غزہ کی پٹی پر زمینی حملہ بھی کیا جا سکتا ہے: اسرائیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2012 کے بعد اسرائیل کی جانب سے حماس کے خلاف یہ پہلا بڑا حملہ ہے

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر زمینی حملے سمیت تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ منگل کو اس نے غزہ کی پٹی میں 40 اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ دوسری جانب سے اسرائیل پر 40 راکٹ فائر کیے گئے۔

قبل ازیں اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے حماس کی جانب سے اپنی سرحد کے اندر متعدد راکٹ حملوں کے بعد غزہ کی پٹی میں ایک بڑا فضائی آپریشن شروع کیا ہے۔

اسرائیلی جہازوں نے رات بھر کم سے کم 20 اہداف کو نشانہ بنایا جن میں اطلاعات کے مطابق کم از کم 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

زخمی ہونے والوں میں ایک عورت اور دو بچے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے جواب میں فلسطین کی جانب سے مزید راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔

فلسطینی نوجوان کو’زندہ جلانے‘پر متعدد یہودی گرفتار

’ابوخضیر کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے‘

اسرائیل نے اپنی ریزرو فورس کے 1500 اہلکاروں کو طلب کر لیا ہے، اور غزہ کی سرحد کے ساتھ مزید فوج تعینات کر دی ہے۔ تاہم اسرائیلی کابینہ نے تاحال کسی زمینی کارروائی کی اجازت نہیں دی۔

اس سے پہلے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں میں نو فلسطینی عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے جواباً جنوبی اسرائیل پر راکٹ برسائے تھے۔

حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ راکٹ ’صیہونی جارحیت‘ کے جواب میں داغے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیلی کابینہ نے تاحال کسی زمینی کارروائی کی اجازت نہیں دی

اسرائیل نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے نو فلسطینی ہلاک کیے ہیں لیکن خبردار کیا ہے کہ حالات ’بگڑ‘ سکتے ہیں اور 1500 ریزرو فوجیوں کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان تازہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب تین اسرائیلی اور ایک فلسطینی نوجوان کی ہلاکتیں ہوئیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کو حماس کی جانب سے ایک گھنٹے میں 40 راکٹ داغے گئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ سات راکٹوں کو جنوبی شہر اشدود میں فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ پانچ راکٹ نتيفوت میں تباہ کیے گئے۔

اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی سے 40 کلومیٹر کے فاصلے میں تمام علاقوں میں سکول اور موسم گرما کیمپ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی مسلح شاخ نے کہا تھا کہ شمال میں رفح کے قریب ایک فضائی حملے میں ان کے چھ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ جبکہ غزہ سے اسرائیل پر کم از کم 20 راکٹوں حملوں کے جواب میں اسرائیل کی طرف سے فضائی کارروائی میں تین دیگر شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

خیال رہے کہ سنہ 2012 کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے اسلامی تنظیم حماس کے خلاف یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔

ایمرجنسی سروس کے حکام نے رفح میں اسرائیلی فضائی حملوں میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور چار دیگر افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ منہدم عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ ساتواں شخص ایک اور فضائی حملے میں ہلاک ہوا۔

اس سے پہلے مرکزی غزہ میں مہاجرین کے کیمپ پر ایک علیحدہ فضائی حملے میں دو دیگر فلسطینی عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملوں کے جواب میں کیے گئے اور ان حملوں میں ’شدت پسندوں کے ٹھکانوں‘ اور پوشیدہ راکٹ لانچروں کو نشانہ بنایا گیا۔

لیکن حماس کی مسلح شاخ عزالدین القسام بریگیڈ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل کو ان حملوں کی ’بڑی قمیت چکانی پڑے گی۔‘

کئی دنوں سے غزہ کی سرحد پر فریقین کے درمیان راکٹ حملے اور جوابی فضائی حملے ہوتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں