’میرا جہادی بیٹا‘

Image caption بات اس وقت بگڑی جب میرا بیٹا بیمار ہوگیا اور اسے فوج سے نکال دیاگیا: تیموراز باترشولی

اگرچہ عمر الشیشانی کو آج لوگ مشرق وسطیٰ کے ایک خطرناک جہادی کے طور پر جانتے ہیں، ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جو القاعدہ سے منسلک تنظیم داعش میں ایک بڑا کمانڈر بن چکا ہے۔

لیکن اس خطرناک جہادی کی ابتدائی زندگی بالکل مختلف تھی۔

عمر الشیشانی جب جارجیا کے ایک نہایت خوبصورت علاقے میں پرورش پا رہے تھے تو انھیں ہر کوئی صرف ان کے پیدائشی نام تارخان باترشولی کے نام سے جانتا تھا۔ اس وقت یہ گھرانہ بِرکیانی نامی گاؤں میں رہتا تھا جہاں عمر کے والد آج بھی ایک سادہ سے گھر میں رہتے ہیں۔ عمر کے والد عیسائی ہیں۔

عراق اور شام میں جہاد میں حصہ لینا شیشانی کے لیے بندوق اور جنگ کا پہلا تجربہ نہیں۔ اس سے پہلے وہ سنہ 2008 میں جارجیا کے فوجی کی حیثیت سے روس کے خلاف جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔

دھماکہ خیز ڈبہ

عمر کے والد تیموراز باترشولی کے بقول بات اس وقت بگڑی جب ان کا بیٹا بیمار ہوگیا اور اسے فوج سے نکال دیاگیا۔

والد کے مطابق فوج سے نکالے جانے کے بعد تارخان کو ملازمت ڈھونڈنے میں بہت مشکل ہو رہی تھی، اور پھر اسی دوران ایک دن ان کے گھر پر چھاپا پڑا اور تارخان کو گرفتار کر لیا گیا۔

’ایک دن میں گھبرا کے اُٹھ گیا۔ کوئی زور زور سے دروازہ پیٹ رہا تھا۔ وہ پولیس والے تھے۔ ہمارے گھر میں دروازے کے پاس، سیڑھیوں کے نیچے ایک بینچ پڑا ہوتا تھا۔ میں ہر روز اس بینچ کے پاس سے گزرتا تھا۔

Image caption جارجیا میں پانکسی کا علاقہ خبوصوری قدرت مناظر کے لیے مشہور تھا مگر اب یہ جہادیوں کا مسکن ہے

’ایک پولیس والے نے مجھے آواز دی اور میرے سامنے اس بینچ کے نیچے سے ایک ڈبہ نکالا جو بارود سے بھرا ہوا تھا۔ پولیس والے نے پوچھا: ’یہ کیا ہے۔‘ میں نے کہا مجھے نہیں پتہ، میں نے یہ ڈبہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

اس وقت مبینہ طور پر شیشانی کو بارود ذخیرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیاگیا۔

لیکن اس کے والد کا کہنا ہے کہ اُس وقت تک ان کے بیٹے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی لیکن جب اسے جیل بھیجا گیا تو وہ واقعی بدل گیا۔ جب رحم کی اپیل کے نتیجے میں اس کی قید میں کمی ہوگئی اور اسے جلدی رہا کر دیا گیا، تو اس کے بعد وہ سیدھا شام چلا گیا۔

تصویر حرام ہے

جیل سے واپسی پر ایک دن اس نے مجھ سے کہا: ’ابا، یہاں کسی کو میری ضرورت نہیں ہے۔‘

گھر سے جانے سے پہلے شیشانی نے اپنے نئے عقیدے کے مطابق گھر سے تمام تصویریں ہٹا دیں۔

’ میں نے اس وقت غور نہیں کیا، لیکن اس کے جانے کے بعد جب میں نے فیملی کی تصویریں دیکھنے کی غرض سے ایک البم کھولا تو دیکھا کہ اس میں کوئی تصویر نہیں تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمر الشیشانی کو لوگ مشرق وسطیٰ کے ایک خطرناک جہادی کے طور پر جانتے ہیں۔

مسٹر باترشولی نے مجھے بتایا کہ ان کا منجھلا بیٹا بھی شدت پسند ہو گیا ہے اور اس نے بھی اپنا ملک چھوڑ دیا ہے۔

’میرے تین بیٹے ہیں اور تینوں کے تینوں مسلمان ہو گئے ہیں۔ میں خود عیسائی ہوں اور چرچ بھی جاتا ہوں۔

’نہ تو میرے والد مسلمان تھے اور نہ ہی میرے دادا۔ ہم بھی مقدس مقامات پر عبادت کے لیے جاتے رہے، لیکن میرے تینوں بیٹے شدت پسند مسلمان تبلیغی بن چکے ہیں۔‘

جارجیا میں شیشانی کی جائے پیدائش (پانکسی ) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں عسکریت پسند سرگرم ہیں۔

مسٹر باترشولی کا خیال ہے کہ شیشانی کے شدت پسند ہونے میں غربت کا بھی کردار تھا۔

’جب آپ مجبور ہوتے ہیں تو سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اب وہ کہتا ہے کہ وہ مذہب کی وجہ سے ملک چھوڑ گیا، لیکن مجھے پتہ ہے کہ اس نے ایسا اس وجہ سے کیا کہ ہم غریب تھے۔‘

تاہم شیشانی کے والد نے تسلیم کیا کہ شیشانی کو وقت کے ساتھ ساتھ بدلنا ہی تھا: ’اب دولت اس کا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہ پیسے کے لیے کمانڈر نہیں بنا۔‘

تمام رابطے منقطع

مسٹر باترشولی کہتے ہیں کہ آج کل ان کا گزارہ پنشن پر ہوتا ہے اور اس کے علاوہ ان کا بڑا بیٹا چنگیز بھی ان کی مدد کرتا ہے جو گاؤں ہی میں رہتا ہے۔

گھر سے جانے کے بعد شیشانی نے اپنے والد سے صرف ایک مرتبہ فون پر بات کی تھی۔

’شیشانی نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی چیچن ہے۔‘ اس کا کہنا تھا کہ ’ابا، میری ایک بیٹی بھی ہے جس کی شکل آپ سے ملتی ہے۔ اس کا نام صوفیہ ہے۔‘

شیشانی نے اپنے والد سے پوچھا کہ آیا وہ اب بھی عبادت کرتے ہیں، جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی تک عیسائی ہیں اور چرچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد شیشانی نے فون بند کر دیا اور پھر دوباہ کبھی کال نہیں کی۔

شام میں جاری معرکے میں شیشانی کی کارکردگی کی وجہ سے پانسکی کے علاقے کے مذہبی لوگ انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مقامی لوگوں نے مجھے بتایا کہ علاقے کے کئی اور جوان بھی شیشانی کے نقش قدم پر یہاں سے جا چکے ہیں۔

مسٹر باترشولی کو اپنے گھرانے کی اس نئی بدنامی پر ملال ہے۔

’مجھے اس قسم کی شہرت کی کیا ضرورت تھی؟ میں سوچتا ہوں کہ شیشانی نہ جاتا تو اچھا ہوتا۔ پھر سوچتا ہوں کہ شاید شام جا کر لڑنا اس کی قسمت میں لکھا تھا۔‘

اسی بارے میں