شام میں قدیم عمارتوں کی تباہی

قلعہ الحصن‎ تصویر کے کاپی رائٹ APSA

شام میں ہزاروں تاریخی عمارتیں موجود ہیں لیکن وہاں جاری جنگ میں یہ ثقافتی ورثہ لوٹ مار اور تباہی کا شکار ہو رہا ہے۔

آثار قدیمہ کے ماہرین اور کارکن اپنے طور پر اس ثقافتی ورثے کو بچانے کے لیے جو کر سکتے ہیں وہ کر رہے ہیں اور اسے پہنچنے والے نقصان کو قلم بند کر رہے ہیں تاکہ یہ مکمل طور پر نیست و نابود نہ ہو جائے اور جنگ ختم ہونے کے بعد ان عمارتوں کی مرمت کا کام ممکن ہو سکے۔

انھوں نے ان عمارتوں کی کئی تصاویر کھینچی ہیں۔

مارچ میں شام کی فضائیہ نے حمص میں بارہویں صدی کے اس صلیبی قلعے الحصن‎ پر بمباری کی تھی۔

یہ قلعہ ایک اہم مقام پر واقع ہے۔ یہاں سے شام کے اندرونی علاقے سے ساحل کی طرف اور لبنان کی وادی بیکا کو راستہ جاتا ہے۔ شام میں جاری جنگ میں یہ قلعہ ایک اہم گڑھ ہے، بالکل اسی طرح جیسے یہ صلیبی جنگوں کے دوران ہوا کرتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ APSA

قلعے کے اندر ایک گنبد پر لاطینی زبان میں لکھا تھا: ’آپ کے پاس عزت، دانائی اور خوبصورتی ہو سکتی ہے لیکن یاد رکھیں کہ غرور ان تمام چیزوں کو ختم کر سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہاں سے باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے شام کی فضائیہ کے مِگ جنگی جہازوں سے بمباری کی گئی تھی، جس سے لاطینی زبان میں لکھا قول مکمل طور پر مٹ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ APSA

نومبر میں دارالحکومت کے شمال مشرقی علاقوں سے باغیوں نے مورٹر گولوں سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں آٹھویں صدی کی اس مسجد کا سامنے کا حصہ تباہ ہوگیا تھا۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے اس کی مرمت کر دی تھی۔

اسی مہینے میں دمشق کے قلعے کی مغربی دیوار میں ایک گولہ لگنے سے اس میں ایک میٹر چوڑا سوراخ ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ APSA

یہ قلعہ صلیبی جنگ کے دوران صلاح الدین ایوبی کا ہیڈکوارٹر ہوا کرتا تھا۔ اس قلعے کے 12 دفاعی گنبدوں میں سے زیادہ تر بارہویں صدی میں تعمیر کیے گئے تھے۔ اس قلعے کو حافظ الاسد کی حکومت 1985 تک بطور جیل استعمال کرتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ APSA

وسطی شام کے قدیم شہر تدمر میں فوج نے راکٹ لانچر نصب کر رکھے ہیں۔ شہر کے پس منظر میں ایک قلعے کی باقیات دیکھی جا سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ APSA

اس قدیم شہر میں قائم اس ٹیمپل آف بل کے دو ستون تباہ ہو چکے ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ میں اپنے دور کی ایک بہت اہم مذہبی عمارت تھی۔

یہاں پرگولہ باری سے نہ صرف تاریخی عمارتیں بلکہ کھجوروں، انار اور زیتون کے درختوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے مقامی لوگوں کا روزگار درہم برہم ہو گیا ہے۔

مزید شمال کی طرف جائیں تو آٹھویں صدی میں تعمیر کی گئی حلب کی تاریخی مسجد بھی جنگ کی زد میں آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے میناروں کی اونچائی باغیوں پر نظر رکھنے کے لیے اور نشانے بازوں کے لیے فائدہ مند تھی۔ یہ مینار مارچ 2013 میں گولہ باری کے نتیجے میں زمیں بوس ہوگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حلب یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے آثار قدیمہ کے طالب علموں نے اس مینار میں استعمال ہونے والا سنگِ سیاہ اور چونا پتھر محفوظ کر لیا ہے تاکہ جنگ کے ختم ہونے کے بعد اس کی ازسرِ نو تعمیر کی جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALAMY

حلب کے بازاروں کی تاریخ 13 صدیاں پرانی ہے، اور انھیں مشرق وسطیٰ کے بہترین بازار مانا جاتا تھا۔ یہاں نہ صرف بڑی تعداد میں سیاح آتے تھے بلکہ یہ بازار اس تجارتی شہر کا دھڑکتا دل بھی تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فری سیریئن آرمی سے تعلق رکھنے والے باغیوں نے اس قدیم بازار کے قریب ایک ہیڈکوارٹر قائم کیا تھا جس سے یہ بازار نشانے پر آگیا تھا۔ گولہ باری کے دوران بجلی کے ایک سٹیشن میں آگ لگنے سے اس بازار میں آگ بھڑک اٹھی جس سے چند گھنٹوں میں یہاں سب کچھ راکھ کا ڈھیر بن گیا اور 35 ہزار لوگوں کا کاروبار تباہ ہو گیا۔

حلب اور دمشق کے بعد شام کا تیسرا بڑا شہر حمص ہے جہاں فیکٹریاں اور تیل کے کارخانے ہیں۔ اس کا محلِ وقوع اسے بہت اہم بناتا ہے اور اسی وجہ سے اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فریقین میں شدید جنگ ہوئی ہے۔

حمص کے قدیم حصے پر شام کے کسی بھی شہر سے زیادہ فضائی بمباری ہوئی ہے۔ کئی قدیم عمارتیں جن میں چرچ اور خانقاہیں شامل ہیں، زمین پر ڈھیر ہوگئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ APSA

داعش نے اپنے ہیڈکوارٹر رقہ صوبے میں صوفیوں کے مزاروں اور شیعوں کے مقدس مقامات کے علاوہ کئی مجسمے بھی تباہ کیے ہیں۔

عراق پر 2003 کے امریکی حملے کے بعد اقوم متحدہ کی وہ قرارداد بہت سودمند ثابت ہوئی تھی جس کے تحت عراق سے حاصل ہونے والی نادر اور قدیم اشیا کو بیچنے پر پابندی تھی، لیکن شام کو یہ تحفظ حاصل نہیں ہو سکا۔ یونیسکو شام کے اندر شامی حکومت کی اجازت کے بغیر کام نہیں کر سکتا اور انھیں ابھی تک یہ اجازت نہیں ملی ہے۔

شامی اساتذہ، آثار قدیمہ کے ماہرین اور کارکنوں نے ان قدیم عمارتوں کے تحفظ کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لی ہوئی ہے۔ وہ اس نقصان کا ریکارڈ رکھ رہے ہیں اور جہاں ممکن ہو سکتا ہے وہاں ایسی عمارتوں کے آگے رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں تاکہ انھیں گولہ باری اور لوٹ مار سے بچایا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ APSA

حلب میں 13 ویں صدی کے اس مدرسے کے آگے اس کے تحفظ کے لیے دیوار تعمیر کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں