عالمی دباؤ کے خلاف مزاحمت کریں گے: اسرائیل

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption فلسطینی حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں سے بیشتر عام شہری ہیں

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری حملوں کو روکنے کے حوالے سے عالمی دباؤ کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو ہوگئی ہے۔

وزاتِ صحت کے حکام کے مطابق جمعے کو بریجی میں ایک کار کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا جس سے اس میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی حملوں کے جواب میں مزید راکٹ فائر

فلسطینی نوجوان کو ’زندہ جلانے‘پر متعدد یہودی گرفتار

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے مطابق غزہ میں منگل سے جاری آپریشن میں اب تک 1000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

’ میری امریکی صدر اوباما اور جرمنی چانسلر اینگلا مرکل سے ٹیلی فون پر بہت اچھی اور مثبت بات چیت ہوئی ہے لیکن ہمیں بین الاقوامی دباؤ طاقت کے استعمال سے نہیں روک سکتا ہے۔ ‘

حکام کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کے ساتھ ہی چار دن میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 100 ہوگئی ہے جبکہ اب تک 675 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جمعے کو دو ہلاکتوں سے قبل جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب رفح کے علاقے میں اسرائیلی حملے میں دو عورتوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ s
Image caption رفح کے علاقے میں اسرائیلی حملے میں دو عورتوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے

اس کے علاوہ رفح میں ہی ایک اور حملے میں ایک لڑکی جبکہ غزہ میں موٹرسائیکل پر بمباری سے ایک عسکریت پسند ہلاک ہوا۔

ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح اشدود میں ایک پیٹرول سٹیشن پر راکٹ گرنے سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

دریں اثنا امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیل نے منگل سے فلسطینی علاقے میں بمباری کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اب تک سینکڑوں حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کی جانب سے اس کی سرزمین پر راکٹ حملوں کا ردعمل ہیں لیکن راکٹ حملوں سے اسرائیل میں ایک بھی شخص کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے جمعرات کی شب اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے فون پر بات کی اور کہا کہ وہ اسرائیل اور غزہ میں حماس کے درمیان جنگ بندی کرانے کو تیار ہیں۔

صدر اوباما نے نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مسلح تصادم مزید پھیل سکتا ہے اور فریقین پر زور دیا کہ عام شہریوں کی جانوں کی حفاظت کی جائے اور امن قائم کیا جائے۔

دوسری جانب فرانسیسی اور روسی صدور نے بھی جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے اسرائیل اور فلسطین پر کشیدگی ختم کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’غزہ میں صورتِ حال تباہی کے دہانے پر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے تیار ہیں

انھوں نے خبردار کیا کہ ’یہ خطہ ایک اور مکمل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

بان کی مون نے کہا کہ ’بگڑتی ہوئی صورتِ حال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے،‘ اور ’تشدد پھیلنے کا خطرہ اب بھی حقیقی ہے۔‘

انھوں نے حماس سے اسرائیل پر راکٹ حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اسرائیل پر بھی قابو میں رہنے پر زور دیتے ہوئے اسے عام شہریوں کے تحفظ کا خیال رکھنے کا کہا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کے حملوں کا ہدف شدت پسند جنگجو، ان کے ٹھکانے، اسلحے کے ذخائر، راکٹ لانچر اور بارودی سرنگیں ہیں۔

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ اب تمام اسرائیلی ان کے نشانے پر ہیں اور اس نے اسرائیل پر مصر کی مدد ہونے والی اس صلح کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان سنہ 2012 میں ہونے جھڑپیں ختم ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں