چین: داڑھی والے دہشتگردوں سے خبردار رہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Liuzhou Laowai
Image caption ’دہشت گردی تمام انسانیت کی دشمن ہے‘

چین کے ایک جنوبی شہر میں دہشت گردوں کے بارے میں انتباہی پوسٹروں میں ’داڑھی والے‘ دہشت گردوں کی مدد کرنے والے شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے۔

یہ پوسٹر جنوب وسطی علاقے گوانگشی کے لیژو شہر میں عوامی مقامات پر دیکھے جا سکتے ہیں اور ایک مقامی بلاگر لیژو لاؤوائی نے ان کی نشاندہی کی ہے۔

بلاگر کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹر ’غیر مہذبانہ اور نسل پرستانہ‘ ہیں کیونکہ ان میں سنکیانگ صوبے کے اویغور افراد کا عام فہم تاثر بطور دہشت گرد دیکھایا گیا ہے۔ انھی افراد پر حال ہی میں چین میں متعدد حملوں کا الزام لگایا گیا ہے۔

ایک پوسٹر میں ایک پولیس والے کو تلواروں سے لیس دو دہشت گردوں کے مدِ مقابل دیکھا جا سکتا ہے جو ٹرین سٹیشنوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کی طرف اشارہ ہے۔ اس پوسٹر میں لکھا ہے کہ ’دہشت گردی تمام انسانیت کی دشمن ہے۔‘

ایک اور پوسٹر میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کے ملزمان کو ملک چھوڑنے میں مدد دینا جرم ہے۔ اس پوسٹر میں ایک فکرمند شہری کو پولیس کو فون کرتے دکھایا گیا ہے جب ایک منی بس کا مشکوک ڈرائیور چند مبینہ داڑھی والے دہشت گردوں سے پیسے لے رہا ہے۔

گوانگشی کے ہمسایہ علاقے گوانگ ڈونگ میں حکام نے حال میں دہشت گردوں کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے 80 ہزار امریکی ڈالر تک کا انعام رکھا تھا۔

چین میں اویغور افراد کی مسلح تحریک کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ حال میں انھوں نے ریلوے سٹیشنوں سمیت متعدد عوامی مقامات پر حملے کیے ہیں۔

اویغور افراد زیادہ تر مسلمان ہیں اور خود کو وسطی ایشیا سے قریب تر تصور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں ہان چینی افراد کی سنکیانگ میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر بھی اعتراض ہے۔

دوسری جانب بیجنگ کا کا کہنا ہے کہ اویغور دہشت گرد علیحدگی کی پرتشدد تحریک چلا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Liuzhou Laowai
Image caption ایک پوسٹر میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کے ملزمان کو ملک چھوڑنے میں مدد دینا جرم ہے

اسی بارے میں