ایسی بھی کیا جلدی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کنسنٹریشن کیمپوں کو جاتے یہودیوں پر جرمن نازی تالیاں بجاتے تھے ۔آج انھی یہودیوں کی چوتھی نسل پہاڑی پر رات کو کھڑے ہو کر غزہ پر گرتے بموں کی روشنی سے آتش بازی کا لطف اٹھا رہی ہے

سنہ اڑتالیس سے اب تک موت، سوگ، بے گھری، ملال اور ناامیدی کی ایک کروڑ پچپن لاکھ تیس ہزار چار سو انیس تصاویر تو شائع ہو ہی چکی ہوں گی۔ چار بڑی، تین چھوٹی اور دو اندرونی جنگیں بھی لڑ لی گئیں مگر مسئلہ حل نہیں ہوا۔

محمود درویش کے کلام میں بہت تاثیر سہی مگر مسئلہ حل نہیں ہوا۔

عرفات نے بندوق چھوڑ کے شاخِ زیتون تھام لی۔ عرفات حل ہوگیا مسئلہ حل نہیں ہوا۔

لگتا تھا اگر اکتالیس کلومیٹر طویل اور چھ تا بارہ کلومیٹر چوڑی دنیا کی سب سے بڑی اوپن جیل (غزہ) میں اٹھارہ لاکھ انسانوں کو ٹھونس دیا جائے تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔

کیا کہا؟ اٹھارہ لاکھ انسان؟ معاف کیجیے گا؟ میں نہیں چاہتا کہ غزہ یا پھر غرب ِ اردن یا پھر اردگرد کے ممالک میں پناہ گزین فلسطینیوں کو انسان کہنے سے کسی صیہونی قوم پرست کے جذبات کو ذرا سی بھی ٹھیس پہنچے۔ میری مراد ہے غزہ کی اٹھارہ لاکھ انسان نما مخلوق۔ اسرائیل میں فی مربع کلو میٹر تین سو بہتر انسان بستے ہیں اور غزہ کے پنجرے میں فی مربع کلومیٹر پانچ ہزار بیالیس انسان نما سانس لیتے ہیں۔ مسئلہ حل ہوجانا چاہیے تھا مگر حل نہیں ہوا۔

کبھی خیال آیا کہ ایک چوتھائی نئی دلی یا دس فیصد کراچی پر ایک ہفتے میں ایک ہزار فضائی حملے ہوں تو کیا ہوگا؟ غزہ کے ساتھ ہر دو چار سال بعد ایسا ہی ہوتا ہے ۔اب ان حملوں میں پانچ سو مریں کہ گیارہ سو کہ ڈھائی ہزار۔ بھیڑ بکریوں کا کیا حساب کتاب رکھنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک چوتھائی نئی دلی یا دس فیصد کراچی پر ایک ہفتے میں ایک ہزار فضائی حملے ہوں تو کیا ہوگا؟

میں بہت سے یہودیوں کے نام سنتا رہتا ہوں جو صیہونیت سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ کارتا جیوش اور نکوسا جیسی تنظیموں کے قدامت پسند یہودی علما غربِ اردن کے فلسطینی جلوسوں اور جنازوں میں مذمتی بینر پکڑے چلتے ہیں اور منی اسرائیل نیویارک کی سڑکوں پر بھی فلسطین سے ’غاصبانہ قبضہ ختم کرو‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔ لبرل اسرائیلی تنظیم جیوش وائس فار پیس کا تو منشور ہی یہی ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی، قومیں دو مستقبل ایک۔اور دو مرتبہ کے اسرائیلی رکنِ پارلیمان یوری ایونری کو کون پڑھنے لکھنے والا نہیں جانتا۔ ایونری صاحب گش شلوم تنظیم کے پلیٹ فارم سے اسرائیلی غاصبانہ ذہنیت کے خلاف اپنے مضامین کے ذریعے نوے برس کی عمر میں بھی آواز بلند کرنے سے باز نہیں آتے۔

اور غزہ کے حالات پر کوئی اچھی سی کتاب پڑھنی ہو تو سابق اسرائیلی فوجی گیدون لیوی کی ’دی پنشمنٹ آف غزہ‘ پڑھ لیں۔ اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ، غربِ اردن کے آباد کاروں اور جہادی یہودیوں کے لیے گدون لیوی ویسے ہی غدار ہیں جیسے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور انتہائی دایاں بازو اپنے سے مختلف سوچنے والوں کو لبرل سیکولر فاشسٹ اور غیر ملکی ایجنٹ کہتے ہیں ۔مگر اس سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوا۔

اگر حماس والے پانچویں جماعت کی کتابوں سے چرائے فارمولے کی مدد سے تیارکردہ ایک لاکھ کھلونا راکٹ بھی اسرائیل پر برسا دیں اور ہر کھلونا راکٹ کے بدلے اسرائیلی فضائیہ ایک سو فلسطینیوں کو مار بھی ڈالے تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

بھلے اسلامی کانفرنس اور عرب لیگ جیسی پارسا بیبیاں چپ رہیں کہ ٹسوے بہائیں، ازلی بیوہ اقوامِ متحدہ نیتن یاہو کے ہاتھ جوڑے کہ پاؤں پکڑ لے، عرب دور دور سے اسرائیل کو فحش اشارے کریں یا اپنا گریبان سی سی کے پھاڑتے رہیں، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فلسطین کے مسئلے سے اب تک 4 ملین بے گھر اور ڈیڑھ لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں

پہلے فوری نوعیت کا مسئلہ تو طے ہوجائے کہ اچھا مسلمان کون ہے کون نہیں ۔پہلے ہاتھ باندھ کے اور ہاتھ کھول کے نماز پڑھنے والوں کی آدم شماری اور صف بندی تو مکمل ہوجائے۔ پہلے یہ تو پتہ چل جائے کہ لڑنے کے لیے جذباتی مکہ موثر ہے کہ عقلی کلاشنکوف۔ پہلے یہ تو سمجھ میں آجائے کہ اسرائیل اور ابّا واشنگٹن کے بغیر مصر اور خلیجیوں سمیت جملہ ملت کا مادی و روحانی گذارہ ہے بھی کہ نہیں۔ پہلے یہ تو منکشف ہو جائے کہ کتنے مسلمان حکمران عرف گینگسٹرز فلسطین کو ایک سیاسی مہرہ اور مفاداتی خام مال سمجھتے ہیں اور کتنے صرف ایک کاز ۔

جلدی کیا ہے؟ ابھی چھیاسٹھ برس ہی تو ہوئے ہیں مرضِ ارضِ فلسطین کو۔ چار ملین ہی تو بے گھر ہیں۔ ایک ڈیڑھ لاکھ ہی تو مرے ہیں۔ ابھی تک چار نسلوں کے پیروں تلے ہی سے تو زمین نکلی ہے۔ ہاں جو مرگیا اس کا تو مسئلہِ فلسطین حل ہوگیا۔ زندوں کا بھی ہو ہی جائے گا ایک نہ ایک دن۔

جب گسٹاپو والے کنسنٹریشن کیمپوں کو جانے والی گاڑیوں میں ہانک ہانک کر یہودی بھرتے تھے تو خالص آریائی جرمن دو رویہ کھڑے تالیاں بجاتے تھے ۔اٹہتر برس بعد انھی مظلوموں کی چوتھی نسل سیدروت قصبے کی پہاڑی پر رات کو کھڑے ہو کر غزہ کے کنسنٹریشن کیمپ پر گرتے بموں کی روشنی سے آتش بازی کا لطف اٹھا رہی ہے۔ نازیت کوئی نظریہ تھوڑا ہے۔ ایک کیفیت ہے جو کسی بھی دور میں کسی بھی گروہ پر کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔ آپ اس کیفیت کو اپنی سہولت سے کچھ بھی کہہ لیں۔ کشور کشائی، ہوسِ ملک گیری، چنگیزیت، بربریت، اپار تھائیڈ، صیہونیت، کافریت، سامراجیت، نسلیت، فسطائیت، جنونیت ۔ کوئی بھی اچھا سا نام۔

اسی بارے میں