حماس اور اسرائیل کی جنگ سوشل میڈیا پر بھی

Image caption اسرائیلی فوجی پروپگینڈا (بائیں) بمقابلہ حماس کا ٹوئٹر پر نشرکردہ کارٹون

اسرائیل اور غزہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان لڑائی کے ساتھ ساتھ دونوں اطراف سے سوشل میڈیا پر بھی دھواں دھار جنگ جاری ہے۔

ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب ایسی پوسٹوں سے اٹی پڑی ہیں جن میں فریقین کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر کے لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں فریق اپنے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں جدید ترین طریقے اور وسائل استعمال کر رہے ہیں۔

ہندسوں کی جنگ

آٹھ جولائی کو ’آپریشن دفاعی دھار‘ شروع کرنے کے بعد اسرائیلی فوج ہر روز ٹوئٹر پر درجنوں ٹویٹس کرتی ہے، جن میں بقول اس کے ’فوری معلومات اور تازہ ترین خبریں‘ فراہم کی جاتی ہیں۔

ان ٹویٹس میں غزہ سے کیے جانے والے راکٹ حملوں اور اسرائیل کے میزائل شکن دفاعی نظام ’آہنی گنبد‘ (Iron Dome) کی کارکردگی کے بارے میں اطلاعات نشر کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر:

’بریکنگ: آہنی گنبد نے ابھی ابھی عسقلان کے اوپر سات میزائل تباہ کر دیے ہیں۔‘

Image caption ٹویٹس میں غزہ سے کیے جانے والے راکٹ حملوں اور اسرائیل کے میزائل شکن دفاعی نظام ’آہنی گنبد‘ (Iron Dome) کی کارکردگی کے بارے میں اطلاعات نشر کی جاتی ہیں

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج ’راکٹ شمار‘ کے نام سے آپریشن کے بعد سے اب تک غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں کی تعداد بتاتی ہے۔

دوسری جانب حماس کا فوجی دھڑا عزالدین القسام بریگیڈ ٹوئٹر پر اسرائیلی حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں اور اپنے راکٹ داغنے کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ قسام بریگیڈ کے عربی اور عبرانی سمیت کئی زبانوں میں اکاؤنٹ موجود ہیں جن میں سے بعض کو بلاک کر دیا گیا ہے۔

StopIsrael، #Gaza# اور PrayForGaza# جیسے اکاؤنٹ فلسطینی شہریوں کی حالتِ زار کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔

بین الاقوامی جھکاؤ

Image caption اسرائیلی فوج اور حماس دونوں تباہی اور ہلاکتوں کی تصاویر نشر کرتے ہیں۔ حماس زیادہ واضح تشدد والی تصاویر پوسٹ کرتی ہے، جن میں بچوں کی خون آلود لاشیں بھی شامل ہوتی ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں میں مارے گئے ہیں

اپنی ٹویٹس میں اسرائیلی فوج گرافکس کی مدد سے یہ فرضی سوال کرتی ہے، ’تو پھر کیا ہو،‘ جس میں لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ فرض کریں کہ حماس آپ کے ملک میں ہو اور آپ کے شہروں پر راکٹ داغے تو کیا ہو۔

اس سلسلے میں اس نے امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں کے نقشے فراہم کیے ہیں جس میں ان ملکوں میں غزہ کی پٹی کی جانب سے لاحق خطرے کی نشان دہی کر کے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسرائیل کو کس خطرے کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج غیر متعلق مگر ٹوئٹر پر مقبول واقعات کے ہیش ٹیگ استعمال کر کے اپنے سامعین کی تعداد بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ مثال کے طور پر فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل کے دوران اس نے حماس کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹوں کی تعداد نشر کی اور ساتھ ہی کہا، ’اسے ری ٹویٹ کریں تاکہ #GER vs ARG سے لطف اندوز ہونے والے سبھی لوگ جان لیں۔‘

فٹبال کا ہیش ٹیگ استعمال کرنے کی وجہ سے اس ٹویٹ کے سامعین کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف واشنگٹن میں مواصلات کے پروفیسر فلپ ہاورڈ کہتے ہیں کہ حماس اور اسرائیلی فوج دونوں جانتے ہیں کہ ان کے ہمدردوں کی بڑی تعداد دوسرے ملکوں میں آباد ہے۔

انھوں نے کہا: ’ان کے سامعین کا بڑا حصہ صحافیوں پر مبنی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک اچھی ٹویٹ سے انھیں خبروں کی کوریج پر اثرانداز ہونے کا موقع مل جائے گا۔‘

پروفیسر ہاورڈ نے کہا کہ حماس دو وجوہ کی بنا پر سوشل میڈیا کے استعمال میں زیادہ مہارت دکھا رہی ہے۔ وہ مغرب کے میڈیا اور رہنماؤں تک پہنچنا چاہتی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ان نوجوان فلسطینیوں تک بھی رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے جو حماس کو اپنا واحد اور بہترین انتخاب نہیں سمجھتے۔

جوابی حملے

اسرائیلی فوج اور حماس دونوں تباہی اور ہلاکتوں کی تصاویر نشر کرتے ہیں۔ حماس زیادہ واضح تشدد والی تصاویر پوسٹ کرتی ہے، جن میں بچوں کی خون آلود لاشیں بھی شامل ہوتی ہیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ البتہ ان میں سے بعض تصاویر کی صداقت کے بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کیے گئے ہیں۔

حماس کی طرح اسرائیلی فوج بھی متعدد پلیٹ فارم استعمال کرتی ہے جن میں تصاویر شیئر کرنے والی ویب سائٹ فلکر بھی شامل ہے۔ بعض حالیہ تصاویر میں اسرائیلی شہریوں کو غزہ کی جانب سے راکٹ فائر کیے جانے کے بعد محفوظ جگہوں پر پناہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

خبردار

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسی دوران حماس نے پہلی بار اسرائیلی شہریوں کے لیے عبرانی اور عربی زبانوں میں ایک میوزک ویڈیو نشر کی ہے۔

اس ویڈیو میں حماس کے جنگجوؤں کو راکٹ بناتے اور فائر کرتے دکھایا گیا ہے اور اس کا مقصد اسرائیلی شہریوں کو اپنی حکومت کے خلاف کرنا ہے۔

اس کے علاوہ بعض خبروں کے مطابق حماس نے اسرائیل کی ڈومینو پیزا کمپنی کے فیس بک کے صفحے کو ہیک کر کے وہاں انگریزی، عربی اور عبرانی زبانوں میں یہ وارننگ نشر کی:

’آج ہم اسرائیل کے اندر دور تک حملہ کریں گے اور سات بجے سے تل ابیب، یروشلم، عسقلان پر دو ہزار سے زیادہ راکٹ برسائیں گے۔ اسرائیل کا خاتمہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ خبردار رہیں!‘

اسرائیلی فوج نے بھی کئی بار غزہ کے باسیوں کو خبردار کیا ہے۔ ایک حالیہ ٹویٹ میں اس نے لکھا: ’حملے سے قبل اسرائیلی فوج پرچیاں پھینکتی ہے، ذاتی فون کرتی ہے اور ایس ایم ایس بھیجتی ہے۔ کتنے جنگجو ایسا کرتے ہیں؟‘

اسی دوران حماس نے غزہ کے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غزہ میں راکٹوں کی تصاویر اور ویڈیو نشر نہ کریں، اور ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے ہمیشہ ’معصوم شہری‘ کا لفظ استعمال کریں۔ البتہ انھوں نے کہا ہے کہ ’زخمیوں کی تصاویر نشر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں