امریکہ ایران کے منجمد اثاثے واپس کرنے پر’تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور ستمبر میں شروع ہو گا

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شامل سفارت کار ابتدائی معاہدے کی معیاد میں چار ماہ کی توسیع کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے بیس فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ایندھن میں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے تو وہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر واپس کر دے گا۔

ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جاری مذاکرات کا مقصد ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر قائل کرنا ہے جس کے عوض اس کے خلاف عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کو اٹھایا جا سکتا ہے۔

گو ایران بار ہا یہ بات کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن جوہری طاقتوں کو شک ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم کو افزودہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پوری کرنے اور طبی کے شعبے میں تحقیق کے لیے کر رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز کے مطابق ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان مذاکرات اب ستمبر میں شروع ہوں گے اور کسی معاہدے پر پہنچنے کی آخری تاریخ چوبیس نومبر طے کی گئی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ چند اہم نکات پر فریقین کے موقف میں اختلاف پایا جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لیے وقت اور مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں موجود بی بی سی فارسی کے نامہ نگار امر پیوار کے مطابق گو کہ ابتدائی معاہدے میں توسیع کر دی گئی ہے لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ فریقین کس حتمی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بیک وقت ایک اچھی اور بری خبر ہے۔ اچھی اس لیے کہ ابتدائی معاہدہ برقرار ہے اور بری خبر یہ ہے کہ حتمی معاہدے کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے اور اختلافات ابھی تک موجود ہیں۔

امریکی کانگرس کے چند اراکان کا خیال ہے کہ ایران وقت حاصل کر رہا ہے تاکہ اس کی معیشت سنبھل سکے جو کہ عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔

ایران میں سخت گیر عناصر نے اس معاہدے کی پرزور انداز میں تنقید شروع کر دی ہے اور ان کے خیال میں اس معاہدے کے بعد ایران اور امریکہ قریب آ جائیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ معاہدے کی مدت میں چار ماہ کی توسیع کے دوران امریکہ ایران پر لگائی گئی پابندیوں پر سختی سے عملدرآمد کرتا رہے گا۔

تاہم امریکہ اس شرط پر کہ ایران اپنے بیس فیصدہ افزودہ یورنینم کے ذخائر کو ایندھن میں تبدیل کرتا رہے گا ایران کے منجمد شدہ اثاثوں میں سے دو ارب اسی کروڑ ڈالر واپس کرنے پر تیار ہے۔

تابکار مادے یورینیم کی بیس فیصد تک افزودگی کو درمیان درجے کی افزودگی خیال کیا جاتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے بیس فیصد اافزودگی کی صلاحیت حاصل کا مطلب ہے کہ اسے آسانی سے اس درجے پر لیے جاتا جا سکتا ہے جس کی جوہری ہتھیاروں میں ضرورت ہوتی ہے یا اس کو نوے فیصد تک افزودہ یا کثافتوں سے پاک کیا جا سکتا ہے۔

ویانا میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے نمائندے ایران سے بات چیت میں شامل ہوتےہیں۔

پی فائیو پلس ون کھلانے والے اس گروپ اور ایران کے درمیان گذشتہ سال ایک ابتدائی معاہدے پر پر دستخط ہوئے تھے۔

معاہدہ ہو جانے کی صورت میں ایران کے خلاف پابندیاں اور خاص طور پر تیل کی تجارت پر پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔