غزہ: تاریک ترین دن

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں مرنے والوں کی اکثریت عام شہری ہیں جن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں

بارہ دن، اور ہر دن ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور مرنے والوں کے زخم پہلے سے زیادہ ہولناک۔

ہر روز آسمان پر غزہ سے چھوڑے جانے والے راکٹوں کے سفید دھوئیں کی نہ ختم ہونے والی لکیریں اور بحیرۂ روم کے کنارے واقع اس بدنصیب خطۂ زمین پر اسرائیل کے فضائی حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔

اور پھر 12 دن کے بعد زمینی آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل کی فوجی کارروائی مزید سخت ہوگئی۔

اور اس کے بعد باری تھی شجائیہ کی۔

غزہ کے اِس گنجان آباد علاقے پر اسرائیلی گولہ باری کے ساتھ ہمیں صرف چھ برسوں میں غزہ میں بھڑکنے والی اس تیسری آگ کا تاریک ترین دن اور خوفناک ترین لڑائی دیکھنے کو ملی۔

غزہ میں مرنے والوں کی تعداد نہ صرف 500 سے تجاوز کرگئی ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی اکثریت عام شہری ہیں جن میں کئی بچے شامل ہیں۔

اسرائیلی اموات کی تعداد اس سے بہت کم رہی، لیکن ایک ایسے ملک میں کہ جہاں ہر شخص فوج میں خدمات سرانجام دیتا ہے، اس خبر نے لوگوں کو غمگین کر دیا کہ لڑائی میں ان کے 13 فوجی مارے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حماس کے مستعد کارکن سنسان گلیوں میں پوزیشن سنبھال کر اپنی چاروں جانب نظر رکھے ہوئے تھے

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ جب اس کے فوجیوں نے ’سرنگوں کے ایک طویل سلسلے‘ کو تباہ کرنے کے لیے غزہ میں پیش قدمی کی تو انھیں ’زبردست مزاحمت‘ کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل کا اندازہ ہے کہ اسرائیلی علاقوں پر پھینکے جانے والے راکٹوں میں سے دس فیصد شجائیہ اور اس کے نواح میں واقع سرنگوں اور دوسری تنصیبات کی وجہ سے ہی ممکن ہیں۔

شجائیہ میں ہم نے حماس کے مستعد کارکنوں کو دیکھا جو سنسان گلیوں میں پوزیشن سنبھال کر اپنی چاروں جانب نظر رکھتے ہوئے کبھی موبائل فون پر اور کبھی واکی ٹاکی پر پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے۔

ہمارے دوسرے صحافی ساتھی جو اسی دن غزہ پہنچے تھے، انھوں نے سیاہ لباس پہنے ہوئے بندوق برداروں کو بھی دیکھا جو شجائیہ میں ادھر ادھر گھوم رہے تھے اور اپنی بندوقوں کو لوگوں کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ جب دو گھنٹے کی عارضی جنگ بندی منٹوں میں ختم ہو گئی تو اس وقت بھی کچھ صحافی اور طبی عملے کے لوگ دو طرفہ فائرنگ میں پھنس گئے تھے۔

ہم کدھر جائیں؟

جوں جوں اسرائیل کی زمینی کاررائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، غزہ میں لڑائی میں بھی شدت آ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ چار دنوں میں پناہ کے طلبگار فلسطینیوں کی تعداد میں 400 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے

لڑائی کے اتنے دن گزرنے کے بعد لگتا یہی ہے کہ اسرائیل نے ’آپریشن پروٹیکٹِو ایج‘ کے نام سے جس فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا، وہ بھوتوں کے خلاف جنگ ثابت ہو رہی ہے۔ ہمیں جن جن علاقوں تک رسائی حاصل ہوئی، وہاں ہمیں حماس کی موجودگی کا نشان صرف فضا میں اڑتے ہوئے راکٹوں اور ٹی وی اور ریڈیو پر حماس رہنماؤں کے سرکش بیانات کی شکل میں ہی دکھائی دیا۔

اس دوران اسرائیل ہر روز یہی دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس نے زیر زمین سرنگوں کے راستے ہونے والے حماس کے ایک اور حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔

زمین کے اوپر ہمیں صرف خواتین اور بچے نظر آئے جو اسرائیلی سرحد کے قریب کی گلیوں سے نکل کر کسی محفوظ مقام کی طرف بھاگ رہے تھے۔

شجائیہ میں بھی ہم نے یہی دیکھا، بلکہ اس سے بھی بُرے حالات۔

رات بھر جاری رہنے والی اسرائیلی گولہ باری کے بعد جب ہم شجائیہ کے محلے میں پہنچے تو ہمیں توپوں کی نہ تھمنے والی گھن گرج میں سنسان گلیاں دکھائی دیں اور شجائیہ کے افق پر سیاہ و سفید دھواں۔

علاقے کے مکین ابھی تک اسی کوشش میں تھے کہ کسی بھی طرح گولہ باری سے بچتے بچاتے وہ اس علاقے سے نکل جائیں۔ کچھ گھروں سے لوگ ایک ایک کر کے اپنی خاک آلود کاروں میں بیٹھ رہے تھے کہ جیسے ہی موقع ملے وہ وہاں سے بھاگ نکلیں، جبکہ دوسرے لوگ قطار اندر قطار مخلتف سمتوں میں دوڑ رہے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے علاقے کے مکینوں کو بارہا خبردار کیا تھا کہ وہ یہاں سے نکل جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ جنگ کے13ویں دن زخمیوں کی سب سے بڑی تعداد غزہ کے مرکزی ’شفا ہسپتال‘ لائی گئی

بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم نتن یاہو نے کہا کہ ’ہم نے ان سے بار بار کہا کہ وہ یہاں سے نکل جائیں۔‘

اسرائیل کے اس الزام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حماس عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے، نتن یاہو نے کہا کہ ’ ہم نے انھیں فون کیے، ٹیکسٹ میسج بھیجے، لیکن حماس نے انھیں کہا کہ وہ وہاں سے نہ نکلیں۔‘

وارننگ؟ گلی کی نکڑ پر کھڑے سیاہ خمدار بالوں والے یونیورسٹی کے 20 سالہ طالبعلم انس نے کہا: ’وہ (اسرائیلی) ہمیں خبردار نہیں کرتے، وہ ہمیں جان سے مارتے ہیں۔‘

صحافی جب بھی غزہ والوں سے یہ سوال کرتے ہیں تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ ’ہم جائیں تو کہاں جائیں؟‘

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب غزہ کا 43 فیصد علاقہ ایسا ہے جہاں عام شہریوں کو جانے سے روک دیا گیا ہے یا جہاں اسرائیل کی اس وارننگ کا اطلاق ہوتا ہے کہ ’یہاں سے نکل جائیں۔‘

گذشتہ چار دنوں میں ان فلسطینیوں کی تعداد میں 400 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے جو اقوام متحدہ کے سکولوں میں قائم کیمپ میں پناہ لینے کے خواہش مند ہیں۔

اقوام متحدہ کو خوراک، ادویات اور دوسری اشیا کی کمی کا سامنا ہے، غزہ کے مردہ خانوں میں جگہ کم پڑتی جا رہی ہے اور ہسپتالوں کے وارڈ پوری طرح بھر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چند لمحوں کے لیے بچیاں اپنے باپ کو بھی کھو بیٹھی تھیں

حالیہ جنگ کے13ویں دن زخمیوں کی سب سے بڑی تعداد غزہ کے مرکزی ’شفا ہسپتال‘ لائی گئی تھی۔

جوں جوں دن گزرتا گیا، ہسپتال کے مرکزی دروازے کے پاس پڑے ہوئے لکڑی کے بنچ پر ایک کے بعد دوسرا گھرانا آ کر بیٹھ رہا تھا اور ایمرجنسی یونٹ کے آپریشن تھیئٹر سے اپنے پیاروں کی خبر کا انتظار کر رہا تھا۔

اس دوران تھوڑی تھوڑی دیر بعد آپ کو ایمبولنس کی چیختی آواز سنائی دے رہی تھی اور ہر آتی گاڑی میں سٹریچر پر مزید زخمی ہسپتال پہنچائے جا رہے تھے۔

سہ پہر کی پہلی گھڑیوں میں اس بنچ پر بیٹھنے کی باری غم سے نڈھال ان چار بچیوں کی تھی جو اپنی دادی کے ساتھ وہاں پہنچی تھیں اور ان کی دادی انھیں تسلی دینے میں ناکام نظر آ رہی تھیں۔

تھوڑی دیر بعد جب بچیوں کے والد نہاد وہاں پہنچے اور اپنی بیٹیوں سے بات کی تو ان کے پاس کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔ بچیوں کی 28 سالہ والدہ اِسرہ انتقال کر گئی تھی۔

اور پھر چند لمحوں کے لیے بچیاں اپنے باپ کو بھی کھو بیٹھی تھیں۔ نہاد اپنی بیوی کی موت کی خبر سناتے سناتے خود بے ہوش ہو کر فرش پر جا پڑے۔ ہسپتال کا عملہ انھیں بچانے دوڑ پڑا۔

جوں جوں دن گزر رہے ہیں، ہمیں وہی کچھ سنائی اور دکھائی دے رہا ہے جو غزہ میں ہر جنگ میں ہوتا ہے، یعنی جوں جوں صورت حال خراب ہوتی جاتی ہے، فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگتا ہے۔

اور جوں جوں جنگ بندی کے مطالبے کے حق میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوتی ہیں، دونوں اطراف کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ان کے پاس وقت کم رہ گیا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب فوجی کارروائیوں میں یکدم اضافہ ہو جاتا ہے اور اموات کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔

غزہ کی گذشتہ جنگوں کی نسبت اس مرتبہ دونوں فریقوں میں صلح کرانا زیادہ پیچیدہ ہے۔

سنہ 2012 میں مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت تھی اور حماس اس حکومت کی بات زیادہ سنتی تھی۔ لیکن اس مرتبہ دونوں فریقوں میں امن کرانے والوں میں سے کچھ قطر میں ہیں، کچھ استنبول میں اور کچھ قاہرہ میں۔ ان سب کو انتظار ہے کہ بات کرنے کا صحیح وقت کیا ہوگا کہ جب دونوں فریق ان کی بات سننے پر رضامند ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں اور امریکہ کا آدمی بھی ابھی ابھی یہاں پہنچ چکا ہے۔

13واں دن گزر گیا ہے اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ 14واں دن بھی ویسا ہی ہوگا یا کچھ بہتر۔ حالات مزید خراب ہونے کا دھڑکا ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی رہے گا۔

اسی بارے میں