اسرائیل کا مشرقی غزہ کے رہائشیوں کو علاقے سے نکلنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنگ بندی کی کوشش کی ناکامی کے بعد غزہ پر اسرائیلی فضائی کارروائیوں میں شدت آئی ہے

اسرائیل نے مشرقی اور شمالی غزہ میں بسنے والوں ہزاروں فلسطینیوں کو اپنے گھر چھوڑنے کا حکم دیا ہے جبکہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری ہے۔

دریں اثنا فلسطینی حکام کے مطابق گذشتہ نو دن سے جاری اسرائیلی بمباری میں کم از کم 204 فلسطینی ہلاک ہو ئے ہیں جبکہ اس دوران ایک اسرائیلی بھی ہلاک ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج ریکارڈ کردہ ٹیلی فون پیغامات کے ذریعے غزہ میں رہنے والے تقریباً ایک لاکھ فلسطینیوں کو مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح آٹھ بجے سے پہلے پہلے اپنا گھر بار چھوڑ کر علاقے سے نکلنے کا کہہ رہی ہے۔

جنگ بندی ناکام غزہ پر اسرائیلی بمباری میں شدت

حماس اور اسرائیل کی جنگ سوشل میڈیا پر بھی

مصر کی طرف سے طرفین کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کی ناکامی کے بعد اسرائیل نے غزہ میں رہنے والوں کو یہ وارننگ جاری کی ہے۔

جنگ بندی کی کوشش کی ناکامی کے بعد غزہ پر اسرائیلی فضائی کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔ اسرائیل نے بدھ کی صبح مغربی غزہ میں حماس کے ایک سینیئر رہنما کے گھر کو بھی نشانہ بنایا۔ حماس کی سیاسی شاخ کے رہنما حمد الظاہر حملے کے وقت گھر پر نہیں تھے۔

اس سے پہلے منگل کو اسرائیل کے وزیراعظم بن یامن نتن یاہو نے کہا تھا کہ مصر کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود اسرائیل پر کیے جانے والے راکٹ حملوں کے بعد ان کے پاس فضائی حملے جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہزاروں افراد نے غزہ سے نقل مکانی کی ہے جبکہ اسرائیل نے سرحد کے ساتھ ہزاروں فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں

ادھر حماس کا موقف ہے کہ جنگ بندی کی شرائط غزہ کے معاشی محاصرے کے بارے میں حماس کے خدشات کو دور نہیں کرتیں کیونکہ اس محاصرے کی وجہ سے فلسطینیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسرائیل نے منگل کو مختصر وقفے کے بعد غزہ پر دوبارہ فضائی حملے شروع کیے۔اسرائیل نے غزہ میں حملے بند کرنے کے لیے مصر کی تجویز قبول کر لی تھی اور منگل کی صبح حملے روک دیے تھے لیکن اس دوران حماس کے راکٹ حملے جاری رہے جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر بمباری کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق حماس کے عسکری وِنگ نے اسرائیل کی جانب سے امن کی تجویز تسلیم کرنے کو اس کی کمزوری گردانتے ہوئے اسے ’شکست‘ سے تعبیر کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامن نتن یاہو نے منگل کی شام کہا تھا کہ ’حماس نے لڑائی کا انتخاب کیا ہے اور اب وہ اپنے فیصلے کی قیمت ادا کریں گے۔ جب فائربندی نہیں ہوگی تو ہمارا جواب فائر (حملہ) ہوگا۔‘

مصر نے غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان ایک ہفتے سے جاری سرحد پار حملوں کو روکنے کے لیے جنگ بندی کروانے کی پیش کش کی تھی۔

پیش کش میں کہا گیا تھا کہ منگل کی صبح سے جنگ بندی کی جائے جس کے بعد قاہرہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں دونوں جانب سے وفود شریک ہوں۔

حماس کے ترجمان فوذی برہوم کا کہنا تھا: ’کسی بھی معاہدے تک پہنچے بغیر سیز فائر مسترد کیا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران آپ پہلے سیز فائر اور پھر مذاکرات نہیں کرتے۔‘

ادھر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین چوتھائی سے زیادہ عام شہری ہیں۔ اس کے مطابق ان حملوں میں 1400 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ حماس کی جانب سے داغے گئے راکٹوں سے چار اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔

ہزاروں افراد نے غزہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ اسرائیل نے سرحد کے ساتھ ہزاروں فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔

غزہ میں حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے الجزیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ حماس نہ صرف اس لڑائی کا خاتمہ چاہتا ہے بلکہ اسرائیل کی جانب سے اس محاصرے کا بھی خاتمہ چاہتا ہے جس نے غزہ میں زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’غزہ کی حقیقت فاقہ کشی اور بمباری ہے۔ یہ محاصرہ ختم ہونا چاہیے اور غزہ کے لوگوں کو وقار کے ساتھ رہنے دیے جانا چاہیے۔‘

اسرائیل نے اس وقت غزہ کا محاصرہ کیا تھا جب امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم حماس نے سنہ 2007 میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ غزہ سے اس کے شہروں پر راکٹ حملے بند کر دیے جائیں۔

اسی بارے میں