تامل ناڈو میں سنسکرت کا ہفتہ منانے کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تامل ناڈو کی چیف منسٹر جیا للیتا نے وزیراعظم نریندر مودی سے سنسکرت ہفتہ کے سرکیولر میں تبدیلی کا مطالبہ کر دیا

بھارت کی ریاست تامل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للیتا نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستوں کو سنسکرت کا ہفتہ منانے کی طرح اپنی اپنی مقامی زبانوں کے ہفتے بھی منانے کی ہدایت جاری کریں۔

بھارت کی مرکزی حکومت کی ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کی وزارت کی طرف سے تمام ریاستی حکومتوں کو حال ہی میں یہ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ 13 سے 17 اگست تک سنسکرت زبان کے فروغ کے لیے ہفتے منائیں۔

جے للیتا نے جواباً مرکزی سرکار سے کہا ہے کہ وہ ریاستوں کو جاری کی جانے والی اس ہدایت یں ترمیم کریں تاکہ تمام ریاستیں اپنی تہذیب اور زبان ے حوالے سے دن یا ہفتے منائیں جس سے ملک کے نسلی اور تہذینی تنوع کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

جے للیتا نے وزیر اعظم کو خط میں کہا کہ: ’میں درخواست کرتی ہوں کہ آپ بھارت سرکار کے اعلی اہکاروں کو ہدایت کریں کہ وہ سنسکرت زبان کے فروغ کے بارے میں لکھے گئے خط میں مناسب ترمیم کریں تاکہ تمام ریاستیں اور ان میں قائم ثانوی تعلیم کے مرکزی بورڈ بھی اپنی مقامی ثقافت اور زبان کے لحاظ سے تقریبات کا اہتمام کرسکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ: ’یہ ہمارے ملک کے ثقافتی اور لسانی تنوع کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک احسن قدم ہوگا۔‘

ریاست کی حکومتوں کو مرکزی حکومت کی طرف سے یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ سنسکرت کے ترویج کے لیے ریاست، ضلع اور مقامی سطح پر بھی تقریبات منعقد کریں۔

تامل ناڈو کی سیاسی جماعتوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والی اس ہدایت کی مذمت کی ہے۔

تامل ناڈو کا ثقافتی اور تاریخی ورثہ قدیم تامل زبان کی بنیاد پر ہی قائم ہے۔

جے للیتا نے کہا ہے کہ تامل ناڈو میں سماجی انصاف اور زبان کی ایک مضبوط تحریک موجود رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنسکرت زبان کا ہفتہ منایا جانا تامل ناڈو میں انتہائی نامناسب اقدام ہو گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس سے کہیں زیادہ تو یہ مناسب ہوتا کہ اگر ہر ریاست کو اپنے لسانی ورثے کے اعتبار سے اپنی ریاست میں قدیم زبانوں کا ہفتے منانے کا کہا جاتا۔