کم عمری کی شادی جہاں لڑکی کی کوئی مرضی نہیں ہوتی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک اندازے کے مطابق ہر سال ایک کروڑ 14 لاکھ لڑکیوں کو ان کی 18ویں سالگرہ سے قبل ہی زبردستی بیاہ دیا جاتا ہے

تین ماہ قبل 17 سالہ ایگنیس کی شادی ایک ایسے شخص سے کر دی گئی جس سے وہ پہلے کبھی نہیں ملی تھی۔

’میرے والدین نے مجھے بٹھایا اور کہا کہ میں اب ان کی ذمہ داری نہیں رہی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں جاؤں اور اپنی الگ زندگی شروع کروں۔‘

وہ زیمبیا کے دارالحکومت لوساکا سے دو گھنٹوں کی مسافت پر موجود ایک گاؤں چیبومبو میں بیٹھی ماضی کے واقعات یاد کر رہی تھیں۔

بولتے بولتے ان کے آنسو بہنے لگے: ’چیزیں میری توقع سے زیادہ تیزی سے بدلنے لگیں۔ جب ایک اجنبی نے میرے والدین کو شادی کے لیے رقم دے دی تو اس معاملے میں میری مرضی ختم ہو گئی۔

’میں نے یہ زندگی پسند نہیں کی اور میں یہاں خوش نہیں ہوں۔‘

ایگنس نے اپنی پہچان ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمیں اپنی کہانی سنائی۔ بی بی سی ساتھ گفتگو ان کے شوہر کی غیر موجودگی میں ممکن ہوئی۔

رنگوں بھرے لباس میں وہ بہت الجھی ہوئی اور دکھی نظر آ رہی تھیں۔

جب ہم ان سے ملے تو وہ اپنے روز مرہ کے کام کر رہی تھیں۔ برتن دھونا، صفائی ستھرائی اور کھانا پکانے کے لیے آگ جلانا وغیرہ۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ان کی روز مرہ کی زندگی کتنی تھکا دینے والی ہوگی۔ ان کی ایڑیاں پھٹی ہوئی تھیں۔

زیمبیا میں کم عمری کی جبری شادیاں عام ہیں لیکن یہ روایت صرف افریقہ ہی کا مسئلہ نہیں ہیں بلکہ ساری دنیا میں موجود ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال ایک کروڑ 40 لاکھ لڑکیوں کو ان کی 18ویں سالگرہ سے قبل ہی زبردستی بیاہ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا بچپن اچانک اور غیر متوقع طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

ایگنس اپنی اس نئی زندگی سے فرار چاہتی ہیں لیکن انھیں ڈر ہے کہ ان کے والدین انھیں ذلت کے باعث مسترد کر دیں گے اور انھیں گھر سے بھاگی ہوئی دلھن قرار دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غریب معاشروں میں کم عمری کی شادیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں

اس کی وجہ غربت اور روایات ہیں جو ان دیہی علاقوں میں عام ہیں۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے ان کے بقول یہاں والدین اپنی بیٹیوں کو آمدن کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

زیمبیا کے لیجا قبیلے کے سربراہ چموکا پنجم چاہتے ہیں کہ لڑکیاں سکول جائیں۔ انھوں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ایک درخت تلے جمع کیا۔ گاؤں والوں نے اپنے سردار کو آتے دیکھ کر ان کے نام کے نعرے لگائے۔ ان کے حکم کا احترام کیا جاتا ہے اور برادری کے لوگ ان کی کوئی بات نہیں ٹالتے۔

چیف چموکا اپنے روایتی لباس میں ہیں اور لوگوں کو کم عمری کی شادی کے نقصانات کے بارے میں بتاتے ہیں۔

’میں نے اپنی سربراہی کے دور میں موقف اپنایا ہے کہ والدین 18 برس سے کم عمر بچیوں کو شادی کے لیے مجبور نہیں کریں گے اور ایسا کرنے والوں کو کڑی سزا دی جائے گی۔‘

کم عمری کی شادیوں کی مذمت کرنے والے رہنماؤں کو وہ لوگ ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں جن کے خیال میں یہ نسل در نسل چلی آنے والے روایات اور اقدار کی خلاف ورزی ہے۔

جنھیں کم عمری میں جبری شادی کرنا پڑ جاتی ہیں ان کی ساری عمر اس سے متاثر ہوتی ہے۔ بیٹریس چکویکوی کی شادی 15 برس کی عمر میں ہوئی اور اب وہ 32 برس کی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’شادی والے دن میں پریشان اور خوفزدہ تھی۔ مجھے یہ بھی علم نہیں تھا کہ میں کیا کر رہی ہوں۔

’میں اسی برس حاملہ ہو گئی۔ زچگی کے وقت اس قدر پیچیدگیاں ہو گئیں کہ میں مرتے مرتے بچی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیف چموکا ان سرداروں میں سے ہیں جو لڑکیوں کی کم عمری کی شادیوں کے خلاف ہیں

چکویکوی ایک مقامی زرعی کالج میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں تاکہ ضائع ہو جانے والے وقت کا مداوا کر سکیں۔ لیکن کئی لڑکیوں کے لیے زندگی کا انجام اتنا خوش گوار نہیں ہوتا۔

لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیم ’گرلز ناٹ برائیڈز‘ یعنی ’دلھنیں نہیں لڑکیاں‘ کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی لڑکیوں اور ان کے خاندان کو ’غریبی کے چکر‘ میں پھنسا دیتی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ’کم عمری میں شادی کر دینے سے لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں جس کی وجہ سے انھیں ایسے معاشی مواقع نہیں ملتے جن کی مدد سے وہ خود کو اور اپنے خاندان کو غریبی سے نکال سکیں۔‘

نیلسن منڈیلا کی بیوہ گراکا مشیل اس تنظیم کے سرپرستوں میں سے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ روایات پتھر کی لکیر نہیں ہیں:

’روایات انسان کی بنائی ہوئی ہیں اور نقصان دہ روایات کو تبدیل ہونا چاہیے۔ والدین ہونے کے ناطے ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ ہم بچوں پر اپنی پسند مسلط کریں۔

’خاندانوں اور برادریوں کو لڑکیوں کو دیکھنے کا انداز بدلنا ہوگا۔ بچیوں کو مکمل انسان سمجھنا ہوگا جن کے خواب ہوتے ہیں، آرزوئیں ہوتی ہیں اور انھیں پانے کی قابلیت ہوتی ہے، بالکل لڑکوں کی طرح۔‘

ایک اندازے کے مطابق 14 برس کی عمر سے قبل حاملہ ہوجانے والی لڑکیوں کی دورانِ زچگی ہلاک ہونے کا خطرہ پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔

چیبومو میں امدادی تنظیم پلین انٹرنیشنل زیمبیا قبائلی رہنماؤں، حکومت اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر ایگنس جیسی لڑکیوں کو جبری شادی سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

تنظیم کی ترجمان لازارس مویل کا کہنا ہے کہ ’جہاں غربت ہے اور بچوں کا استحصال کیا جاتا ہے ہم برادریوں کو بچوں کے حقوق کے بارے میں آگہی دینے کے لیے کام کرتے ہیں۔‘

ایگنس نے لرزتی ہوئی آواز کے ساتھ اپنے مسائل کا اظہار کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کبھی کبھی اپنے والدین کو یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اسے بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہم انھیں اپنے زندگی کے بارے میں غلط فیصلے کرتے رہنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’میری خواہش تھی کہ میں تعلیم حاصل کرتی اور نرس بنتی، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ میرا شوہر مجھے تعلیم حاصل نہیں کرنے دے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک اندازے کے مطابق 14 برس کی عمر سے قبل ہی حاملہ ہوجانے والی لڑکیوں کی دورانِ زچگی ہلاکت کا خطرہ پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے

اسی بارے میں