انگلینڈ میں خواتین پادریوں کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس ووٹ کی وجہ سے چرچ کا صدیوں پرانا اصول تبدیل ہو گیا ہے۔

چرچ آف انگلینڈ نے تاریخ میں پہلی بار خواتین کو ووٹ کے ذریعے بشپ بننے کی اجازت دی ہے۔ چرچ کے جنرل سائنوڈ کی تین تہائی اکثریت نے اس قانون کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

ہاؤس آف بشپ اور کلرجی سنہ 2012 میں اس بل کی حمایت کر چکا ہے مگر روایات پسند ارکان نے اس کی مخالفت کی تھی۔

آرچ بشپ آف یارک کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے نتائج کو سنجیدگی کے ساتھ سنا جائے مگر ان کے اعلان کے بعد موقع پر موجود لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہاؤس آف لائٹی میں قانون کے حق میں 152 اور مخالفت میں 45 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ ہاؤس آف بشپس میں 37 نے حق میں دو نے مخالفت میں جبکہ ایک رکن نے رائے کا استعمال نہیں کیا۔

اس ووٹ کی وجہ سے چرچ کا صدیوں پرانا اصول تبدیل ہو گیا ہے۔ اس سے بیس سال پہلے خواتین کو راہبہ بننے کا حق دیا گیا تھا۔

خواتین بشپس کی چرچ آف انگلینڈ میں تعیناتی اس سال کے آخر میں متوقع ہے۔ ووٹ سے قبل یونیورسٹی آف یارک میں طویل بحث ہوئی۔ اس قانون کو آرچ بشپ آف کنٹبری اور وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی حمایت حاصل تھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرچ بشپ ویلبی کا کہنا تھا کہ چرچ آف انگلینڈ کے موجودہ بشپ آنے والی خواتین بشپس کی مدد اور رہمنائی کے لیے کام کریں گے۔

وہ علاقے جو کسی عورت کو بحیثیت بشپ نہیں چاہتے ان کے پاس یہ حق ہو گا کہ وہ ایک مرد بشپ کو اپنے علاقے میں تعینات کروائیں۔

ایک اخبار سے منسلک روتھ گلیڈہل کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے۔‘ اور ٹوئٹر پر لکھتے ہوئے نائب وزیر اعظم نِک کلیگ نے آرچ بشپ ویلبی کے کام کو سراہا اور کہا کہ چرچ آف انگلینڈ کے لیے یہ ایک عظیم موقع ہے۔

اینگلیکن کومینین میں برطانیہ کے عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے سب سے زیادہ لوگ شامل ہیں اور اس کا اثر 160 دوسرے ممالک میں بھی ہے۔ امریکہ کی کچھ ریاستوں، کینیڈا ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ خواتین بشپ پہلے سے موجود ہیں۔

اسی بارے میں