’غزہ میں زندگی جینا مشکل ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل فوج کے سرحد پر جمع ہونے کے بعد زمینی حملے کی خبریں گرم ہیں

غزہ پر اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد سو سے زائد ہو چکی ہے۔

اسرائیل نے منگل کو شروع کیے گئے آپریشن میں اب تک سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ ادھر غزہ سے بھی درجنوں راکٹ حملے کیےگئے ہیں۔ اس بگڑتی صورتحال پر اسرائیلی اور فلسطینی لوگوں نے اپنے خیالات بیان کیے ہیں۔

وسطی غزہ سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ الھيثم بیسائسو سول انجینئر ہیں:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

راکٹ حملوں کے بعد سڑکیں اب خالی ہیں۔ ہم نے سنا ہے کہ کل شاید زمینی حملہ ہو۔

یہ پانچ برس میں تیسری لڑائی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس مرتبہ اسرائیل کہ پاس کوئی واضح مقصد بھی نہیں ہے۔ وہ صرف عام شہریوں کو مار رہے ہیں اور گھروں کو نشانہ بن رہے ہیں۔ پہلی جنگ میں انھوں نے واضح طور پر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جبکہ دوسری جنگ میں انھوں نے اسلحے کے ذخائر کو ہدف بنایا۔

مغربی میڈیا اسے تین اسرائیلی طالب علموں کے قتل کا بدلہ قرار دے رہا ہے لیکن اس واقعے کی ذمہ داری کسی فلسطینی گروہ نے قبول نہیں کی۔ عموماً اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے تسلیم کرتا ہے۔ ہم نہیں جانتے ہیں در حقیقت کیا ہوا تھا۔ تاہم یہ سب ایک اجتماعی سزا جیسا ہے۔

میں نے یہاں مزاحمت کرنے والوں سے سنا ہے کہ اسرائیل اور غزہ ایک دوسرے کو کُچلنا چاہتے ہیں حالانکہ ہم کمزور فریق ہیں۔

یہاں رہنا خوفناک ہے۔ ہم محاصرے میں ہیں۔ ہم یہاں کوئی چیز درآمد نہیں کر سکتے۔ ہمیں صرف آٹھ گھنٹوں تک بجلی ملتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم کوئی چیز تعمیر نہیں کر سکتے۔ میں پیشے سے سوّل انجینیئر ہوں لیکن یہاں کوئی تعمیراتی مواد نہیں ہے۔ صنعت کاری تباہ ہو گئی ہے۔ زراعت بہت کم ہو چکی ہے۔ ہم اس طرح زندہ نہیں رہ سکتے۔

ہم پریشان ہیں۔ پہلی بار مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ زندگی جینے کے قابل نہیں ہے۔

ہمیں وقار کے ساتھ جینے کا حق ہونا چاہیے۔ دنیا کو ہماری مدد کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ امن عمل بہت مشکل ہے اور 20 برس سے بنا کسی حل کے جاری ہے۔ کچھ ہے جو ان کے درمیان حائل ہے، اگر مغرب چاہے تو کوئی راہ نکل سکتی ہے۔

شیمون بن شیلامی زلمان، یروشلم کے مغربی علاقے بیت شیمیش کے ایک کلرک:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسرائیلی بچے ایک سکول میں بموں سے محفوظ کمرے میں

یہاں پہلا حملہ پیر کو دس بجے ہوا اور کل بھی شام چھ بجے کے قریب دوبارہ ہوا۔ میں نے خلیجی جنگ دیکھی اور سنہ 1991 میں ہونے والے حملے دیکھے۔ لیکن میرے بچوں، 13 برس کی بیٹی اور گیارہ برس کے بیٹے کے لیے ایسی صورتحال میں رہنا مشکل ہے۔

انھوں نے یہاں رات سونے سے انکار کر دیا۔ ہمارے پاس فضائی حملے سے بچنے کے لیے کوئی ڈھال نہیں یا کوئی محفوظ کمرہ بھی نہیں ہے۔ وہ ہمسائے میں اپنے دوستوں کے ساتھ سوتے ہیں جن کے گھر میں محفوظ کمرہ ہے۔ محفوظ نہ ہونے کے سبب میری شادی شدہ بیٹی نے یہاں آنے سے منع کر دیا ہے، اس کا ایک بچہ بھی ہے۔

ہم رات کو جوتے اتار کر سونے سے پہلے سوچتے ہیں کہ کہیں آدھی رات کو اٹھ کر بھاگنا نہ پڑ جائے۔ سر پر لٹکتی خطرے کی تلوار سے ساتھ ہم رات کو سو نہیں سکتے۔

میں طبی سامان برآمد کرنے والے فیکٹری میں کام کرتا ہوں وہاں فضائی حملے کی صورت میں ردِعمل کی مشق کروائی گئی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ کسی بھی حملے کی آواز سن کر سیڑھیوں کے نیچے پناہ لیں لیکن میرے گھر میں سیڑھیوں کے پاس ایک بڑی شیشیے کی کھڑکی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہاں ایسا کرنا عقلمندی ہوگی۔

میں جانتا ہوں کہ ہماری فوج پیشہ ور ہے اور میں شکر گزار ہوں کہ وہ ہماری حفاظت کر رہی ہے لیکن ہم ان پر ہر چیز کے لیے انحصار نہیں کر سکتے۔ مجھے ان پر مکمل اعتماد نہیں ہے اور نہ ان کے فیصلوں پر۔

مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا جب شہری زخمی ہوتے ہیں خواہ وہ عیسائی ہوں، یہودی ہوں یا مسلمان۔ مجھے ان فلسطینیوں سے ہمدردی ہے جن کے بچے یہ سب برداشت کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے مجھے اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہر عام آدمی اس مسئلے کا حل چاہتا ہے لیکن شدت پسند لوگ اس کا پر امن حل نہیں چاہتے۔

23 سالہ دانیا انگریزی ادب کی طالبہ:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’میڈیا یہ نہیں دکھا رہے کہ اسرائیل کی فوج کتنے شدید حملے کرنے کی اہل ہے‘

غزہ میں زیادہ تر عمارتیں عام شہریوں کے گھر ہیں۔ ہم سچ میں سیز فائر چاہتے ہیں لیکن دونوں جانب سے۔

میڈیا دکھا رہا ہے کہ دنوں جانب سے حملے ہو رہے ہیں لیکن یہ نہیں دکھا رہے کہ اسرائیل کی جانب سے کتنے بڑے حملے ہو رہے ہیں اور اس کی فوج کتنے شدید حملے کرنے کی اہل ہے۔ جب وہ حملہ کرتے ہیں تو ہمارا بہت نقصان ہوتا ہے۔

سنہ 2009 میں ہونے والی لڑائی بدترین تھی لیکن کل بہت عرصے کے بعد دوبارہ ایسا لگا کے یہاں رہنا کتنا مشکل ہے۔

اسرائیلیوں نے ہماری ہمسائے میں ریکارڈیڈ پیغامات چھوڑے کہ وہ حملہ کرنے والے ہیں لہٰذا گھروں سے نکل جائیں۔ ہم خوفزدہ ہو گئے لیکن ہمیں بتایا گیا کہ وہ ایسا مسلسل کر رہے ہیں اس لیے ہم گھر پر ہی رہے۔

یہاں غزہ میں ہمیں اپنے گھروں کے دفاع کا حق حاصل نہیں اور اسرائیل اپنے دفاع کے لیے تمام حربے استعمال کر رہا ہے۔

سٹیفن چیلمز، اسرائیل اور برطانیہ کی دوہری شہریت کے حامل ہیں:

مجھے فلسطینوں کے نقصان پر افسوس ہے لیکن یہ سب فلسیطینوں کا قصور ہے کہ ہم فلسطینی بچوں کی لاشیں دیکھ رہے ہیں کیونکہ انھوں نے بچوں کو وہاں سے نہیں نکالا۔ اگر اسرائیل پر حملہ ہوتا ہے کہ تو وہ بچوں کو وہاں سے نکال دیتے ہیں لیکن عربوں کی جنگ اور تباہی والی ذہنیت ایسا نہیں کرتی۔

ان کا تعلیمی نظام انہیں یہ سکھاتا ہے کہ فلسطین کو آزاد کراؤ، سنی کو شیعہ سے لڑاؤ، اسرائیلی کو فلسطین کے خلاف لڑاؤ۔ وہ آئندہ نسل جنگجوؤں کی پیدا کر رہے ہیں اور لڑائی کو طوالت دے رہے ہیں۔

غزہ خوشحال ہو سکتا ہے یہاں چار فائیو سٹار ہوٹل ہیں اور بہترین ساحل بھی۔ یہاں بہت دولت ہے اور یہ لوگ سیاحتی مقام کے طور پر لبنان سے آگے نکل سکتے ہیں لیکن حماس کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ عورتیں اور بچے اس لیے مارے جا رہے ہیں کیونکہ وہ حماس کے کمانڈر کے ٹھکانوں کے قریب مقیم ہیں۔ اگر یہ کمانڈرز اسرائیل پر حملے جاری رکھیں گے تو ان پر بھی حملے ہوں گے۔

حماس اور فلسطینی انتظامیہ میں بھی کوئی اتفاق نہیں ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس تل ابیب کے ہسپتال میں علاج کروا رہے تھے اور حماس نے وہاں راکٹ حملے کیے۔

میرا نہیں خیال کہ اسرائیل زمینی حملہ کرے گا کیونکہ اس سے کافی مشکلات پیدا ہوں گی۔ ان لوگوں کو اپنی اور کسی کی بھی جان کی پرواہ نہیں ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شام اور عراق میں یہ اپنے ہی لوگوں کی جان لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں