حملے کی مذمت نہ کرنے پر سعودی اماموں کے خلاف تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک سعودی اخبار نے خبر دی ہے کہ ملک بھر میں 100 سے زائد پیش اماموں نے وزارتِ اسلامی امور کی طرف سے شارورہ میں ہونے والے حملے کی مذمت کرنے کی ہدایت کو نظر انداز کیا

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں17 پیش اماموں کو سعودی سرحد پر ہونے والے شدت پسند حملے کی جمعے کےخطبوں میں مذمت کرنے کے سرکاری احکامات کو نظر انداز کرنے کے الزامات کے تحت تحقیقات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ چار جولائی کو شارورہ میں سعودی سرحدی چک پوسٹ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

سعودی عرب کی اسلامی امور و مذہبی رہنمائی کی وزارت نے ملک کی مساجد کے تمام پیشِ اماموں کو کہا تھا کہ وہ اپنے جمعے کے خطبوں کے دوران شدت پسندکے حملے پر بات کرتے ہوئے اس کی مذمت کریں۔

یہ حکم ملک بھر میں ’دہشت گردی اور شدت پسندی‘ کے خلاف لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کا حصہ تھا۔ تاہم مقامی عربی اخبار الوطن نے وزارتِ اسلامی امور کے ایک اعلیٰ اہلکار توافق الصدری کے حوالے سے بتایا کہ ریاض کی 17 مساجد کے پیش اماموں نے وزارتِ اسلامی کی طرف سے جاری ہدایت پر عمل نہ کرتے ہوئے القاعدہ کی طرف سے کیےگئے حملے کی مذمت نہیں کی۔

الصدری نے کہا کہ ’مذمت نہ کرنے والے اماموں کی تعداد بہت کم ہے اور بہت سے اماموں نے کھل کر اس حملے کی مذمت کی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حملے کی مذمت کرنے کی ہدایت پر مذہبی لوگوں کا ردِ عمل مثبت تھا اور انھوں نے اس حملے کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے دہشت گردوں کے اصل عزائم کو بے نقاب کیا۔‘

دریں اثنا ایک سعودی اخبار نے خبر دی ہے کہ ملک بھر میں 100 سے زائد پیش اماموں نے وزارتِ اسلامی امور کی طرف سے شارورہ میں ہونے والے حملے کی مذمت کرنے کی ہدایت کو نظر انداز کیا۔

وزارتِ اسلامی امور وہ مذہبی رہنمائی کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو وہ ان اماموں کو سزائیں دے گی۔

سعودی بادشاہت کے جنوبی صوبے شارورہ میں دو ہفتے پہلے القاعدہ کے شدت پسندوں نے یمن کے ساتھ سعودی عرب کی وادا سرحدی چوکی پر حملہ کیا تھا۔

حملے میں شدت پسندوں نے سعودی کمانڈر کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے جوابی کاررائی میں حملہ آوروں میں سے تین کو ہلاک جبکہ دو کو گرفتار کر لیا تھا۔

اس حملے سے پہلے اس سرحد پر واقع یمن کی چوکی پر شدت پسندوں نے کار بم حملہ کیا تھا جس میں ایک یمنی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔ سعودی پوسٹ پر حملہ کرکے القاعدہ کے مشتبہ شدت پسند یمن کی طرف سے سعودی عرب میں داخل ہونا چاہتے تھے جن کا مقصد شاید سعودی عرب میں مزید حملے کرنا تھے۔

سعودی سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کے زیرِ استعمال گاڑی سے راکٹ سے داغے جانے والے گرینیڈ اور سٹین گنیں برآمد کی تھیں۔

اسی بارے میں