روس نواز باغی طیارے کی جائے حادثہ تک رسائی دیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ جس جگہ یہ جہاز گرا ہے وہ روسی سرحد سے زیادہ دور نہیں ہے

مشرقی یوکرین کے روس نواز جنگجو، بین الاقوامی تفتیش کاروں کو اس جگہ تک رسائی دیں گے جہاں ملائیشیا ائیرلائن گر کر تباہ ہوا تھا۔

یورپ کی سلامتی اور تعاون کی تنظیم نے کہا ہے کہ باغیوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جائے حادثہ کو محفوظ بنا کر وہاں سے لاشیں نکالنے کی اجازت دیں گے۔

اس سے قبل ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے کہا کہ مشرقی یوکرین میں مسافر طیارے کے گرنے سے انھیں ’شدید دھچکہ‘ لگا ہے۔

نجیب رزاق نے کہا کہ یہ ملائیشیا کے لیے ایک ’المناک سال‘ میں ’المناک دن‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تفتیش میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔

یاد رہے کہ جمعرات کی شب ملائیشیا کا ایک مسافر بردار طیارہ مشرقی یوکرین میں گر کر تباہ ہو گیا ہے جس میں 295 افراد سوار تھے۔ خدشہ ہے کہ طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔

طیارے کا ملبہ اور لاشیں باغیوں کے زیرِ قبضہ گاؤں گرابوو میں بکھری ہوئی ہیں۔

ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 17 ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی اور تباہ ہونے سے قبل سے روسی سرحد میں داخل ہونے والی تھی۔

یوکرین کے صدر نے طیارے کی تباہی کو ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔ اسی علاقے میں اس سے پہلے علیحدگی پسندوں نے یوکرینی فوج کے دو جہاز مار گرائے تھے۔

یوکرین میں حکومت اور باغی دونوں ہی ایک دوسرے پر مسافر طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے کا الزام عائد کر رہے ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جہاز کے تباہ ہونے کی کیا وجہ تھی۔

ملایشین ایئر لائن کے یورپ میں چیف نے ایک نیوز کانفرنس میں مسافروں کی تفصیلات بتائیں۔

جہاز میں سوار مسافروں میں 154 ڈنمارک کے باشندے، 27 آسٹریلین، 11 انڈونیشین، 23 ملائیشین، چھ برطانوی، چار جرمن، تین فلپائنی اور ایک کینیڈا کا باشندہ تھا۔ عملے کے 15 افراد کا تعلق ملائیشیا سے تھا۔

دنیا کی بڑی ائیر لائنوں نے مشرقی یوکرین کے اوپر پرواز سے اجتناب کرنا شروع کر دیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ روس کی ایمرجنسی سروس نے یوکرین کی حکومت سے حادثے کے مقام پر امدادی کارروائیاں کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملائیشیا ایئر لائن کے بوئنگ 777 پر 280 مسافر اور 15 جہاز کے عملے کے افراد سوار تھے

ملائیشیا کے صدر نجیب رزاق نے اس واقعے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ جہاز کی تباہی ایک ’خوفناک المیہ‘ ہے، اور امریکی حکام اس بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں کہ آیا اس جہاز میں کوئی امریکی بھی سوار تھا یا نہیں۔

امریکی صدر نے جہاز کے حادثے کے بارے میں روسی صدر ولادی میر پوتن سے بھی بات کی۔

امدادی کارکنوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حادثے کے مقام سے 100 لاشیں ملی ہیں۔ جہاز کا ملبہ 15 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

یوکرین اس سے پہلے بھی روسی فوج پر باغیوں کو جدید میزائل فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔

ملائیشیا ایئر لائن کے بوئنگ 777 پر 280 مسافر اور 15 عملے کے ارکان سوار تھے۔

واضح رہے کہ رواں برس آٹھ مارچ کو ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 370 کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئی تھی اس میں 239 افراد سوار تھے۔

بحیرۂ جنوبی چین پر پرواز کرتے ہوئے اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا تھا۔ ملائیشیا کے حکام کے مطابق سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز اپنے مقررہ راستے سے ہزاروں کلومیٹر دور جنوبی بحر ہند میں کہیں گر کر تباہ ہوا۔

اس حادثے کے تفتیش کاروں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ ایم ایچ 370 ملائیشیا اور ویت نام کے درمیان بحیرۂ جنوبی چین کی حدود میں لاپتہ ہونے کے بعد اپنے متعین راستے سے اتنا دور کیوں چلی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امدادی کارکنوں کے مطابق حادثے کے مقام سے 100 لاشیں ملی ہیں اور جہاز کا ملبہ 15 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے

اسی بارے میں