’اسرائیل غزہ میں زمینی کارروائی وسیع کرنے کو تیار ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 230 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے جنگجوؤں کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کا دائرہ ’بڑے پیمانے پر وسیع‘ کرنے کو تیار ہے۔

ادھر حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر حملے کی ’بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ شب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے اپنی فوج کو غزہ میں زمینی کارروائی کے آغاز کا حکم دے دیا۔

غزہ پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے آٹھ جولائی سے جاری ہیں۔ گذشتہ روز اسرائیل نے صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ غزہ کے رہائشی اپنے لیے خوراک اور دوسرا ضروری سامان ذخیرہ کر لیں۔

اسرائیل کی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ دس روز سے جاری آپریشن پروٹیکٹیو ایج میں توسیع کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حماس کی جانب سے راکٹ حملے جاری رہنے کے جواب میں کیا گیا ہے۔

ایک بیان میں اسرائیل کی دفاعی فورسز نے کہا ہے کہ ’دس روز سے حماس کی جانب سے خشکی اور سمندر سے کیے جانے والے راکٹ حملوں اور صورتحال کو بہتر کرنے کی کوششوں سے مسلسل انکار کے بعد غزہ میں زمینی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق ان حملوں میں غزہ میں 1370 گھر تباہ ہوئے اور 18000 لوگ بےگھر ہو گئے ہیں

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس زمینی کارروائی کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں اسرائیلی شہری محفوظ زندگی گزار سکیں جس میں سلامتی کا کوئی خطرہ نہ ہو۔‘

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 230 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

بدھ کو غزہ کے ساحل پر فٹ بال کھیلنے والے بچوں پر کیے گئے حملے میں کم سے کم چار بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے آٹھ جولائی سے جاری کارروائی میں غزہ پر 1960 فضائی حملے کیے ہیں۔ جبکہ جواباً غزہ سے 1380 راکٹ داغے گئے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ان حملوں میں غزہ میں 1370 گھر تباہ ہوئے اور 18000 لوگ بےگھر ہو گئے ہیں۔