غزہ: بڑھتا ہوا تناؤ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر اسرائیل کسی فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کارروائی کے مقاصد بالکل غیر واضح ہیں

اسرائیل کا اصرار ہے کہ وہ غزہ میں کسی قسم کی زمینی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن تمام آثار اس کی نفی کرتے ہیں اور لگتا یہی ہے زمینی کارروائی ہی اسرائیل کا اصل ارادہ ہے۔

آئندہ دنوں میں کیا ہونے والا ہے، اس کا کلی انحصار اس بات پر ہے کہ آج کیا ہو رہا ہے۔ یہ دیکھ کر کہ اسرائیل نے اپنے اضافی فوجیوں کو نقل و حمل کا اشارہ دے دیا ہے، ہو سکتا ہے کہ حماس کے فوجی کمانڈر بھی اپنے ارادوں پر نظر ثانی کریں اور اسرائیلی علاقوں میں راکٹ حملوں میں کمی کر دیں۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مصر اور دوسرے ممالک کی پس پردہ سفارتی کوششیں آخر کار بارآور ہو جائیں۔

اسرائیل کی جانب سے اپنے اضافی فوجیوں کو تیار رہنے کے اشارے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اب جنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔ سنہ 2012 میں جب آخری مرتبہ غزہ میں صورتِ حال خراب ہوئی تھی اور اسرائیل نے ’دفاع کا مینار‘ نامی آپریشن شروع کر کے غزہ کی سرحد پر فوجیں جمع بھی کر لی تھیں، تب بھی آٹھ دن کے اسرائیلی فضائی حملوں اور حماس کے راکٹ حملوں کے بعد دونوں فریق جنگ بندی پر متفق ہو گئے تھے اور اسرائیل کی بری فوج نے غزہ میں کوئی بڑی کارروائی نہیں کی تھی۔

سمجھ نہیں آ رہی کہ حالیہ تنازعے کو حد سے بڑھا کر فلسطینیوں کو حاصل کیا ہوگا؟ فلسطینیوں کو یہ ڈھول پیٹنے کا بڑا اچھا موقع مل جائےگا کہ وہ اسرائیلی فوج کے سامنے ڈٹ گئے تھے، لیکن یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ زمینی کارروائی میں نقصان فلسطینیوں کا ہی ہوگا، خاص طور عام شہریوں کا۔

مُبہم عزائم

اگر صورتِ حال مزید بگڑتی ہے تو اسرائیل کے لیے بھی اس میں بڑے خطرات ہیں۔ اگر اسرائیل کسی فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کارروائی کے مقاصد بالکل غیر واضح ہیں۔ اگر تو اسرائیل اپنے جنوب میں جاری شور شرابہ ختم کرنا چاہتا ہے، جسے اسرائیلی ’دفاع کو مضبوط‘ کرنےکا نام بھی دیتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل حماس کی عسکری صلاحیت کو نشانہ بنائے گا۔

اسرائیل حماس کی عسکری طاقت کو کس قدر تباہ کرنا چاہتا ہے، اس کا انحصار فوجی کارروائی کی مدت پر ہوگا۔

اور جہاں تک مدت کا سوال ہے تو یہ ظاہر ہے کہ اگر آپریشن ہوتا ہے تو وہ مختصر ہی ہوگا، خاص طور پر اس صوت میں کہ جب چیزیں ہاتھ سے نکل جائیں گی اور عام فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا۔

اگر آپ زمینی جنگ کے حوالے سے دیکھیں تو غزہ جہاز کے کاک پِٹ جیسی ایک چھوٹی سی جگہ ہے۔

غزہ میں بہت سے گنجان آبادی والے علاقے ہیں۔ اگر ہم ماضی کی مثال سامنے رکھیں تو اندازہ یہی ہے کہ اسرائیلی فوج ان گنجان محلوں کے اندر نہیں جائے گی اور اس کی کوشش یہی ہو گی کہ وہ ان راستوں اور بڑی سڑکوں کو نشانہ بنائے جہاں سے حماس کو مدد آتی ہے یا اسرائیل کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کی کوشش ہوگی کہ وہ ان مقامات کی مکمل صفائی کرے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حماس کے عسکری ٹھکانے ہیں۔

تلخ لڑائی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس تنازعے میں تمام بیرونی دنیاکی کوشش تو یہی ہے کہ معاملات قابو سے باہر نہ ہونے پائیں

اسرائیل کے حالیہ فوجی دعووں میں اہم بات وہ تفصیلات ہیں جس میں اس نے غزہ میں ان مخصوص مقامات اور افراد کی نشاندہی کی ہے جہاں سے حماس اسرائیل کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تفصیلات منظرعام پر لا کر اسرائیل حماس سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ ’ہم تمھارے بارے میں تمھارے اندازوں سے زیادہ جانتے ہیں۔ سوچ لو، کیا تم واقعی اس تنازعے کو زمینی جنگ تک لے جانا چاہتے ہو؟‘

سنہ 2012 کے آپریشن ’دفاع کے مینار‘ کے دوران دو اطراف نے زمینی جنگ سے پرہیز کیا تھا، لیکن اس کے برعکس جب سنہ 2008 میں اسرائیل فوج عزہ میں داخل ہوئی تھی تو اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے درمیان شدید زمینی جنگ ہوئی جو تین ہفتے تک جاری رہی تھی۔

قطع نظر اس بات کہ اسرائیل محض فضائی حملے کرتا ہے یا زمینی فوج بھی استعمال کرتا ہے، دونوں جانب عام شہریوں کے مارے جانے کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حماس بھی دُور تک مار کرنے والے ایسے میزائل استعمال کرنا شروع کر دے جو اسرائیل کے بڑی آبادیوں والے علاقوں تک مار کر سکتے ہیں۔

اس تنازعے میں تمام بیرونی دنیاکی کوشش تو یہی ہے کہ معاملات ہاتھ سے نہ نکلیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ گھڑی کی ٹِک ٹِک کو کون روکے۔

تیاری کے حکم کے بعد اضافی فوجی غیرمعینہ مدت تک ہاتہ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے۔

آگے کیا ہوگا، اس کا فیصلہ اسی پر ہے کہ غزہ سے پھینکے جانے والی راکٹوں کی قطار کتنی لمبی ہے۔

اسی بارے میں