مستقبل کے لڑاکا ڈرونز ٹیرانس اور نیورون

تصویر کے کاپی رائٹ BAE Systems
Image caption اس ڈرون کا نام کیلٹک صنمیات میں بجلی کے دیوتا ’ٹیرانس‘ پر رکھا گیا ہے

جنگی طیارہ بنانے والی کمپنی بی اے ای سسٹمز کا کہنا ہے کہ ’ٹیرانِس‘ برطانیہ میں بنایا جانا والا آج تک کا سب سے ترقی یافتہ جنگی طیارہ ہے۔

اس کا نام کیلٹک صنمیات (مائتھالوجی) میں بجلی کے دیوتا ’ٹیرانس‘ پر رکھا گیا ہے۔

شکل اور ڈیزائن کے لحاظ سے اسے اب تک کا سب سے مہیب اور خطرناک طیارہ کہا جا رہا ہے۔

ٹیرانس دراصل جنگی ڈرون ہے جو دشمن کے علاقے میں دور تک جانے اور مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے جدید ترین جنگی طیارے ٹائفون کو سنہ 2030 میں تبدیل کیا جانا ہے اور اس پروجیکٹ کی کامیابی برطانوی رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے گی کہ مستقبل میں وہ اپنے پاس کتنے ہواباز والے اور کتنے بلاہواباز طیارے رکھے گي۔

بی بی سی کے بزنس رپورٹر ٹم بولر کا کہنا ہے کہ ٹیرانس کی حتمی تفصیلات صیغۂ راز میں رکھی گئی ہے تاہم اس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ آراے ایف کے جٹ ٹرینر ’ہاک‘ کے سائز کا ہے جسے ریڈ ایروز کی نمائشی ٹیم نے استعمال کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BAE Systems
Image caption ٹیرانس ڈرون کی پرواز کی صلاحیت کا حال ہی میں ایک خفیہ مقام پر مظاہرہ کیا گیا

اسے اس طور پر بنایا گیا ہے کہ اس کو ریڈار سے دیکھنا بہت مشکل ہو گا۔ اس کے انجن کی گرمی اور ہوا کو باہر نکالنے کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے تاکہ یہ اپنے پیچھے کوئی سراغ نہ چھوڑے جس سے اس کا پتہ چل سکے اور اسے مار گرایا جا سکے۔

اس کی تحقیق اور تیاری کے بارے میں رولز رائس کے چیف انجینيئر کونریڈ بینک نے بتایا کہ ’ہمیں صرف یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اس طیارے کے اندر ہی گیس ٹربائن کو پوری طرح سے چھپا دیں۔‘

ٹیرانس کی تیاری کے اس پروجیکٹ میں بی اے ای کے ساتھ رولز روئس بھی شامل ہے۔

اس ہفتے انگلینڈ کے شہر فارنبرا میں ہونے والی طیاروں کی نمائش میں بی اے ای نے ایک خفیہ مقام پر ٹیرانس کی پرواز کا چوری چھپے مظاہرہ کیا۔

بی اے ای میں مستقبل کے جنگی نظام کے انجینیئرنگ ڈائرکٹر کرس گارسائڈ نے کہا: ’ٹیرانس پروجیکٹ اس بات کی شاندار مثال ہے کہ برطانوی حکومت اور صنعت کس طرح ایک ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Dassault Aviation
Image caption ٹیرانس کی ہی طرز پر فرانس نیورون جنگی طیارے پر کام کر رہا ہے

تاہم انھوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ یہ ڈرون کس قسم کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انھوں نے مختصراً کہا کہ ’یہ راز کی باتیں ہیں۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ٹیرانس یورپ کا واحد ڈرون نہیں ہے کیونکہ فرانس میں بھی اسی قسم کے طیارے ’نیورون‘ کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔

البتہ دونوں کی پوری صلاحیت نہیں دیکھی گئي بلکہ صرف ان کی پرواز کی نمائش کی گئی ہے جو مستقبل کی ٹیکنالوجی ثابت ہو سکتی ہے۔

فارنبرا میں فرانس اور برطانیہ نے مستقبل کے لڑاکا طیاروں کے نظام پر دو سال کی تحقیق کے لیے 12 کروڑ پاؤنڈ کا اعلان کیا ہے۔ اس تحقیق میں ٹیرانس اور نیورون سے حاصل ہونے والے نتائج شامل ہوں گے۔

اسی بارے میں