل کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں

امریکہ کے شہر نیویارک کی ایک عدالت نے ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری کو اپنی بیٹی کے اپنی پسند کے مطابق شادی نہ کرنے اور اس کی امریکہ واپسی میں مدد دینے پر رشتہ داروں کے قتل کی سازش کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔

نیویارک کی ویڈرل بروکلین عدالت نے 61 سالہ ٹیکسی ڈرائیور محمد اجمل چوہدری کو بیرون ملک قتل کی سازش، ویزے میں فراڈ اور دھمکیاں دینے کے الزامات میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔

استغاثہ کے مطابق ملزم محمد اجمل چوہدری کی ہدایت پر اس کے رشتہ داروں نے اس کی بیٹی آمنہ اجمل کو زبردستی تین سال تک پاکستان سے امریکہ آنے نہیں دیا اور اس پر زور دیا گیا کہ وہ ایک شخص سے شادی کرے تاکہ اس کو امریکی ویزا ملنے میں مدد مل سکے۔

استغاثہ کے مطابق جنوری 2013 میں آمنہ اجمل اپنے کزن اور امریکی محکمۂ خارجہ کی مدد سےامریکہ واپس پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔

امریکی واپسی پر آمنہ نے اپنے والد کو اپنی رہائش وغیرہ کی معلومات فراہم نہیں کیں لیکن ریکارڈنگ فون کے ذریعے ان سے رابطہ کیا۔

فون پر ہونے والی اس گفتگو میں محمد اجمل چوہدری نے اپنی بیٹی کو واضح الفظ میں دھمکی دی کہ اگر وہ فوری طور پر بروکلین میں اپنے خاندان کے پاس واپس نہیں آئیں تو اس کے کزن کو قتل کر دیا جائے گا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق اجمل چوہدری نے 21 فروری کو فون پر کہا: ’جب تک میں تمہیں تلاش نہیں کر لیتا اس معاملے کو ختم نہیں کروں گا اور اس کے تمام خاندان کو مار دوں گا۔‘استغاثہ کے مطابق اس کے ٹھیک چار دن بعد پاکستان میں آمنہ کے کزن کے والد اور اس کی بہن کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا جبکہ ان کا ایک رشتہ دار زخمی ہو گیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اجمل چوہدری کا بھائی مقتولین کی لاشوں پر ایک بندوق کے ساتھ کھڑا تھا اور لاشوں کی بے حرمتی کر رہا تھا۔

اسی دن اجمل چوہدری نے اپنی بیٹی کو فون کیا اور کہا کہ وہ خاندان کے کسی بھی فرد کو زندہ نہیں چھوڑیں گے: ’میرا نام اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر داغ دار کیا جا رہا ہے کہ میری کوئی عزت نہیں ہے اور میری بیٹیاں بدتر ہیں، میں وقار کے ساتھ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔‘

بروکلین کے اٹارنی کے ایک ترجمان لوریٹا لینچ کے مطابق اجمل چوہدری کو بروکلین میں واقع ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا جبکہ پاکستان میں ان کے بھائی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکی۔ ترجمان کے مطابق اجمل چوہدری کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اجمل چوہدری کے وکیل فریڈرک سوسنسکی کے مطابق وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

انھوں نے کہا: ’میرا موکل اور اس کا خاندان آج کے فیصلے پر بہت افسردہ ہیں۔‘

اسی بارے میں