’ایران اپنے تمام وعدے پورے کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گو ایران بار ہا یہ بات کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن جوہری طاقتوں کو شک ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں کر رہا ہے

اقوام متحدہ کے جوہری اُمور کے نگران ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تعمیر کی سطح تک افزودہ اپنے تمام یورینئم کے ذخائر کو ختم کر کے انھیں کم خطرناک سطح پر لے آیا ہے۔

یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے کا حصہ تھا۔ آئی اے ای اے کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے تمام وعدوں پر عمل کر رہا ہے۔

جمعے کے روز ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شامل سفارت کار ابتدائی معاہدے کی معیاد میں چار ماہ کی توسیع کرنے پر متفق ہو گئے تھے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے بیس فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ایندھن میں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے تو وہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر واپس کر دے گا۔

ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جاری مذاکرات کا مقصد ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر قائل کرنا ہے جس کے عوض اس کے خلاف عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کو اٹھایا جا سکتا ہے۔

گو ایران بار ہا یہ بات کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن جوہری طاقتوں کو شک ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم کو افزودہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پوری کرنے اور طبی کے شعبے میں تحقیق کے لیے کر رہا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے اپنے تمام یورینئم کے ذخائر کو 20 فیصد سے افزودگی سے کم کرنا ایک خوش آئین بات ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سفارتی عمل کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔

گذشتہ سال طے پانے والے اس مچاہدے کے ابتدائی مراحل میں ایران کے پاس 200 کلوگرام 20 فیصد افزودہ یورینئم تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح پر 200 کلو گرام ایک جوہری وار ہیڈ یعنی جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔

اسی بارے میں