مصر میں سرحدی چوکی پر حملہ، 20 فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس بات کا بھی امکان ہے کہ حملہ آور لیبیا سے مصر میں ہتھیار سمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے

مصر میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی مصر میں ایک سرحدی چوکی پر مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 20 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں نے قاہرہ سے 390 کلومیٹر مغرب میں واقعہ ایک صحرائی چوکی پر دستی بموں اور بھاری ہتھیاروں سے حملے کیا۔

ابھی تک اس حملے کی کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مصر میں ایک سال قبل سابق صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے مسلح گروہوں نے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

سکیورٹی حکام نے بتایا کہ یہ حملہ وادی الجادد کے صوبے میں فارافرا کو قاہرہ سے منسلک کرنے والی شاہراہ پر ہوا۔

ریاستی خبر رساں ادارے مینا کے مطابق اس حملے میں تین شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ علاقہ سوڈان اور لیبیا کا سرحدی علاقہ ہے۔ چند اطلاعات کے مطابق اس بات کا بھی امکان ہے کہ حملہ آور لیبیا سے مصر میں ہتھیار سمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

قاہرہ میں بی بی سی کی نامہ نگار سوزین کیانپور کا کہنا ہے کہ مصری فوج کو اسلامی باغیوں کی جانب سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ چوکی پر یہ حملہ باغیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

Image caption ریٹائرڈ فوجی جنرل السیسی نے گذشتہ سال جولائی میں پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کو ان کے خلاف احتجاج کے بعد معزول کر دیا تھا

یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی وزیرِ خارجہ جاری کیری مصر کے دورے پر گئے اور توقع کی جاری تھی کہ وہ دورے کے دوران مصری صدر پر سیاسی اصلاحات کرنے پر زور دیں گے اور کہیں گے کہ اخوان المسلمین کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے مصری قوم منقسم ہو رہی ہے۔

جان کیری کے ساتھ دورہ کرنے والے ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ السیسی سے بات کریں گے کہ اگرچہ وہ ملک کی سکیورٹی مشکلات سے آگاہ ہیں لیکن اخوان المسلمین کے ساتھ تعلقات’بہتر‘ کرنے کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیں گے۔

اس کے علاوہ ملک صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کریں گے۔

سابق فوجی سربراہ عبدالفتح السیسی نے مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں یکطرفہ کامیابی حاصل کرنے کے بعد رواں ماہ ہی ملک کے نئے صدر کے طور پر حلف اٹھا ہے۔

ریٹائرڈ فوجی جنرل السیسی نے گذشتہ سال جولائی میں پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کو ان کے خلاف احتجاج کے بعد معزول کر دیا تھا۔

اس کے بعد سے وہ معزول صدر مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین کے کارکنوں کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ مرسی کی پارٹی نے حالیہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

گذشتہ روز سنیچر کو ہی مصر کی ایک عدالت نے 2013 میں ایک تھانے پر حملے کے الزام میں اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع سمیت 183 کارکنوں کو دی جانے والی سزائے موت برقرار رکھی۔

جولائی 2013 میں سابق صدر مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد حکام نے اسلامی اور سکیولر کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جس کے دوران سینکڑوں کارکن ہلاک ہوئے اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا اور سزائیں سنائی گئیں۔

مرسی کے اسلام پسند حامی صدر کی حیثیت سے ان کی از سر نو بحالی کے لیے مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف سختی کے ساتھ کام لیا جا رہا ہے۔

گذشتہ دنوں مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور حکام نے اس جماعت کی سر عام حمایت کرنے والوں کو سزائیں دی ہیں۔

اسی بارے میں