’ملائشین طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی کارکنوں نے جمعے کو کئی کلومیٹر پر پھیلے ہوئے طیارے کے ملبے کی تلاش کے دوران طیارہ کا بلیک باکس ڈھونڈ نکالا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یوکرین میں تباہ ہونے والے ملائشیا ائیر لائنز کے طیارے ایم ایچ 17 کو یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

صدر اوباما نے جمعے کو کہا کہ یوکرین میں روس نواز باغیوں کو روس کی طرف سے طیارہ شکن ہتھیاروں سمیت مسلسل دیگر امداد ملتی رہی ہے۔

انھوں نے طیارہ مار گرانے کے واقعے کو ناقابلِ بیان اور اندوہ ناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا طیارے پر سوار مسافروں کا یوکرین میں جاری کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ملائشیا ایئرلائن کا طیارہ تباہ: تصاویر

براک اوباما نے یوکرین میں فوری جنگی بندی کا مطالبہ کیا تاکہ وہاں طیارہ تباہ ہونے کے واقعے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات ہوں۔

دریں اثنا ملائشیا کی فضائی کمپنی کی پرواز ایم ایچ 17 کی تباہی کی تحقیقات کرنے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم مشرقی یوکرین میں باغیوں کے اجازت دینے کے بعد جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہے۔

30 ماہرین پر مشتمل یہ ٹیم ہیلی کاپٹر کے ذریعے گرابوف پہنچی جہاں یہ طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا جس میں 298 افراد سوار تھے۔

یوکرین کی خانہ جنگی میں فریقین نے ایک دوسرے پر اس طیارے کو میزائل کے ذریعے مار گرانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے نیویارک میں ایک ہنگامی اجلاس شروع کر دیا ہے۔

قبل ازیں یورپ کی سلامتی اور تعاون کی تنظیم نے کہا تھا کہ باغیوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جائے حادثہ کو محفوظ بنا کر وہاں سے لاشیں نکالنے کی اجازت دیں گے۔

باغی بین الاقوامی تفتیش کاروں اور یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے نگران اہلکاروں کو جائے وقوعہ تک ’بحفاظت رسائی‘ دینے اور یوکرینی حکام سے تعاون کی ضمانت بھی دیں گے۔

یوکرین نے اس علاقے کو ’نو فلائی زون‘ قرار دے دیا ہے جبکہ دیگر ایئرلائنوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پروازیں مشرقی یوکرین کے فضائی راستے سے ہو کر نہیں جائیں گی۔

امدادی کارکنوں نے جمعے کو کئی کلومیٹر پر پھیلے ہوئے طیارے کے ملبے کی تلاش کے دوران طیارہ کا بلیک باکس ڈھونڈ نکالا ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کی شب ملائشیا کا ایک مسافر بردار طیارہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 295 افراد سوار تھے۔ خدشہ ہے کہ طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والے مسافروں میں مشہور ولندیزی محقق یوئپ لانگ بھی شامل ہیں جو آسٹریلیا میں ایڈز پر ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے

یوکرین میں حکومت اور باغیوں دونوں نے ایک دوسرے پر اس طیارے کو میزائل مار کر گرانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

ملائشیا کی پرواز ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی اور تباہ ہونے سے قبل روسی سرحد میں داخل ہونے والی تھی۔ یہ بوئنگ 777 جہاز لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے علاقے کے درمیان گر کر تباہ ہوا۔

یوکرینی صدر

جمعرات کو یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے یوکرین کی حدود میں اس طیارے کی تباہی کو حادثے کے بجائے ’دہشت گردی‘ کا واقعہ قرار دیا تھا۔ یوکرین کے باغیوں کے رہنماؤں نے ان پر طیارے کو مار گرانے کے الزامات کی تردید کی ہے تاہم صدر پیٹرو پوروشنکو نے ولندیزی ماہرین کو ’اس اقدامِ دہشت گردی‘ کی تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔

ملائشیا ایئر لائنز کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق طیارے پر 173 ولندیزی، 27 آسٹریلوی، 44 ملیشیائی (جن میں 15 عملے کے ارکان بھی شامل ہیں)، 12 انڈونیشیائی اور نو برطانوی مسافر سوار تھے۔ دیگر مسافروں کا تعلق جرمنی، بیلجیئم، فلپائن اور کینیڈا سے تھے۔

ہلاک ہونے والے مسافروں میں مشہور ولندیزی محقق یوئپ لانگ بھی شامل ہیں جو آسٹریلیا میں ایڈز پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

ملائشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق نے اس واقعے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ روس کی ایمرجنسی سروس نے یوکرین کی حکومت سے حادثے کے مقام پر امدادی کارروائیاں کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق نے اس واقعے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا اعلان کیا ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ جہاز کی تباہی ایک ’خوفناک المیہ‘ ہے، اور امریکی حکام اس بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں کہ آیا اس جہاز میں کوئی امریکی بھی سوار تھا یا نہیں۔

امریکی صدر نے جہاز کے حادثے کے بارے میں روسی صدر ولادی میر پوتن سے بھی بات کی۔

امدادی کارکنوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حادثے کے مقام سے 100 لاشیں ملی ہیں۔ جہاز کا ملبہ 15 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس آٹھ مارچ کو ملائشیا کی پرواز ایم ایچ 370 کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئی تھی اس میں 239 افراد سوار تھے۔ اس طیارے کا آج تک سراغ نہیں مل سکا۔

اسی بارے میں