’داعش سے سب خوفزدہ ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption داعش ایسی تنظیم نہیں جسے آسانی سے چھوڑا جا سکے

شدت پسند گروہ دولتِ اسلامی عراق و شام (داعش) نے مشرق وسطیٰ میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا ہے اور اسے اسلامی ریاست کا نام دیا ہے۔ بی بی سی ٹی وی کے پروگرام ’پینوراما‘ نے ایک ایسے شخص سے بات کی ہے جو اب داعش کو چھوڑ چکا ہے۔

داعش ایسی تنظیم نہیں جسے آسانی سے چھوڑا جا سکے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس نے داعش کو چھوڑ دیا ہے مگر وہ اس کے نتائج سے بے حد خوف زدہ ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ’داعش کے مظالم سے سب کو ڈر لگتا ہے۔ میرا خاندان، رشتے دار سب وہاں ہیں۔ مجھے ان کی فکر رہتی ہے۔ اگر داعش مجھ تک نہ پہنچ سکی تو میرے اہل خانہ تک ضرور پہنچ سکتی ہے۔‘

وہ ڈرا ہوا تھا اور ہمیں انٹرویو دینے کے لیے بہت دیر بعد رضامند ہوا۔ وہ ہم سے اس شرط پر بات کر رہا تھا کہ ہم اس کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔

اس نے اپنا چہرہ کیمرے کے سامنے ایک چادر سے چھپا لیا اور ہم نے اس کا نام نہ لینے کا وعدہ کیا۔ داعش کے جہادی عزائم کے بارے میں اُس کا کہنا تھا کہ ’ان کی رائے میں اگر آپ ان کے خلاف ہیں تو آپ کو قتل کر دیا جائے گا۔ اگر آپ ان کے ساتھ ہیں تو پھر ان کے لیے ہی کام کریں۔ آپ ہر حالت میں ان کی مرضی کے غلام ہیں۔‘

داعش کے تنظیمی امور کے بارے میں لوگ بہت کم جانتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ داعش نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام میں کسی بھی صحافی کو باغی سمجھ کر قید کر سکتے ہیں۔

شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر باغیوں کے ٹھکانے ہیں اور یہیں سے اسلحے کی ترسیل کی جاتی ہے۔ ترکی نے واضح کیا ہے کہ داعش کے لیے ترکی میں کوئی جگہ نہیں ہے اس لیے یہاں ایسے کئی لوگ ہیں جو داعش کو چھوڑ آئے ہیں۔

داعش چھوڑنے والے اس شخص نے پہلے شام کو آزاد کرانے کی کوشش کرنے والی اسلامی بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جب اس کے قبیلے نے داعش کی حمایت کا اعلان کیا تو وہ اس میں شامل ہو گیا کیونکہ وہ خود بھی اسلامی ریاست کے قیام میں یقین رکھتا تھا۔

داعش کے ایک جنگجو کی حیثیت سے اس کو پہلے حکم دیا گیا کہ وہ شریعت کی تعلیم حاصل کرے، مگر اس کا کہنا تھا کہ ’یہ شریعت اسلام سے متعلق نہیں تھی بلکہ یہ صرف (داعش کی) اسلامی ریاست کے اصول تھے۔ آپ کا دل انھیں مان سکتا ہے مگر آپ کا دماغ نہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں فوجی مشقیں اور تربیت ہوتی ہے۔‘

اس کا مزید کہنا تھا کہ داعش نے عراق میں امریکہ کے خلاف مہم سے سبق سیکھا ہے۔ اُس وقت انھوں نے سنی آبادی کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا مگر شام میں داعش نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے۔ پہلے داعش نے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھا اور ان کی مدد کی۔ اس وجہ سے لوگ ان کی طرف کھِنچے چلے آئے مگر پھر ان کا رویہ بدل گیا اور وہ کہنے لگے کہ یا تو تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف۔‘

داعش نے اپنے زیر انتظام تمام شہروں اور دیہات میں اپنی پسند کی شریعت نافذ کی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہاں لباس کے بارے میں بہت سختی تھی، مردوں پر داڑھی رکھنا واجب تھا اور عورتوں کو سختی سے پردے کے لیے کہا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر وہ چیز جو اُن کے اصولوں کے خلاف ہو وہ اُسے حرام سمجھتے ہیں اور ہر وہ شخص جو ان کے اصولوں کی خلاف ورزی کرے اُسے وہ کافر اور واجب القتل سمجھتے ہیں۔

اس شخص کا مزید کہنا تھا کہ داعش جان بوجھ کر ایسے لوگوں سے اپنا نظام رائج کرواتی ہے جو شام کے شہری نہ ہوں۔ اس کا کہنا تھا کہ ’داعش ایسے غیر ملکی نوجوانوں کو لاتی ہے جن کے ذہن کو وہ اپنے اصولوں پر ڈھال سکے اور اسی طرح وہ مختلف علاقوں پر اپنا قبضہ قائم کرتی ہے۔‘

داعش کے جہادی ایسا نظام چاہتے ہیں جو پیغمبر اسلام اور ان کے ساتھیوں کے دور کا تھا اور وہ قرآن کے لفظی معنی پر یقین رکھتے ہیں۔اس اسلامی ریاست کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے خود کو خلیفہ کہا ہے اور حکم دیا ہے کہ تمام مسلمان ان کی اطاعت کریں۔

اس بیان کی مختلف مذہبی رہنماؤں نے مذمت کی ہے۔ مگر البغدادی خاصے ہوشیار شخص ہیں۔ موصل سے آنے والی اطلاعات کے مطابق البغدادی شام میں ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے وہاں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو جائے۔

اس سلسلے میں سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں، بجلی کا نظام بحال ہو چکا ہے اور سرکاری اہلکاروں کو تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ اگر وہ ناکام رہے تو لگتا ہے کہ داعش ماضی کی طرح تلوار اور کوڑے کا سہارا لینے میں دیر نہیں لگائے گی۔

اسی بارے میں