غزہ سے ہزاروں کی نقل مکانی، اسرائیلی فضائی حملوں کا دوبارہ آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کوئی اسرائیلی ہلاک نہیں ہوا ہے

اسرائیل نے شمالی غزہ میں بسنے والے فلسطینیوں کو اپنے گھر چھوڑنے کی تنبیہ کے بعد غزہ پر دوبارہ فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری جانب شمالی غزہ سے ہزاروں افراد کے نقل مکانی کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 17 ہزار افراد نے ان سے سہولیات مانگی ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 172 ہوگئی ہے جبکہ ان حملوں میں 1200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اب تک کوئی اسرائیلی ہلاک نہیں ہوا۔

ہلاک شدگان میں فلسطینی پولیس چیف کے خاندان کے 17 افراد بھی شامل ہیں جو سنیچر کی شام اسرائیلی میزائل حملے میں مارے گئے۔

اسرائیل کی جانب سے حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنائے جانے کے دعووں کے برعکس اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اندازاً ان حملوں میں ہلاک ہونے والے 77 فیصد افراد عام شہری تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جب سے اسرائیلی حملے شروع ہوئے ہیں اتوار کی صبح کے حملے سب سے تیز تھے

دریں اثنا اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ کو نشانہ بنائے جانے کی تنبیہ کے بعد وہاں سے ہزاروں فلسطینیوں نے نقل مکانی کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک چار ہزار افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دیگر مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔

اتوار کو دوہری شہریت کے حامل 800 فلسطینیوں نے اریز کی اسرائیلی کراسنگ سے غزہ چھوڑا۔

غزہ میں اسرائیل کی کارروائی اتوار کو چھٹے دن بھی جاری رہی اور اتوار کی صبح اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ کے سکیورٹی ہیڈ کوارٹر اور پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا گيا۔

بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک اتوار کی صبح کے حملے سب سے تیز تھے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے ساحلی علاقے میں ایک ایسے مقام پر زمینی کارروائی بھی کی جہاں سے مبینہ طور پر اسرائیل میں راکٹ پھینکے جا رہے تھے۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے جہاں سے میزائل داغا گیا تھا اس مقام پر حملے کے دوران اُس کے چار فوجی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ ساحل کے قریب اُس کی ایسی کوئی تنصیب موجود نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اندازاً ان حملوں میں ہلاک ہونے والے 77 فیصد افراد عام شہری تھے

اسرائیل نے حالیہ حملوں کے دوران اپنے کمانڈوز کی فلسطینی علاقے میں پہلی زمینی کارروائی سے قبل شمالی غزہ میں بسنے والے فلسطینیوں کو خبردار کیا کہ وہ فضائی حملوں سے قبل اپنے گھر چھوڑ دیں۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے بیت لاہیہ نامی شہر پر پمفلٹ گرائے ہیں جن میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کو کہا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے کے ترجمان کرس گنس نے کہا ہے کہ اتوار کی صبح ساڑھے دس بجے تک چار ہزار فلسطینیوں نے اقوامِ متحدہ کے آٹھ کیمپوں میں پناہ حاصل کی۔

ایک سکول میں قائم اقوام متحدہ کے کیمپ میں پناہ لینے والی ایک خاتون نے بتایا کہ اُنھیں اسرائیلی فورسز نے گھر چھوڑ دینے کو کہا تھا۔

برطانیہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سفیر منا الحسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے شہریوں کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حماس والے آبادی کا اہم حصہ ہیں اور وہ ہر جگہ سے مزاحمت کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طویل عرصے کے لیے اسرائیلی تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے: نتن یاہو

اُدھر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے کے لیے اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان آگال پالمر کا کہنا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری حماس کے کاندھوں پر ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کی شدید سفارتی کوششوں کے باوجود فریقین جنگ بندی پر راضی نہیں ہیں۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے مدیر جیرمی بوون کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ طرفین کسی قسم کی جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ عالمی دباؤ کے تحت رک جائے گی۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے منگل سے فلسطینی علاقے میں بمباری کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اب تک سینکڑوں حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کی جانب سے اس کی سرزمین پر راکٹ حملوں کا ردعمل ہیں لیکن راکٹ حملوں سے اسرائیل میں ایک بھی شخص کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں