’غزہ سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد دگنی ہوگئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب اسرائیلی فوج کے پیادہ دستے اور ٹینک، غزہ میں داخل ہوئے تو لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر پناہ گاہوں کا رُخ کیا

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں زمینی پیش قدمی کے بعد، پناہ گزین فلسطینیوں کی تعداد ایک دن میں تقریباً دُگنی ہو گئی ہے۔

اسرائیل کے غزہ پر حملوں کا سلسلہ آٹھ جولائی کو شروع ہوا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، فضائی حملوں کے بعد، جمعرات تک، کوئی بائیس ہزار فلسطیمیوں نے ادارے کی جانب سے قائم کیے گئے 34 کیمپوں میں پناہ حاصل کی تھی۔

تاہم جمعرات کی رات کو جب اسرائیلی فوج کے پیادہ دستے اور ٹینک، غزہ میں داخل ہوئے تو لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر پناہ گاہوں کا رُخ کیا۔گزشتہ شب تک فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً دُگنی ہو کر 40000 تک پہنچ گئی۔

اِس موقعے پر اقوامِ متحدہ نے پناہ گزینوں کے لیے چھ کروڑ ڈالر کی امدادی رقم کی اپیل کی ہے۔

اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک کم سے کم 290 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق ان حملوں میں غزہ میں 1370 گھر تباہ ہوئے اور 18000 لوگ بےگھر ہو گئے ہیں

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سنیچر کو خطے کے دورے پر جارہے ہیں جہاں وہ فریقین سے ملاقات کریں گے۔

اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کا اسرائیل اور غزہ کے تنازع پر ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔

اس سے پہلے جمعے کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے جنگجوؤں کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کا دائرہ ’بڑے پیمانے پر وسیع‘ کرنے کو تیار ہے۔

ادھر حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ پر حملے کی ’بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے آٹھ جولائی سے جاری کارروائی میں غزہ پر 1960 فضائی حملے کیے ہیں۔ جبکہ جواباً غزہ سے 1380 راکٹ داغے گئے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ان حملوں میں غزہ میں 1370 گھر تباہ ہوئے اور 18000 لوگ بےگھر ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں