شام: باغیوں کے علاقے میں امداد پہنچانے کی قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس قرارداد کی منظوری کے بعد 13 لاکھ افراد کو فوری امداد پہنچائی جائے گی

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس کے مطابق امدادی قافلوں کو شامی حکومت کی اجازت کے بغیر باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں جانے کی اجازت ہو گی۔

اب تک 90 فیصد امداد صرف حکومت کے کنٹرول والے علاقوں میں مقیم لوگوں تک پہنچائی جا رہی تھی۔

امید کی جارہی ہے کہ اس قرارداد کی منظوری کے بعد 13 لاکھ افراد کو فوری امداد پہنچائی جائے گی۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ شام کے اندر امدادی قافلوں کو تحفظ کون فراہم کرے گا۔

شام کی حکومت نے متنبہ کیا ہے کہ اس طرح امداد کی فراہمی کو قومی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کے نامہ نگار نِک برینٹ کا کہنا ہے کہ قرار داد اتنی مضبوط نہیں تھی جتنی کہ مغرب کو امید تھی اور اس کی وجہ روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیے جانے کا خطرہ تھا۔

اس قرارداد کے تحت چار سرحدی راستوں نے امداد شام میں پہنچائی جائے گی جن میں قافلے دو مقامات پر ترکی سے ایک عراق اور ایک اردن کی سرحد سے داخل ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق شام کی نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے

تینوں ہمسایہ ریاستوں میں چار سالہ شامی تنازع کے باعث بڑے تعداد میں مہاجرین بھی آباد ہیں۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ لیم ہیگ کے بقول اس سے بشارالاسد کی امدادی سامان کے راستوں پر اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کئی لاچار لوگ مکمل طور پر محصور ہیں کیونکہ حکومت ان کے خلاف فاقہ یا ہتھیار ڈالنے کا حربہ استعمال کر رہی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’سرحد پار سے امداد کی فراہمی کا سلسلہ بنا کسی تعطل کے شروع ہونا چاہیے۔‘

اسی اثنا میں یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ داعش کے جنگجوؤں نے باغیوں کے زیرِ اثر شہر دير الزور پر مکمل قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

اس گروہ نے حال ہی میں عراق کے شمالی شہروں اور قصبوں پر قبضہ کیا اور خلافت کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں