بی بی سی اردو کے پروگرام جہاں نما کو بند کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بی بی سی نیوز کے شعبے میں تقریباً 8400 ملازمین کام کرتے ہیں

بی بی سی کے نیوز گروپ نے اعلان کیا ہے کہ خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے موجودہ پروگراموں میں کٹوتیوں کے ذریعے ملنے والی رقم کو دورِ جدید کے ذرائع ابلاع پر خرچ کیا جائے گا اور بی بی سی اردو سروس کا پروگرام جہاں نما بھی اِسی منصوبے کے تحت بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نیوز گروپ نے جمعرات کو آئندہ تین سالوں کے لیے بچت کے نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم بی بی سی اردو کے پروگرام جہاں نما کی بندش کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اسی سلسلے میں بی بی سی کے ڈائریکٹر نیوز جیمز ہارڈنگ نے اعلان کیا ہے کہ بی بی سی کا نیوز ڈیپارٹمنٹ 415 ملازمتوں کی کٹوتی کرے گا۔

یہ اعلان بچت کے اس پروگرام کے تحت کیا جا رہا ہے جس میں بی بی سی کو 2010 میں لائسنس فیس منجمد کیے جانے کے بعد 80 کروڑ پاؤنڈ کی لازمی بچت کرنا تھی۔

توقع ہے کہ حالیہ کٹوتیوں سے سالانہ چار کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ کی بچت ہو گی۔

بی بی سی نیوز میں فی الوقت 8400 کے قریب افراد کام کرتے ہیں، جن میں سے پانچ ہزار صحافی ہیں، جو لندن، برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔

ڈائریکٹر آف نیوز نے خبروں کے شعبے میں بڑی پیمانے پر انتظامی تبدیلیوں کا منصوبہ بھی پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی بی سی اس ڈیجیٹل دور میں نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا بھر میں خبریں پیش کرنے میں سرِفہرست ہے۔

اس منصوبے کے تحت 195 نئی ملازمتیں تخلیق کی جائیں گی، جس کا مطلب ہے کہ مجموعی طور پر 220 کل وقتی ملازمتوں میں کٹوتی ہو گی۔

جیمز ہارڈنگ نے کہا کہ بی بی سی کے سالانہ اخراجات کا 70 فیصد حصہ عملے کی مد میں جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بچت کے پروگرام کا اثر ناگزیر طور پر اس شعبے پر ہو گا۔ ’یہ غیریقینی تبدیلی کا صبرآزما وقت ہے۔‘

بی بی سی نیوز کے شعبے میں 13-2012 میں بھی 140 ملازمتوں کی کٹوتی کی گئی تھی، جب کہ گذشتہ برس مزید 75 ملازمتیں ختم کی گئی تھیں۔

اس تازہ اعلان سے عملے میں بےچینی متوقع ہے، جنھوں نے پہلے ہی تنخواہوں کے معاملے پر تنازعے کے تحت اگلے ہفتے 12 گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔

اگر یہ ہڑتال معینہ وقت پر ہوئی تو اس سے 23 جولائی کو ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب کی کوریج متاثر ہو گی۔

نیشنل یونین آف جرنلسٹس نے کہا ہے کہ گذشتہ پانچ برس میں بی بی سی کے صحافیوں کی تنخواہوں میں دس فیصد کمی واقع ہوئی ہے، اور یہ کہ مینیجروں کی تنخواہوں اور مراعات پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں