’اسرائیل، حماس نے جنگ بندی کے معاہدے کی تردید کردی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل نے آٹھ جولائی سے فلسطینی علاقے میں بمباری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اب تک سینکڑوں حملے کیے جا چکے ہیں

اسرائیل کی دفترِ خارجہ اور حماس نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی حکام نے کہا تھا کہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس پر مقامی وقت کے مطابق جمعے کی شام چھ بجے سے عمل درآمد شروع ہو گا۔

البتہ حماس نے تردید کی ہے کہ مصر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران کوئی معاہدہ طے پایا ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کوششیں جاری ہیں۔

اس سے قبل اسرائیل کی سکیورٹی افواج نے کہا تھا کہ حماس نے ’انسانی بنیادوں پر جنگ بندی‘ کے دوران غزہ سے اسرائیل پر تین مارٹر داغے ہیں۔

حماس اور اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کو خوراک ذخیرہ کرنے کی مہلت دینے کے لیے پانچ گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے متنبہ کیا تھا کہ اگر جنگ بندی کے دوران اس پر حملہ کیا گیا تو وہ ’فوری جواب‘ دے گی۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اب تک غزہ کے 213 باشندے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حماس نے اس دوران 1200 راکٹ داغے جن میں ایک اسرائیلی ہلاک ہوا۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ اس کارروائی کا مقصد اسرائیل پر فلسطین کی جانب سے ہونے والے راکٹ حملوں کو روکنا ہے لیکن اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں مارے جانے والے افراد میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ جب اسرائیل کی دفاعی افواج نے فائرنگ روکی تو اس کے فوراً بعد غزہ سے تین مارٹر داغے گئے جس کی وجہ سے ایشکول کی علاقائی کونسل متاثر ہوئی۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے آٹھ جولائی سے فلسطینی علاقے میں بمباری کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اب تک سینکڑوں حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کی جانب سے اس کی سرزمین پر راکٹ حملوں کا ردعمل ہیں لیکن راکٹ حملوں سے اسرائیل میں ایک بھی شخص کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں