وینزویلا: ہوائی اڈے پر سانس لینے پر ٹیکس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وینزویلا کی خراب معاشی صورتِ حال کی وجہ سے وہاں پر ٹکٹوں کی قیمتیں پہلے ہی زیادہ ہیں اور سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے اس ٹیکس پر غصے کا اظہار کیا ہے

وینزویلا کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر مسافروں کے سانس لینے پر فیس وصول کی جا رہی ہے۔

وینزویلا کے حکام کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جب بھی ہم فضائی سفر کرتے ہیں تو ہمیں نہ ختم ہونے والے ٹیکس اور اضافی سرچارجز ادا کرنے پڑتے ہیں جن میں مسافروں کا ٹیکس، اضافی ٹیکس اور ایندھن کے محصولات شامل ہیں۔

تاہم ماکویتیا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حکام ان سے ایک قدم آگے بڑھ کر اب مسافروں سے سانس لینے پر بھی 20 امریکی ڈالر لے رہے ہیں۔

وینزویلا کی پانی اور ہوائی ٹرانسپورٹ کی وزارت کی جانب سے شائع کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ہوائی اڈے کے ایئر کنڈیشنگ سسٹم پر آنے والی لاگت کو پورا کرنے کے لیے مسافروں سے فیس موصول کی جا رہی ہے۔

وینزویلا کی خراب معاشی صورتِ حال کی وجہ سے وہاں پر ٹکٹوں کی قیمتیں پہلے ہی زیادہ ہیں اور سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے اس ٹیکس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ریڈیو کے پیش کار ڈینیئل مارٹینز نے ٹویٹ کیا کہ کیا مجھے کوئی سمجھا سکتا ہے کہ ماکویتیا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یہ کیا چیز نافذ ہو رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ماکویتیا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ٹوائلٹوں میں پانی نہیں ہے، ایئرکنڈیشنر خراب ہے اور وہاں جگہ جگہ پر آوارہ کتے نظر آتے ہیں اس کے باوجود وہاں اوزون ٹیکس کا نفاذ کیوں کیا جا رہا ہے؟

اسی بارے میں