چین: بیوی سے دھوکہ تو پارٹی سے چُھٹی

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption کمیونسٹ پارٹی ارکان کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی سب سے سیاسی جماعت ہے

آپ اپنی بیوی سے دھوکہ تو نہیں کر رہے؟

اگر آپ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے رکن ہیں تواپنی بیگم کی پیٹھ پیچھے کوئی حرکت کرنے سے پہلے ذرا سوچ لیجیے کیونکہ پکڑے گئے تو پارٹی سے چھٹی ہو سکتی ہے۔

ہم یہ تو بہت مرتبہ سن چکے ہیں کہ چین کے صدر شی جن پنگ بدعنوانی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں اور حکومتی محکموں سے بدعنوانی کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قلع قمع کرنا چاہتے ہیں، لیکن برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی کے اندر اس مہم کے بارے میں ہم نے ابھی تک زیادہ نہیں سنا تھا جس کا مقصد ’اخلاقی بدعنوانی‘ کو ختم کرنا ہے۔

چین میں اگرچہ اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری خاتون سے جنسی تعلقات پر لوگ باتیں تو کرتے ہیں لیکن کسی عام شہری کے ’ناجائز جنسی تعلقات‘ ہونا قانونی طور پر جرم نہیں ہے، لیکن چین کے انگریزی روزنامے ’چائنا ڈیلی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اب کمیونسٹ پارٹی کے ارکان پر پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔

اخبار کہتا ہے کہ گذشتہ ماہ کمیونسٹ پارٹی کے اپنے واچ ڈاگ نے پارٹی ارکان کو خبردار کیا تھا کہ ان پر لازم ہے کہ وہ عام لوگوں کی نسبت ’اعلیٰ اخلاقی اقدار‘ کا پاس رکھیں۔

رپورٹ کے مطابق جون سے اب تک پارٹی کے چھ ارکان کو ’بدکاری‘ کا مرتکب پایا گیا ہے، تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اِن ارکان کو کیا سزا دی گئی۔

تو کیا کمیونسٹ پارٹی نے واقعی ارکان کی اخلاقیات دُرست کرنے کا تہیہ کر لیا ہے اور اب وہ اپنی اہلیہ کے علاوہ کسی دوسری خاتون کے ساتھ تعلقات نہیں قائم کر سکیں گے؟

اخبار کے مطابق جب آخری مرتبہ چینی حکام نے پارٹی ارکان پر اس قسم کی پابندی لگائی تھی تو انھوں نے ’اخلاقی بدعنوانی‘ کی تعریف یہ کی تھی کہ اگر آپ کی ’محبوباؤں کی تعداد تین سے زیادہ‘ ہے تو آپ اخلاقی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب چینی عوام کی نظروں میں کسی سرکاری اہلکار کے بدعنوان ہونے کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے کہ اس کی کوئی محبوبہ بھی ہو کیونکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی سرکاری اہلکار اُس وقت تک اپنی محبوبہ کو کار یا گھر لے کر نہیں دے سکتا جب تک کہ وہ سرکاری پیسے میں خرد برد نہ کرے۔

سنہ2007 کی سرکاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بدعنوانی کے الزام میں برطرف کیے جانے والے سرکاری اہلکاروں کی ایک بہت بڑی تعداد (90 فیصد) ایسی تھی جن کے اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری خاتون سے تعلقات تھے، اور زیادہ تر ارکان ایسے تھے جن کی محبوباؤں کی تعداد ایک سے زیادہ تھی۔

چین میں اکثریت کا خیال ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کا یہ کہنا کہ وہ واقعی ارکان کی اخلاقی حالت کو درست کرنا چاہتی ہے، پروپگینڈے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جب کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار بوزیلیا پر پہلی مرتبہ بدعنوانی کا الزام لگایا گیا تھا تو اُس وقت بھی سرکاری وکلا نے یہ بات برسبیل تذکرہ ہی کی تھی کہ مسٹر بوزیلیا کے ’کئی خواتین کے ساتھ نامناسب جنسی تعلقات‘ بھی تھے۔

ہو سکتا ہے کہ مسٹر بوزیلیا کے بارے میں یہ الزام درست بھی ہو، لیکن الزامات کی فہرست میں ان کے جنسی تعلقات کا ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی عوام کی نظروں میں ان کے نام پر سیاہی مل دی جائے۔ یقیناً کمیونسٹ پارٹی کا خیال یہی ہوگا کہ عوام اس سارے معاملے کو مخص ایک شخص کی اخلاقی گراوٹ سے تعبیر کریں گے اور ان کی نظر پارٹی کے اندر ہونے والی دیگر بدعنوانیوں پر نہیں پڑے گی۔

اسی بارے میں