فلسطینی نوجوان کو’زندہ جلانے‘پر متعدد یہودی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خضیر کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ خضیر کا قتل تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کا بدلہ تھا

اسرائیل میں حکام نے فلسطینی نوجوان ابوخضیر کو ’زندہ جلانے‘ کے کیس میں کئی مشتبہ یہودیوں کو حراست میں لیا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ابوخضیر کو ان کی شہریت کی وجہ سے مارا گیا۔‘

دوسری جانب امریکہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی پولیس کی حراست میں ایک امریکی نوجوان کے پیٹے جانے کی خبر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ کو امریکی نوجوان پر تشدد پر تشویش

موبائل فون کے ذریعے بنائی گئی فوٹیج میں یہ نظر آ رہا ہے کہ ایک پولیس اہلکار نے پہلے طارق خضیر کے سر پر گھونسا مارا پھر اسے پکڑ کر لے گئے۔

اتوار کو طارق خضیر جب عدالت میں پیش ہوئے تو ان کے چہرے پر تشدد کے نشانات واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے۔

طارق خضیر فلسطین کے 16 سالہ لڑکے محمد ابو خضیر کا چچازاد بھائی ہے جسے اغوا کرنے کے بعد ہلاک کر دیاگیا تھا اور اس کے بعد اس علاقے میں پرتشدد واقعات شروع ہو گئے تھے۔

اتوار کو ایک جج نے طارق خضیر کو تفتیش مکمل ہونے تک گھر پر نو دن تک نظربند رکھنے کا حکم دیا ہے جبکہ پولیس حکام کے مطابق نوجوان طارق اُن لوگوں میں شامل تھا جو اسرائیلی حکام پر دھاوا بول رہے تھے۔

اتوار کو طارق خضیر جب عدالت میں پیش ہوئے تو ان کے چہرے پر تشدد کے نشانات واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔

ابوخضیر کی موت اور تشدد کے واقعات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابوخضیر کی موت کے بعد علاقے میں تشدد کے واقعات شروع ہو گئے تھے

اس سے پہلے سنیچر کو فلسطینی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ یروشلم میں ہلاک ہونے والے فلسطینی نوجوان ابوخضیر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے ’زندہ جلایا‘ گیا تھا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نوجوان ابوخضیر کی موت کی وجہ آگ سے جلنا بتائی گئی ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ 16 سالہ نوجوان ابوخضیر کی موت کن حالات میں ہوئی ابھی یہ واضح نہیں ہے۔

ابوخضیر کی موت تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا اور ہلاکت کے بعد ہوئی ہے۔

فلسطینی سرکاری خبررساں ایجنسی وفا نے اٹارنی جنرل کے حوالے سے کہا ہے ابو خضیر کی سانس کی نالی سے راکھ ملی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں زندہ جلایا گیا ہے۔

اطلاع کے مطابق محمد ابو خضیر 90 فیصد جھلس گئے تھے اور ان کے سر میں بھی چوٹ آئی تھی۔

پوسٹ مارٹم کی یہ رپورٹ سرکاری طور پر عام نہیں کی گئی ہے۔

خضیر کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ خضیر کا قتل تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کا بدلہ تھا۔

خصیر کی تدفین سے پہلے اور بعد میں مشرقی یروشلم میں سینکڑوں فلسطینی نوجوانوں کا اسرائیلی پولیس کے ساتھ تصادم ہوا اور پولیس نے اس دوران اشکبار گولوں کا استعمال کیا اور 20 سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

حالیہ دنوں میں غزہ سے جنوبی اسرائیل میں متعدد راکٹ فائر کیے گئے جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی بمباری کی۔

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق مصری عسکری خفیہ ایجنسی کے حکام اسرائیل اور غزہ پٹی میں حماس کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

غزہ شہر میں بی بی سی کے نامہ نگار رشدی عبدالعوف کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ حماس اور مصر کے درمیان رابطوں کی وجہ سے حالات قابو میں آ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جنوبی اسرائیل میں راکٹوں کے حملے بھی کم ہو گئے ہیں اور اسرائیل نے غزہ میں کوئی تازہ بمباری بھی نہیں کی ہے۔

اس سے پہلے فلسطین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی سرحد پر اضافی فوج تعینات کر دی تھی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں تین مغوی اسرائیلی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ حماس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی جبکہ حماس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی سے ’دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔‘

اسی بارے میں