ہیومن رائٹس کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام کے مطابق گذشتہ 15 روز سے جاری کشیدگی میں 649 فلسطینی اور 31 اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا ادارے ہیومن رائٹس کونسل غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملے کے دوران ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گا۔

کونسل کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں فلسطین کی طرف سے پیش کردہ ایک قرارداد کے حق میں 29 ووٹ آئے۔ امریکہ واحد ملک تھا جس نے قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ کچھ مغربی ملکوں نے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قبل ازیں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر نوی پیلے نے غزہ پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کی فوج ممکنہ طور پر جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوی پیلے نے کہا: ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسرائیل نے بین القوامی قوانین کی اس انداز میں خلاف ورزی کی ہو جو جنگی جرائم کے مترادف ہے۔‘

انھوں نے اسرائیل کے اس دعوے پر شبہ ظاہر کیا کہ اس نے عام شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکن اقدمات کیے۔

اس سلسلے میں نوی پیلے نے ایک واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس ’ہولناک‘ واقعے میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل نے غزہ میں سمندر کے کنارے کھیلتے ہوئے سات بچوں کو نشانہ بنایا۔

انھوں نے حماس اور دیگر فلسطینی گروپوں کی طرف سے اسرائیل کے شہری آبادی والے علاقوں میں بغیر کسی امتیاز کے راکٹ فائر کرنے کے اقدامات کی بھی مذمت کی۔

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار اموگن فوکس نے بتایا کہ نے اسرائیل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل پر جانبداری کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے اقوام متحدہ کی کسی بھی قسم کی تحقیقات سے تعاون کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

اجلاس میں اسرائیل کے نمائندے نے اس بحث کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بغیر سوچے سمجھے بغیر شروع کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دریں اثنا امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری بدھ کو اسرائیل پہنچے جہاں وہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کرانے کی کوشش کریں گے۔

جان کیری نے قاہرہ میں کہا تھا کہ مصر کے تجویز کردہ منصوبے سے جنگ بندی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ امریکہ کو فلسطینی ہلاکتوں پر تشویش ہے لیکن انھوں نے اسرائیل کی فوجی کارروائی کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ غزہ کے لیے چار کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی امداد بھیجے گا تاکہ انسانی بحران کی صورت حال کو بہتر بنایا جا سکے۔

اس سے پہلے فلسطینی وزیراعظم رامی حمداللہ نے کہا کہ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں غزہ کی پٹی کا ’اقتصادی محاصرے‘ کا اختتام شامل کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون کی خطے میں آمد کے موقعے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رامی حمداللہ نے کہا کہ ’وقت آگیا ہے کہ یہ محاصرہ ختم کیا جائے۔‘

انھوں نے محاصرے کے خاتمے کو جنگ بندی کے معاہدے سے مشروط کرنے کے حماس کے اقدام کی حمایت کی تھی۔

حکام کے مطابق گذشتہ 15 روز سے جاری کشیدگی میں 649 فلسطینی اور 31 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل نے 15 روز قبل غزہ سے راکٹ حملوں کے خاتمے کا ہدف مقرر کرتے ہوئے غزہ میں فوجی کارروائی شروع کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیکرٹری خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ مصر کی جانب سے تجویز کردہ ایک منصوبے سے جنگ بندی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے

منگل کی شب جنوبی غزہ میں ایک فضائی حملے میں پانچ فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے ساتھ بھی ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کی جس میں انھوں نے اسرائیل اور فلسطین دونوں سے کہا تھا وہ غزہ کے تنازعے کے خاتمے کے لیے لڑائی روک کر بات چیت چیت شروع کریں۔

سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ حملے کم کرے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’فوجی کارروائی اسرائیل کی سلامتی کا دور رس حل نہیں ہے۔‘

انھوں نے فلسطینیوں سے بھی ’عدم تشدد، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سابقہ معاہدوں کے احترام‘ کا مطالبہ کیا۔

بان کی مون کے بیان کا جواب دیتے ہوئے نتن یاہو نے کہا تھا: ’ہم حماس کی کون سی شکایت دور کر سکتے ہیں؟ ان کی شکایت تو ہماری موجودگی ہے۔‘

غزہ کی وزراتِ صحت کے مطابق اب تک جاری کشیدگی میں 3640 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں