امریکی سفارتکار کو بحرین چھوڑنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نقیب رجب کے مطابق ملکونسی کا دورہ تین دن تک متوقع تھا

خلیجی ملک بحرین میں حکام کے مطابق ایک امریکی سفارت کار کو حزب اختلاف کے شیعہ رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنے پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

امریکہ کے جمہوریت، حقوق انسانی اور مزدوروں کے شعبے کے نائب سیکریٹری خارجہ ٹم مالیناؤسکی اتوار کو بحرین پہنچے تھے۔

دورے کے دوران ٹم مالیناؤسکی نے الوفاق پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں اور بحرین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔

ریاست کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بی این اے کے مطابق ’مالیناؤسکی نے ایک مخصوص پارٹی کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کی جس سے دیگر جماعتوں کو نقصان پہنچا چنانچہ انھوں نے تعصب ظاہر کیا ہے جو کہ سفارتی روایات کے منافی ہے۔‘

حقوق انسانی کے ایک سرگرم کارکن نقیب رجب کے مطابق ملکونسی کا دورہ تین دن تک متوقع تھا اور اس میں انھوں نے الوفاق جماعت کے رہنماؤں اور سرکاری اہلکاروں سے ملاقاتیں کرنی تھیں۔

بحرین کی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کے بعد دونوں ممالک کے بہتر تعلقات کو حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے باہمی مفادات کے تعلقات پر کسی طرح بھی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

بحرین میں شیعہ اکثریت سنّی حکمرانوں سے ملک میں جمہوری اصلاحات اور شیعوں کے لیے مزید حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بحرین میں شیعہ مسلمانوں نے تیونس اور مصر میں حکومت مخالف احتجاج سے متاثر ہو حکومت مخالف مظاہرے شروع کیے تھے۔

14 فروری 2011 کو پرامن مظاہرین نے ملک کے علامتی چوک پرل پر قبضہ کر لیا تھا۔ تین بعد سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کر کے اس جگہ کو مظاہرین سے خالی کروایا لیا تھا۔

اس کے بعد بھی احتجاجی مظاہرے جا رہے اور حکومت نے درجنوں افراد کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے جبکہ زیرحراست افراد سے تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف وزریاں کی گئی تھیں۔

اسی بارے میں